پیگاسس حملہ: سی جے آئی گگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے کے بعد نشانے پر تھیں متاثرہ خاتون

02:25 PM Jul 20, 2021 | اجے آشیرواد مہاپرشست | کبیر اگروال

دی وائر کو حاصل لیک ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سپریم کورٹ کی سابق ملازمہ اور ان کے اہل خانہ کے 11 نمبروں کو ایک نامعلوم  سرکاری  ایجنسی نے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے ہیکنگ کے ٹارگیٹ کے طورپر منتخب کیا تھا۔

سابق سی جے آئی رنجن گگوئی (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اپریل2019 میں ہندوستان  کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی پر جنسی ہراسانی کاالزام لگانے والی سپریم کورٹ کی ملازمہ سےمتعلق تین فون نمبر اسرائیل واقع  این ایس او گروپ کی کلائنٹ ایک نامعلوم ہندوستانی  ایجنسی کے ذریعے نگرانی کے مقصد سے ممکنہ ہیک کے لیے ہدف  کےطور پر منتخب کیےگئے تھے۔ دی وائر اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔

این ایس او گروپ کو پیگاسس اسپائی ویئر کے لیے جانا جاتا ہے،جس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسے صرف‘مصدقہ سرکاروں’کو بیچتا ہے۔ حالانکہ اس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اپنے اس متنازعہ پروڈکٹ کو اس نے کس سرکار کو بیچا ہے۔

اپنی پہچان نہ ظاہر کرنے کی شرط پرسپریم کورٹ کی سابق ملازمہ نے الزام لگایا تھا کہ سال 2018 میں سی جے آئی گگوئی نےان کوجنسی طور پر ہراساں  کیاتھا اور اس واقعہ کے کچھ ہفتوں بعد ہی انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ اپریل 2019 میں انہوں نے ایک حلف نامے میں اپنا بیان درج کرکےسپریم کورٹ  کے 22 ججوں کو بھیجا تھا۔

فرانس کی میڈیا نان پرافٹ فاربڈین اسٹوریز کے ذریعے لیک ہوئے فون نمبروں کی فہرست  کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کے کچھ ہی دنوں بعد انہیں ممکنہ  ہیکنگ کے نشانے کے طور پر چنا گیا تھا۔ ان لیک ریکارڈوں کے مطابق، جس ہفتے ان کے سی جے آئی پر لگائے گئے الزامات کی خبر آئی تھی، اسی ہفتے ان کے شوہر اور دو دیوروں سے جڑے آٹھ نمبروں کو بھی ٹارگیٹ کے طور پر چنا گیا۔

لیک ریکارڈس کی مانیں، تو فہرست میں شامل 11 فون نمبر خاتون اور ان کے اہل خانہ سےمتعلق تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تکنیکی لیب کے ساتھ فاربڈین اسٹوریزکے ذریعے 16انٹرنیشنل میڈیا اداروں کی ٹیم کی خصوصی تفتیش میں پایا گیا کہ ہندوستان  کے جن نمبروں کو ممکنہ ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا، ان میں یہ سب سے بڑا گروپ ہے۔

خاتون کا اس فہرست میں ہونا اور انہیں چنے جانے کا وقت یہ اشارے دیتے ہیں کہ وہ اس نامعلوم ہندوستانی ایجنسی کی دلچسپی کے دائرے میں اس لیے آئیں کہ انہوں نے اس وقت کےسی جے آئی پر عوامی  طور پرسنگین الزام لگائے تھے۔ ان کا چنا جانا اس پہلو کو بھی پختہ کرتا ہے،جس کی پیروی پرائیویسی کے حق کے لیے کام کرنے والے کارکن لمبے وقت سے کرتے آئے ہیں وہ یہ کہ سرولانس کے غیرقانونی اور ناجائز وسائل  کا استعمال  ان حالات میں لگاتار ہو رہا ہے، جہاں دوردور تک کسی طرح کی‘ایمرجنسی’یا ‘قومی سلامتی ’سے متعلق کوئی بہانہ بھی نہیں ہے۔

