دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے تمام 23 ملزمان – جن میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں – کو الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کے شواہد کی تائید کے لیے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ‘بی جے پی کے بنائے گئے نام نہاد شراب گھوٹالے پر عدالت نے سچائی سامنے رکھ دی۔ عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی سازش رچی تھی۔’ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے جمعہ (27 فروری) کو سی بی آئی کے ایکسائز پالیسی معاملے، جسے مبینہ شراب گھوٹالہ بھی کہا جاتا ہے، میں تمام 23 ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا بھی شامل ہیں، جو عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سرکردہ رہنما ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ اسپیشل جج جتیندر سنگھ نے سنایا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ایجنسی کےشواہد کی تائید میں ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا ہے۔
عدالت نے ایکسائز پالیسی سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے داخل چارج شیٹ پر نوٹس لینے سے بھی انکار کر دیا۔
واضح ہو کہ سال 2024 میں سپریم کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو پھٹکار لگائی تھی اور ان کی
جانچ کی ‘غیر جانبداری’ پر سوال اٹھائے تھے۔
اروند کیجریوال اور منیش سسودیا ان افراد میں شامل تھے، جنہیں اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کر رہی تھی، جس میں سابق عآپ حکومت کی اب رد کی جا چکی ایکسائز پالیسی کو بنانے اور اس کے نفاذ میں بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے۔
اس سے قبل جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے ایکسائز پالیسی کیس کی جانچ کے دوران مرکزی ایجنسی کے سمن کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق دو معاملوں میں ای ڈی کے درج مقدمات میں بھی اروند کیجریوال کو بری کر دیا تھا۔
رد عمل
عدالت کے فیصلے کے بعد دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا،’بی جے پی کے بنائے گئے نام نہاد شراب گھوٹالے پر عدالت نے سچائی سامنے رکھ دی۔ عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی سازش کی، لیکن آج عدالت نے واضح کر دیا کہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورعآپ کرپٹ نہیں ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایمانداری کمائی ہے۔’
انہوں نے مزید کہا،’میں وزیراعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اقتدار کے لیے ملک اور آئین سے کھلواڑ بند کیجیے۔ اچھا کام کیجیے اور اپنے کام کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کیجیے۔’
منیش سسودیا نے
ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر بابا صاحب امبیڈکر کی دور اندیشی اور ان کے بنائے ہوئے آئین پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا،’مودی جی کی پوری پارٹی اور تمام ایجنسیوں کی ہمیں بے ایمان ثابت کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود آج ثابت ہو گیا کہ اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کٹر ایماندار ہیں۔’
وہیں عام آدمی پارٹی نے اپنے ایکس ہینڈل سے ایک پوسٹ میں
کہا،’آج عدالت نے اروند کیجریوال جی اور منیش سسودیا جی کو فرضی شراب گھوٹالے میں بے قصور قرار دے کر بی جے پی کے جھوٹ پر ہمیشہ کے لیے تالا لگا دیا ہے۔ اس لڑائی میں ہمارا ساتھ دینے والے کروڑوں ہم وطنوں کا دل سے شکریہ۔ ہم ملک کے لیے پوری ایمانداری سے لڑتے آئے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔’
واضح ہو کہ کیجریوال کو لوک سبھا انتخابات سے قبل 21 مارچ 2024 کو ای ڈی نے
گرفتار کیا تھا، کیونکہ وہ 9سمن کے باوجود اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔ ای ڈی نے پوچھ گچھ کے بعد انہیں اس بنیاد پر گرفتار کیا کہ وہ جانچ میں تعاون نہیں کر رہے تھے۔
اسی سال 12 جولائی کو انہیں ای ڈی معاملے میں اور 13 ستمبر کو سی بی آئی کیس میں سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔ انہوں نے 17 ستمبر کو دہلی کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے
استعفیٰ دے دیا تھا۔
اس سے قبل منیش سسودیا کو 26 فروری 2023 کو سی بی آئی اور 12 دن بعد ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 9 اگست 2024 کو انہیں
ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا، مستقبل قریب میں مقدمہ کے ختم ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔’
کیا ہے معاملہ؟
فروری 2023 میں دہلی کے اس وقت کےنائب وزیر اعلیٰ
منیش سسودیا کو سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا اور اس کے ایک ماہ بعد ای ڈی نے بھی انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ یہ کیس جولائی 2022 میں دہلی کے ایل جی وی کے سکسینہ کی شکایت کی پر درج کیا گیا تھا، جس میں ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔
سسودیا کے علاوہ دہلی کے سی ایم
اروند کیجریوال اورعآپ ایم پی سنجے سنگھ کو بھی ای ڈی کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی معاملے میں تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کی بیٹی کویتا کو ای ڈی نے 15 مارچ 2024 کو گرفتار کیا تھا۔
سی بی آئی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں سسودیا پر ‘لائسنس ہولڈرکو ٹینڈر کے بعد ناجائز طریقے سے فائدہ پہنچانے کے ارادے سے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر سال 2021-22 کی ایکسائز پالیسی سے متعلق سفارش کرنے اور فیصلہ لینے میں اہم کردار ادا ‘کرنے کا الزام لگایاگیا ہے۔
الزام ہے کہ شراب کاروباریوں کو لائسنس دینے کے لیے دہلی حکومت کی ایکسائز پالیسی کچھ ڈیلروں کے حق میں متاثر تھی اور بدلے میں انہوں نے اس کے مبینہ طور پر رشوت دی تھی۔
معلوم ہو کہ
نئی ایکسائز پالیسی 2021-22، 17 نومبر 2021 سے نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت شہر کو 32 زون میں تقسیم کر کے شہر میں 849 ٹھیکوں کے لیے بولی لگانے والےنجی اداروں کو ریٹیل لائسنس دیے گئے۔ کئی شراب کی دکانیں کھل نہیں پائیں۔ایسے متعدد ٹھیکوں کو میونسپل کارپوریشن نے سیل کر دیا تھا۔
اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس نے اس پالیسی کی پرزور مخالفت کی تھی اور اس کی جانچ کے لیے لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی ایجنسیوں سے شکایت کی تھی۔
الزام تھا کہ منیش سسودیا نے مبینہ طور پر کووڈ-19 مہاماری کے بہانے ٹینڈر لائسنس فیس میں شراب کاروباریوں کو 144.36 کروڑ روپے کی چھوٹ کی اجازت دی ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ عام آدمی پارٹی نے 2022 کے پنجاب انتخابات کے دوران اس پیسے کا استعمال کیا ہوگا۔