بشیر بدر: غزل کا یہ اجالا ہمارے ساتھ رہے گا …

بشیر بدر  کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔

بشیر بدر  کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: بشیر بدر ڈاٹ کام / اِلسٹریشن: پریپلب چکرورتی / دی وائر

دسمبر 1994 کی وہ شام آج بھی یادوں میں دھندلی روشنی کی طرح ٹھہری ہوئی ہے۔ بامبے سینٹرل ریلوے اسٹیشن پر دہلی جانے والی ٹرین کا انتظار تھا۔ پلیٹ فارم پر مسافروں کی تھکن، قلیوں کی آوازیں، چائے کی بھاپ، لوہے کے ٹرنکوں کی کھڑکھڑاہٹ اور ایک بڑے شہر سے بچھڑنے کی ہلکی سی اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے ہی کسی لمحے میں اسٹیشن کے ایک چھوٹے سے بک اسٹال پر بشیر بدر کی شاعری کی کتاب ہاتھ لگی۔ ورق کھلا اور ایک شعر جیسے بھیڑ کے شور سے الگ ہو کر دل میں اتر گیا؛

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس وقت یہ صرف ایک خوبصورت شعر لگا تھا۔ بعد میں سمجھ میں آیا کہ یہ سفر کا، بچھڑنے کا، عمر کا اور انسان کی بے بسی کا شعر ہے۔ ہم سب اپنی اپنی زندگی کے سفر میں کچھ روشنیاں ساتھ رکھنا چاہتے ہیں—کسی چہرے کی، کسی شہر کی، کسی زبان کی، کسی محبت کی۔ بشیر بدر کی شاعری بھی ایسی ہی روشنی تھی۔ اب جب 28 مئی کو بھوپال میں ان کے انتقال کی خبر آئی تو محسوس ہوا کہ صرف ایک شاعر نہیں گیا، ہمارے زمانے کی بول چال سے ایک نرم، تہذیبی لہجہ بھی اٹھ گیا۔

بشیر بدر محض مشاعروں کی تالیوں سے بننے والے شاعر نہیں تھے؛ اس کے پس پردہ سنجیدہ مطالعے، تدریس اور ادبی ریاضت کی ایک طویل زمین تھی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی۔ وہیں لکچرار رہے، پھر میرٹھ کالج سے وابستہ ہوئے اور بعد میں اسی کالج کے شعبہ اردو کے صدر بنے۔ تقریباً سترہ برس تک انہوں نے یہ ذمہ داری نبھائی۔ وہ فارسی، ہندی اور انگریزی پر بھی اچھی دسترس رکھتے تھے۔ اسی لیے ان کی شاعری میں صرف اردو کی روانی نہیں، ہندوستانی لسانی تہذیب کا وسیع لمس بھی ملتا ہے۔ انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور پدم شری سے نوازا گیا۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے انہیں چار مرتبہ اور بہار اردو اکادمی نے بھی اعزاز سے نوازا۔ لیکن ان کی اصل شناخت کسی انعام سے بڑی تھی۔ وہ ان شاعروں میں تھے جنہیں لوگ یاد سے پڑھتے ہیں، ڈائریوں میں لکھتے ہیں، محبت ناموں میں رکھتے ہیں اور دکھ کے وقت سہارے کی طرح دہراتے ہیں۔

ان کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔ ان کا مشہور زمانہ شعر ملاحظہ کیجیے کہ ؛

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

اس شعر کو پڑھتے ہوئے ان کی اپنی زندگی کا سانحہ بھی یاد آتا ہے۔ فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں ان کا گھر ہی نہیں، ان کی ذاتی لائبریری، ڈائریاں، غیر مطبوعہ غزلیں اور بہت سے اشعار بھی جل گئے۔ شاید اسی تجربے نے ’گھر‘کو ان کی شاعری میں اتنا دل گرفتہ بنا دیا۔

اسی اخلاقی بے چینی کی ایک اور صورت اس شعر میں دکھائی دیتی ہے جہاں وہ مذہبی صحیفوں اور انسانی خونریزی کے درمیان حائل خلیج کو بے نقاب کرتے ہیں؛