پیگاسس پروجیکٹ کے ممبروں کے ذریعےوزیراعظم دفتر(پی ایم او)اور آئی ٹی کی وزارت کو بھیجے گئے تفصیلی سوالوں کے جواب میں حکومت ہندکے پیگاسس سے تعلقات کے الزامات کو ‘بدنیتی پر مبنی دعویٰ’ بتایا گیا ہے اور کہا گیا کہ ‘کچھ خصوصی لوگوں پر سرکاری نگرانی کےالزامات کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔’

حالانکہ دی وائر خاتون سے جڑے کسی بھی فون کا فارنسک ٹیسٹ نہیں کروا سکا، لیکن ان سے جڑے 11 نمبروں کی ممکنہ ہیکنگ کی فہرست میں ہونا پرائیویسی،صنفی انصاف اورعدالتی کارروائی  کی ایمانداری پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

عدالت کے ججوں کوان کی شکایت بھیجنے کے بعد وہ تین سینئر ججوں کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی تھیں، جو ایک خفیہ عمل  تھا۔ اگر ان کے فون کامیابی کے ساتھ  ہیک ہو گئے تھےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نامعلوم  ایجنسی ان کے وکیلوں کے ساتھ ہونے والی ان کی باتیں بھی سن سکتی تھی۔

خاتون کےشوہراوردیور، جو ان کے مبینہ جنسی ہراسانی کے واقعہ کے وقت دہلی پولیس میں کام کرتے تھے، اور انہیں خاتون کو نوکری سے نکالے جانے کے بعد جنوری 2019 میں سسپنڈ کر دیا گیا تھا، جسے خاتون  نے ان کے خلاف بدلے کی کارروائی بتایا تھا۔ ان کےمطابق، اس انتقام میں انہیں ایک فرضی معاملے میں پھنساکر گرفتار کرنا بھی شامل تھا، جس میں انہیں آخرکار ‘شواہد کےفقدان ’میں چھوڑ دیا گیا۔

سی جے آئی نے اپنے خلاف لگے سبھی آالزامات کی تردید کی تھی۔ عدالت کےذریعے کی گئی ان ہاؤس جانچ جس کے کام کرنے کے طریقے کی شدید نکتہ چینی ہوئی تھی میں آخرکار گگوئی کو تین ججوں کے پینل کے ذریعے بری کر دیا گیا، جس کا کہنا تھا کہ خاتون  کے الزامات میں کوئی ‘حقیت کا عنصر’نہیں تھا۔

یہ ساراعمل  اب اس امکان سےغیرمؤثر معلوم ہوتا ہے کہ شایدسینئر عہدیداروں کی ہدایت  پر ان کے اور ان کے اہل خانہ  کے ٹیلی فون پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

دی وائر کی تفتیش  کے مطابق، عدالت کی سابق ملازمہ جن تین فون نمبروں کا استعمال کر رہی تھیں، ان میں سے دو پہلی بار ان کی شکایت درج ہونے کے کچھ دنوں بعد چنے گئے تھے، جبکہ تیسرا نمبر لگ بھگ ایک ہفتہ بعد چنا گیا۔ ان کے شوہر کے پانچ فون نمبروں میں سے چار پہلے حلف نامے کے عوامی ہونے کے کچھ دنوں بعد چنے گئے تھے، جبکہ آخری نمبر کچھ دنوں بعد چنا گیا تھا۔ اسی طرح اس کےشوہر کے دو بھائیوں کے فون نمبر بھی اسی مدت  کے آس پاس چنے گئے تھے۔

ٹیلی کام کے سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبھی11 فون نمبروں پر‘نظر رکھنے کی کوشش، جو پیگاسس جیسےاسپائی ویئر کے ساتھ ایک ممکنہ ہیک کو انجام دینے کی سمت میں ایک ضروری اور پہلا قدم تھا خاتون کےالزامات کےعوامی ہونے کے بعد پہلی بار نشانا بنائے جانے کے بعد کئی مہینوں تک جاری رہا۔

