آخر کیسے ملے انتخابات سے متعلق بدعنوانی سے آزادی؟

05:18 PM Jun 26, 2019 | افتخار گیلانی

ہندوستان اور پاکستان میں انتخابات کے مواقع پر سیاستدان اکثر بدعنوانی سے پاک انتظامیہ کے لیے ڈنمارک کی مثالیں دیتے ہیں۔ مگر ہر پانچ سال بعد یہ دونوں ممالک ڈنمارک کی پیروی کرنے کے بجائے بدعنوانی کےدلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

ہندوستان اور پاکستان میں تقریباً ہر انتخاب میں بدعنوانی ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران تقریروں  اور اپنے منشوروں میں سیاسی پارٹیاں بد عنوانی سے پاک وصاف انتظامیہ فراہم کرنے کے وعدے کرتی ہیں۔ مگر اقتدار میں آکر جلد ہی ان کو احساس ہوتا ہے کہ دریا میں تیرتے ہوئے مگرمچھ سے بیر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ سیاستدانوں کو علم ہے کہ انتخابات کے دوران قوم پرست جذبات کو ابھارنا اور بدعنوانی سے چھٹکارا دینے کے نعرے سے  مڈل کلاس کو اچھی طرح سے رجھایا جا سکتا ہے۔ یہ اب ایک آزمودہ ہتھیار بن چکا ہے۔پاکستان میں عمران خان اور ہندوستان میں اس سے قبل نریندر مودی بھی بدعنوانی کو ختم کرنے اور کالے دھن کو ضبط کرنے جیسے وعدوں کو لےکر اقتدار کی مسند تک پہنچے۔ حال ہی میں اختتام پذیر انتخابات میں مودی نے دوبارہ یہ داؤ کھیل کر اقتدار میں واپسی کی۔ آخر انتخابات میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے وعدوں کے باوجود جنوبی ایشیا ء میں اس پر لگام کیوں نہیں لگائی جاتی ہے۔ اس کا واضح جواب پارلیامانی و صوبائی انتخابات میں پیسے کا بے دریغ استعمال ہے۔

ہندوستان میں سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل-مئی میں ہوئے پارلیامانی انتخابات میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تقریباً27ہزار کروڑ یعنی 270بلین روپے خرچ کئے۔ بی جے پی نے ان انتخابات میں 437امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک امیدوار پر پارٹی کو 62کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے۔ اب یہ امیدوار یا پارٹی لیڈران نے یہ رقم اپنی جیب خاص سے توخرچ نہیں کی ہوگی۔ اگلے پانچ سال تک یہ رقم کہیں نہ کہیں سے سود سمیت وصول ہوگی۔مجموعی طور پر ان انتخابات میں تقریباً60 ہزاریعنی 600بلین روپے خرچ ہوئے۔ سینٹر کے سربراہ بھاسکر راؤ کے مطابق اس رجحان کے مطابق 2024کے انتخابات میں ایک ٹریلین روپے خرچ ہونے کا اندیشہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک  بے انتہا انتخابی اخراجات پر لگام نہیں لگائی جاتی، بدعنوانی کو ختم کر نا ناممکن ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 543رکنی ایوان کی ایک سیٹ پر 100کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔یعنی ایک ووٹر پر 700روپے اوسطاً خرچ کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 12سے15ہزار کروڑ روپے براہ راست ووٹروں میں بانٹے گئے، جبکہ 20سے25ہزار کروڑ روپے پبلسٹی پر خرچ کئے گئے۔ حیرت کی بات ہے کہ فنڈنگ کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت نے عوام سے چندہ کی اپیل نہیں کی، بلکہ تمام اخراجات کارپوریٹ اداروں سے وصول کئے۔ اب اس صورت حال میں بدعنوانی یا کالے دھن پر روک لگے تو کیسے؟

ہندوستان اور پاکستان میں انتخابات کے مواقع پر سیاستدان اکثر بدعنوانی سے پاک انتظامیہ کے لیے ڈنمارک کی مثالیں دیتے ہیں۔ مگر ہر پانچ سال بعد یہ دونوں ممالک ڈنمارک کی پیروی کرنے کے بجائے بدعنوانی کےدلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔ہر سال ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ ملک بدعنوانی سے پاک ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر آتا ہے۔ چند سال قبل  جب میں ڈنمارک دورے پر تھا تو میرے ذہن میں بار بار یہی سوالات اٹھ رہے تھے کہ آخر ڈنمارک نے یہ امتیاز کس طرح حاصل کیا؟اس ملک نے بدعنوانیوں سے پاک رہنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟

ا س سلسلے میں  ڈنمارک کے سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں سے  اس وقت میری  بات چیت ہوئی تھی جس کی بنیاد پر میں نے –جنوبی ایشیا کے ممالک ڈنمارک سے کیا سیکھ سکتے ہیں ؟ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا،جسے یہاں موقع کی مناسبت سے نقل کر رہا ہوں؛