لہو اتنا سستا ہے انسان کا

لکھا ہے کہاں ویدوں، قرآن میں

یہ شعر کسی ایک مذہب سے نہیں، ہر اس مذہبیت سے سوال کرتا ہے جو انسان کی حفاظت کرنے کے بجائے انسان کے خون پر خاموش رہتی ہے۔ بشیر بدر نعرہ نہیں لگاتے تھے، شعر کہتے تھے؛ مگر کئی بار ان کے شعر میں نعرے سے زیادہ اخلاقی قوت پیدا ہو جاتی تھی۔

فن اور ہیئت کے اعتبار سے ان کی غزلیں سہل معلوم ہوتی ہیں، لیکن یہ سہولت ریاضت سے آتی ہے۔ وہ بھاری بھرکم الفاظ سے کرشمہ نہیں بناتے۔ ان کے الفاظ گھر آنگن کے ہیں—یاد، روشنی، شام، شہر، دیوار، ہاتھ، آنکھ، فاصلہ۔ مگر انہی لفظوں سے وہ ایک ایسی شعری فضا قائم کر دیتے ہیں جہاں قاری اپنی زندگی کا عکس دیکھتا ہے۔ بشیر بدر کا شعر اکثر محاورے کی طرح یاد رہ جاتا ہے، لیکن اس کے اندر شاعری کی نمی برقرار رہتی ہے۔

رومانوی روایت میں وہ محبت اور ہجر کے شاعر ہیں، مگر ان کی رومانویت سستی جذباتیت نہیں۔ وہ ٹوٹی ہوئی محبت کو بھی وقار عطا کرتے ہیں؛

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

اس شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں شکایت بھی ہے اور فہم بھی۔ محبت میں زخمی شخص عموماً فوراً فیصلہ سناتا ہے؛ بشیر بدر پہلے سبب تلاش کرتے ہیں۔ وہ انسان کو مجرم بنانے میں جلدی نہیں کرتے۔ ان کے یہاں محبت صرف پانے کی خواہش نہیں، دوسرے کی مجبوری کو سمجھنے کی تہذیب بھی ہے۔

ان کی محبت کی نگاہ میں حسن بھی ہے اور خود آگہی بھی۔ وہ کہتے ہیں؛

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے

چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے

اتنی ملتی ہے مری غزل سے صورت تری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

یہاں محبوب صرف ایک شخصی پیکر نہیں رہ جاتا؛ وہ شاعر کی زبان، تخیل اور حسن شناسی میں گھل جاتا ہے۔ محبوب کا چہرہ غزل کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور غزل محبوب کی صورت۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رومانوی جذبہ اور شعری ہنر ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔

جدید زندگی کی بے چینی کو بشیر بدر نے بہت پہلے پہچان لیا تھا۔ شہروں میں لوگ قریب آتے ہوئے بھی دور ہو رہے تھے، رشتوں میں بے تکلفی کی جگہ احتیاط آ رہی تھی۔ ان کا یہ شعر آج بھی شہری زندگی کی ستم ظریفی کو چیرتا ہے؛

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

اور اسی تجربے کی ایک دوسری اور زیادہ طنزیہ صورت وہ یوں متشکل کرتے ہیں؛

میں نے دو چار کتابیں تو پڑھی ہیں لیکن

شہر کے طور طریقے مجھے کم آتے ہیں

یہ محض معصومیت کا بیان نہیں، جدید تعلیم یافتہ انسان کی الجھن کا اعتراف بھی ہے۔ کتابیں پڑھ لینے سے شہر سمجھ میں نہیں آتا۔ شہر کا اپنا چلن ہے، اپنا فریب، اپنی دوری، اپنی چالاکی۔ بشیر بدر یہاں علم اور زندگی کے عملی شعور کے درمیان موجود فاصلے کو پکڑتے ہیں۔

اسی شہری تجربے کو وہ ایک اور جگہ رشتوں کی اخلاقی کمی کے طور پر دیکھتے ہیں؛

سو خلوص باتوں میں، سب کرم خیالوں میں

بس ذرا وفا کم ہے تیرے شہر والوں میں

یہ شعر آج کی عوامی زندگی پر بھی صادق آتا ہے۔ لفظوں میں اپنائیت ہے، خیالوں میں کرم ہے، مگر عمل میں وفا کم ہے۔ ہم ہمدردی کی زبان بولتے ہیں، مگر نبھانے کی طاقت کھوتے جاتے ہیں۔ بشیر بدر ایسے ہی مختصر فقروں میں زمانے کی نبض پکڑ لیتے ہیں۔