فارنسک تجزیہ  کیے بنا یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ خاتون، ان کے شوہریا دیوروں کے فون کے ساتھ اصل میں پیگاسس چھیڑ چھاڑ کامیاب ہوئی یا نہیں۔ دی وائر نے خاتون  اور ان کے اہل خانہ  سے رابطہ  کیا تھا، لیکن انہوں نے اس رپورٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

کیا تھا معاملہ

اپنے حلف نامے میں شکایت گزار نے دعویٰ کیا کہ جسٹس گگوئی نےمبینہ طور پر کچھ احسانات کے بدلے ان کے ساتھ جسمانی طور پر قربت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاتون  کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اس سے انکار کرنے کے کچھ ہی ہفتوں میں انہیں تین بار ٹرانسفر کیا گیا، سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور آخرکار انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

ان کے ایک دیور،جنہیں سی جے آئی کے صوابدیدی کوٹے سے کورٹ میں مقرر کیا گیا تھا، کو بھی بنا کسی وضاحت کے کام سے ہٹا دیا گیا۔

حالانکہ ان کا ٹراما یہیں ختم نہیں ہوا۔ اپنے حلف نامے میں خاتون  نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کےفوراً بعد دہلی میں کام کر رہےان کے شوہر اور شوہر کے ایک بھائی کومبینہ طور پر جھوٹے الزامات میں محکمہ جاتی  جانچ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں سسپنڈ کر دیا گیا۔

ان کے مطابق، لگ بھگ اسی وقت خاتون  کے خلاف رشوت خوری کا ایک مجرمانہ معاملہ ایک ایسےشخص کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس سے وہ کبھی نہیں ملی تھیں اور بعد میں اسی معاملے میں انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ حراست کے دوران انہیں پولیس اہلکاروں نے ہراساں کیا تھا، جو سی جے آئی کے دفتر سے ہٹائے جانے کے بعد سے ان کے پریوار پر بھی نظر رکھ رہے تھے۔

اس وقت سی جے آئی کےدفتر نے سبھی الزامات کی تردیدکی اور انہیں‘پوری طرح سے جھوٹا اورقابل مذمت’ بتاتے ہوئے خارج کر دیا تھا۔ 20 اپریل 2019 کو عدالت کی جلدبازی میں بلائی گئی خصوصی  بیٹھک، جس کی اصدارت خود جسٹس گگوئی نے کی تھی، میں سی جے آئی نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف لگے الزام ‘عدلیہ  کی آزادی ’پر حملہ اور ‘سی جے آئی کےدفتر کوغیرفعال بنانے’ کی ایک ‘بڑی سازش’ ہیں۔

خاتون  کے الزامات کی جانچ کے لیے عدالت کے تین سینئر ججوں کی ایک انٹرنل کمیٹی بنائی گئی تھی۔ 6 مئی 2019 کو اس کمیٹی  نے سی جے آئی کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ سابق ملازم کے ذریعے لگائے گئے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔

کمیٹی  کے اس فیصلے کے بعدخاتون نے پریس ریلیز جاری کرکے کہا تھا کہ وہ  بےحد مایوس  ہیں۔ملک کی ایک خاتون کے طور پر ان کے ساتھ شدید ناانصافی  ہوئی ہے، ساتھ ہی ملک  کی سب سے بڑی عدالت سے انصاف کی ان کی امیدیں پوری طرح ختم ہو گئی ہیں۔

جون 2019 میں خاتون  کےشوہراور دیور کو دہلی پولیس نے بحال کر دیا تھا۔ اس کے بعد جنوری 2020 میں ان خاتون ملازمہ کی بھی نوکری بحال کر دی گئی تھی۔شکایت گزار کو جنوری 2020 میں سپریم کورٹ میں واپس نوکری کی پیشکش بھی کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اپنی  ذہنی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا۔

جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد نومبر 2019 اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد جسٹس گگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا، جس کی شدید نکتہ چینی ہوئی تھی۔