اس بات چیت میں انہوں  نے مجھے بتایا کہ سیاست دانوں کی اعتدال پسند طرز زندگی‘ لوک پال یعنی محتسب کی موجودگی اور کم خرچ انتخابات اس کی ایک اہم وجہ ہے۔  ڈنمارک پارلیامنٹ کے اس وقت کے اسپیکر موجینس لائکے  ٹافٹ  سے بھی میں نے سوال کیا تھا کہ ان کا ملک بد عنوانی سے کیسے پاک ہے؟ ان کا کہنا تھا انتخابی مہم چلانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو قومی خزانے سے رقم دی جاتی ہے۔ لائکے ٹافٹ نے بتایا کہ’اس کا طریقہ کاریہ ہے کہ سابقہ الیکشن میں جو پارٹی قومی او رعلاقائی سطح پر جتنا ووٹ حاصل کرتی ہے اسی کے حساب سے اسے پیسے دئے جاتے ہیں۔’میری پارٹی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (ایس ڈی پی) کو ہر ووٹر کے بدلے 10 کرون (100ہندوستانی روپے) کے حساب سے20  ملین ڈینش کرون ملے تھے’۔انہوں نے بتایا کہ 2011 کے الیکشن میں انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب پر20000 ڈالر خرچ کئے تھے لیکن انہیں اپنی جیب سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دینی پڑی۔کیوں کہ یہ پیسے یا تو پارٹی نے دئے تھے یا پھر سرکار ی فنڈ سے ملے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارا انتخابی مہم بھی بہت مختصر‘ یعنی تقریباََ تین ہفتے کا ہوتا ہے‘ جس کی وجہ سے بھی اخراجات کم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ  بدعنوانی میں ذرا سا بھی ملوث پائے جانے والوں کے خلاف صرف سرکاری کارروائی ہی نہیں ہوتی بلکہ انہیں عوامی سطح پر بھی سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جہاز رانی کے اس وقت کے وزیر  بڑی مصیبت میں پھنس گئے تھے جب   معلوم ہوا  کہ ڈنمارک کی ایک مشہورکارگو کمپنی کے ایک بڑے شپنگ پروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعدانہوں نے کمپنی کی طرف سے تحفتاََ پیش کی گئی قیمتی کلائی گھڑی قبول کرلی تھی۔ میڈیا نے اس معاملے پر ان کا ناطقہ بند کردیا جس کے بعد انہیں معذرت کرنی پڑی۔ایسے ہرمعاملے کو جس میں بدعنوانی کا کوئی شائبہ پیدا ہوتا ہو میڈیاپوری شدت سے اٹھاتا ہے۔میڈیا کی اسی سرگرمی کی وجہ سے کئی سیاست دانوں کو فٹ با ل میچ کے مفت میں موصول ہونے والے ٹکٹ واپس کرنے پڑ گئے تھے۔لائکے ٹافٹ نے بتایا کہ 250ڈینش کرون (تقریباََ2500روپے)کی مالیت سے زیادہ کا کوئی بھی تحفہ یہاں ٹیکس قانون کے تحت آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 80  کی دہائی میں ملک کی ایک وزیر خارجہ کو صرف اس لئے  اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑ گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں قیام کے دوران لندن کے سات ستارہ رٹز ہوٹل کا کمرہ بک کرالیا تھا جس کا کرایہ کوئی ایک ہزارڈالر تھا۔ حالانکہ وہ یہ رقم اپنی جیب سے ادا کرنے کے لئے تیار تھیں لیکن عوام نے ان کی اس پیش کش کوقبول کرنے سے انکار کردیاکیوں کہ ڈنمارک کے شہریوں کا خیال ہے کہ ان کا ملک کسی بھی سیاست داں کی ایسی فضول خرچی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، چاہے وہ اپنی جیب سے ہی کیوں نہ ادا کرے۔