تاریخی تناظر میں دیکھیں تو وہ تقسیم کے بعد کے ہندوستان کی پیچیدہ تہذیبی صورتحال کے شاعر ہیں۔ اردو کا رشتہ اس ملک کی مشترکہ تہذیب سے رہا ہے، مگر سیاست نے اسے بار بار شک کی نگاہ سے دیکھا۔ بشیر بدر نے اردو کو کسی بند کمرے کی زبان نہیں رہنے دیا۔ وہ مشاعروں سے نکل کر ہندوستانی حافظے میں بہتی رہی۔ ان کے اشعار ہندو مسلم، شہر قصبہ، تعلیم یافتہ غیر تعلیم یافتہ، ادبی غیر ادبی—ان سب حدوں کو پار کرتے رہے۔

ہندی ادبی ماحول میں بشیر بدر جیسے شاعروں کی مقبولیت کا ایک دلچسپ تضاد رہا ہے۔ وہ کوی گوشٹھیوں، مشاعروں، ریڈیو پروگراموں اور بعد کے برسوں میں سوشل میڈیا تک میں بے حد پسند کیے گئے، کیونکہ ان کی شاعری سیدھے دل سے بات کرتی ہے۔ عام قاری اور سامع کو اس میں اپنی زبان، اپنا دکھ، اپنی محبت اور اپنی تنہائی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اردو ادب کے بعض سنجیدہ یا اشرافیہ پسند تنقیدی حلقوں نے اسی مقبولیت کو کئی بار شک کی نگاہ سے دیکھا۔ انہیں محسوس ہوا کہ جو شاعر اسٹیج پر تالیاں بٹورتا ہے، جس کی سطریں فوراً یاد ہو جاتی ہیں، وہ شاید کافی ’گہرا‘یا’پیچیدہ‘نہیں۔ یہ رویہ پوری طرح منصفانہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ بشیر بدر کی اصل طاقت یہی تھی کہ وہ مشکل احساسات کو آسان زبان میں کہہ دیتے تھے۔ ان کی شاعری علمی پیچیدگی کے بجائے تجربے کی سچائی پر بھروسہ کرتی ہے۔

ان کا یہ شعر آج بھی سماجی زندگی کی بڑی نصیحت کی طرح دہرایا جاتا ہے؛

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

یہ شعر ہمارے زمانے کے لیے ایک اخلاقی تجویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں نہ بھولا بھالا میل ملاپ ہے، نہ جدوجہد سے فرار۔ یہ کہتا ہے کہ اختلاف کرو، مگر انسانیت کی آخری لکیر مت مٹاؤ۔ آج جب عوامی زبان میں تلخی، توہین اور مستقل دشمنی بڑھ رہی ہے، بشیر بدر کا یہ شعر سیاست میں ادب، مکالمے اور مستقبل کی مفاہمت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ موجودہ قطب بند سیاسی فضا میں یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن ایسی دشمنی جو کل کے مکالمے کے سارے دروازے بند کر دے، بالآخر سماج ہی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

نفسیاتی سطح پر بشیر بدر یاد، خواہش اور زخم کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں یاد صرف گزرا ہوا وقت نہیں، اندر چھپا ہوا زخم ہے۔ کوئی چہرہ چلا گیا، مگر اس کی روشنی باقی ہے۔ کوئی رشتہ ٹوٹ گیا، مگر اس کا لمس دل میں رہ گیا۔ وہ جانتے تھے کہ انسان حال میں رہتا ہے، مگر اس کا دل ہمیشہ حال میں نہیں رہتا۔ وہ پرانے کمروں، چھوٹے ہوئے شہروں اور ادھورے مکالموں میں بھٹکتا رہتا ہے۔

بچپن اور وقت کی ناقابل واپسی فطرت پر ان کا یہ شعر بھی اسی جذباتی دائرے سے تعلق رکھتا ہے؛

