سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
نئی دہلی:سنسد مارچ کے بعد پیش آئے واقعات میں مرکزی حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کی کوششیں تیز ہو ئی ہیں۔ اسی دوران حکومت نے دہلی کی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ اپوزیشن نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر پارلیامنٹ اور سڑک دونوں پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔
دریں اثنا،سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ ان کا وہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’میرا وہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ کیا وہاٹس ایپ یہ بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا اور یہ کارروائی کس کی ہدایت پر کی گئی؟‘
تاہم، وہاٹس ایپ کی جانب سے اس دعوے پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
منگل کی شام مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے گروگرام کے میدانتا اسپتال میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند گھنٹے قبل ہی جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کر رہے کانگریس رہنما راہل گاندھی سے بھی ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر کسی قسم کی نرمی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔
سرکار بولی: استعفیٰ کا مطالبہ سیاسی، پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار
انڈین ایکسپریس کے مطابق، حکومت کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ سیاسی ہے اور مرکزی حکومت اس معاملے میں جھکنےوالی نہیں ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ پیپر لیک سے متعلق خامیوں کو دور کر لیا گیا ہے اور نیٹ، سی یو ای ٹی اور جے ای ای مین کا داخلہ کا عمل معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس پورے معاملے پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے، لیکن استعفیٰ کا مطالبہ قبول نہیں کرے گی۔
وہیں، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کانگریس اور راہل گاندھی پر طلبہ کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیامنٹ کے اندر نیٹ سمیت تعلیم سے متعلق ہر سنجیدہ مسئلے پر بحث کے لیے تیار ہے اور طلبہ کو نعرے بازی نہیں بلکہ مسائل کا حل چاہیے۔
اپوزیشن کا احتجاج، راہل اور اکھلیش کو حراست میں
سوموارکو سنسد مارچ کے دوران پولیس کارروائی کے خلاف منگل کو کانگریس رہنما راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور اپوزیشن کے کئی دیگر رہنما وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے لیے پہنچے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، احتجاج کے دوران پولیس نے راہل گاندھی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا۔ چند گھنٹوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ کئی دیگر اراکین پارلیامنٹ اور رہنماؤں کو کنگز وے کیمپ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، جہاں سے بعد میں انہیں بھی چھوڑ دیا گیا۔
دریں اثنا، سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے بھی اکھلیش یادو کو حراست میں لیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت جمہوری احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی جے پی نے کہا-سنسد مارچ نہیں کریں گے، تحریک جاری رہے گی
سنسد مارچ کے دوران پولیس کارروائی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے فی الحال دوبارہ مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تنظیم کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اور نوجوانوں کو چوٹ پہنچے، اس لیے فی الحال مارچ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحریک ختم نہیں ہوئی ہے اور جنتر منتر پر احتجاج جاری رہے گا۔
سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو آنے والے وقت میں لاکھوں لوگ دہلی پہنچیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 20جولائی کا احتجاج محض ایک ’ٹریلر‘تھا۔
تنظیم کے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، سونم وانگچک کی رہائی اور نیٹ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے گھر والوں کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینا شامل ہے۔
دہلی میں سکیورٹی سخت
دی ہندو کے مطابق، مرکزی حکومت نے سی جے پی کی تحریک، مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور پارلیامنٹ اجلاس کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت داخلہ کی ہدایت پر مغربی بنگال سے سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں فضائی راستے سے دہلی بھیجی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق انہیں امن و امان برقرار رکھنے اور حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔
پولیس نے درج کیں کئی ایف آئی آر
دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران تشدد کے معاملات میں کارروائی تیز کر دی ہے۔
دی ہندو کے مطابق، پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف دنگا کرنے، سرکاری ملازمین پر حملہ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات کے تحت چار ایف آئی آر درج کی ہیں۔
جبکہ انڈین ایکسپریس کے مطابق، بدھ تک مجموعی طور پر 11ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ ان میں ایک معاملہ اس ویڈیو سے بھی متعلق ہے جس میں ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار کو بعض مظاہرین کی جانب سے گھیر کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کیااحتجاج کے دوران ہونے والا تشدد پہلے سے منصوبہ بند اور منظم تھا۔
بیرون ملک بھی اظہار یکجہتی
اسی دوران دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں’ہندوز فار ہیومن رائٹس‘تنظیم کے کارکنوں نے نیویارک اور سان ہوزے میں مظاہرے کر کے سونم وانگچک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
کارکن مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جمع ہوئے، وانگچک کے حق میں نعرے لگائے اور پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا۔
جنتر منتر پر مظاہرین کے لیے ملک بھر سے پہنچاکھانا
جنتر منتر پر احتجاج اب بھی جاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے سینکڑوں افراد نے آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایپس کے ذریعے مظاہرین کے لیے کھانا بھیجنا شروع کر دیا ہے۔
ڈیلیوری ایجنٹ بار بار جنتر منتر کی بیریکیڈنگ تک کھانا پہنچا رہے ہیں۔ پیزا، برگر، موموز سے لے کر تھالیوں تک، ملک بھر کے لوگوں نے اس ہدایت کے ساتھ آرڈر بھیجے کہ یہ کھانا وہاں موجود مظاہرین میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ منظر بھی اس تحریک کے لیے ملک بھر سے ملنے والی حمایت کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آیا۔