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہواؤں میں

پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

یہاں پرندے بچے بھی ہیں، خواب بھی، اور انسان کی وہ آزاد روح بھی جسے معاشرہ بہت جلد نظم، خوف اور مصلحت میں باندھ دینا چاہتا ہے۔

ان کا ایک اور مشہور شعر محبت اور نفسیات کو ایک ساتھ کھولتا ہے؛

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

اتنا مت چاہو اسے، وہ بے وفا ہو جائے گا

انسان جسے بہت اونچا اٹھا دیتا ہے، اس سے انسان رہنے کا حق چھین لیتا ہے۔ محبت جب پرستش بن جاتی ہے تو رشتہ برابر نہیں رہتا۔ بشیر بدر محبت کو بلندی دیتے ہیں، مگر اندھی عقیدت نہیں بناتے۔

ان کی شاعری میں شہرت اور اس کی ناپائیداری کا شعور بھی گہرا ہے۔ وہ اسٹیج کے مقبول شاعر تھے، تالیوں کی چمک جانتے تھے، مگر اس چمک کی عارضی حقیقت سےبھی آشنا تھے؛

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

یہ شعر صرف دوسروں کو دی گئی تنبیہ نہیں لگتا، بلکہ ایک ایسے شاعر کی خود آگہی بھی ہے جو جانتا ہے کہ مقبولیت ادبی بقا کی ضمانت نہیں۔ شہرت کی شاخ اونچی ہو سکتی ہے، محفوظ نہیں۔

بعد کی زندگی میں بھوپال ان کا ٹھکانہ بنا۔ یہ شہر ان کی شاعری کی نرمی سے میل کھاتا تھا—تالابوں، تہذیب، اردو ادب اور دھیمی شاموں کا شہر۔ یہیں انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی۔ یہ بھی ایک طرح کا شعری اتفاق ہے کہ جس شاعر نے یاد، اجالے، گھر اور سفر کو اتنی بار لکھا، اس کی زندگی بھی ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک اجالے سے دوسرے اجالے، ایک زخم سے دوسری یاد تک پھیلی رہی۔

آج جب توجہ کی مدت مختصر ہو گئی ہے، رشتے تیزی سے بنتے اور ٹوٹتے ہیں، زبان میں شور بڑھ گیا ہے اور تنہائی زیادہ نجی بھی ہو گئی ہے اور زیادہ عوامی بھی، بشیر بدر پہلے سے زیادہ بامعنی محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی غزلیں مختصر ہیں، مگر انسان کے اندر دیر تک سفر کرتی ہیں۔ شاید اسی لیے ان کے اشعار سوشل میڈیا پر بھی زندہ ہیں۔ لیکن انہیں صرف اسٹیٹس یا کیپشن بنا کر پڑھنا کافی نہیں۔ ان اشعار کے پیچھے ایک پوری تہذیب ہے—بولنے کی تہذیب، دکھ سہنے کی تہذیب، محبت میں ضبط رکھنے کی تہذیب۔

بامبے سینٹرل کا وہ پلیٹ فارم اب یادوں میں بہت دھندلا ہو گیا ہے۔ مگر بشیر بدر کا وہ شعر آج بھی چمک رہا ہے کہ—’اجالے اپنی یادوں کے…’۔

اب ان کے جانے کے بعد انہی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے کہ؛

مسافر ہیں ہم بھی، مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

شاید یہی شاعر کی تقدیر ہے۔ وہ جسم سے رخصت ہوتا ہے، مگر زبان میں ٹھہر جاتا ہے۔ بشیر بدر اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی شاعری ان لوگوں کے ساتھ رہے گی جو گھر بناتے بناتے ٹوٹتے ہیں، جو محبت میں شکایت سے پہلے مجبوری کو سمجھنا چاہتے ہیں، جو دشمنی میں بھی کل کی دوستی کے لیے گنجائش رکھنا چاہتے ہیں، اور جو زندگی کی کسی اندھیری گلی میں شام ہونے سے پہلے یادوں کا تھوڑا سا اجالا اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔

آفتاب محمد پیشے سے وکیل ہیں۔