مگریہ جوابات مجھے پوری طرح قائل نہیں کر سکے۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جن سے مجھے اس سوال کا تشفی بخش جواب مل گیا۔ دس دن کے دورے کا آخری ڈنر ڈینش انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس میں طے تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ایک سرکردہ رکن  ایک پاکستانی  نژاد پروفیسر بھی اس ڈنر میں شامل تھے جو کوپن ہیگن یونیورسٹی سے درس و تدریس کی ڈیوٹی سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ میں نے جب ان سے یہ سوال کیا تو کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ حتمی جواب شاید وہ بھی نہیں دے پائیں گے، مگر بتایا کہ وہ  اپنا ایک واقعہ گوش گزار کریں گے، شاید اس میں جواب مل جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ ڈنمارک وارد ہوئے اور انہیں یونیورسٹی میں نوکری ملی، تو تنخواہ ملنے کے دن وہ خاصے افسردہ اور ذہنی دباؤ کے شکار ہوجاتے تھے، کیونکہ ہر ماہ تنخواہ سے تقریباً25تا30فیصد ٹیکس کی مد میں کٹ جاتا تھا۔ محنت کی کمائی کے اس طرح ضائع ہونے کا قلق رہتا تھا۔ اسی دوران آفس میں ہی ایک دن وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوگئے۔ فوراً ایمبولینس بلائی گئی اور ایک صاف و ستھرے  اسپتال میں ان کو بھرتی کیا گیا۔  شفٹوں میں ہمہ وقت  نرسیں خدمت پر مامور تھیں۔ پانچ ستارہ ہوٹل کی طرح اسپتال میں ہر روز اخبار و تفریح کے لیے ٹی وی حاضر تھا۔ڈھائی ماہ اسپتال میں رہنے کے دوران صرف وویک اینڈ پر اہل خانہ عیادت کے لیے آکر پورا دن ساتھ گزارتے تھے۔ اسی دوران لاتعداد ٹسٹ، آپریشن اور اسٹنٹ وغیرہ ڈالے گئے۔ جب پروفیسر صاحب کام کرنے کے لائق ہوگئے تو ایک گاڑی میں بٹھا کر ان کو گھر چھوڑ ا گیا اور بس چند کاغذوں پر دستخط لئے گئے۔ ان کے بقول ایک بھی پیسہ ان سے وصول نہیں کیا گیا۔ جب کہ پاکستان میں کوئی بھی اسپتال چا ر یا پانچ لاکھ سے کم کا بل چارج نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ اہل خانہ کی پریشانی  اور ایک  ہمہ وقت تیمادار کی ضرورت الگ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن وہ سوچنے لگے، کہ ان کے بچے ایک سرکاری اسکول میں مفت میں زیر تعلیم ہیں۔ ریٹائرمنٹ اور ضعیف العمری میں وہ سوشل سکیورٹی کے حق دار ہوں گے، تو ٹیکس ادائیگی پر افسردہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ جب یہ معلوم ہے کہ اس کا مصرف  ان کی بہبودی پر ہی کیا جائےگا۔ ہیلے تھورنگ شمٹ ان دنوں ڈنمارک کی وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں۔اپنے دفتر پہونچنے سے قبل وہ اپنے دو نوں بچوں کو خود ہی اسکول پہنچاتی تھیں۔ان کے بچے بھی اسی عام سرکاری اسکول میں پڑھتے تھے جہاں دوسرے عام شہریوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے تھے۔اس ملک میں پبلک اسکولوں کا کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ ایک یونیورسل ایجوکیشن سسٹم  قائم ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب اس حد تک اسٹیٹ رعایا کا خیال رکھتی ہو،تو کوئی ٹیکس چوری یا بدعنوانی کرے تو کیوں کرے۔

ڈنمارک پارلیامنٹ کے اسپیکر لائکے ٹافٹ اس سے پہلے وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ کا عہدہ بھی سنبھال چکے تھے اور ملک کے سینئر ترین سیاستدان تھے۔ہندوستانی صحافیوں کے ایک تین رکنی وفد کے ممبرکی حثیت سے اور مقامی میزبانوں کے ہمراہ جب ہم ان کے کمرہ میں داخل ہوئے، تو ہمیں خوش آمدید کرتے ہوئے انہوں نے  ایک لمبی میز کے گر د بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ خود ایک ہوٹل کے بیرے کی طرح  ایک ایک کرکے مہمانوں کے پاس آکر ناشتہ پانی کے لیے پوچھنے لگے۔ کسی نے چائے، کسی نے کافی یا کولڈ ڈرنک پینے پر رضامندی ظاہر کی ۔یہ معمر سیاستدان ایک پیڈ پر یہ نوٹ کر رہا تھا۔ پھر کمرے کے ایک کونے میں جاکر چائے اور کافی بنائی، ریفریجریٹر سے کولڈ ڈرنک اور ایک الماری سے بسکٹ کے پیکٹ نکال کر ان کو ایک پلیٹ میں رکھ کر سب کو سرو کیا۔ اور یہ سب کام کرکرنے کے بعد کرسی پر بیٹھ کر ہم سے ہم کلام ہوئے۔ انہوں نے ماتحت عملہ کو آواز دی نہ ہی گھنٹی بجائی۔ حتیٰ کہ ا ن کے کمرہ میں انٹرنشپ کرنے والے چند طالب علم بھی موجود تھے ان کو بھی چائے اورکافی انہوں نے خو د ہی سرو کی۔ وہ بھی ہمارے ساتھ گفتگومیں شامل تھے اور نوٹس لینے کا کام انکو سپرد کیا گیا تھا۔معلوم ہوا کہ  معمر  اسپیکر صاحب  روزانہ دس کلومیٹر کی مسافت سائیکل کے ذریعہ طے کرکے اپنے دفتر پہونچتے ہیں۔

عوام کو سوشل اسکیورٹی فراہم کرانے کے علاوہ جس چیز نے ڈنمارک کو میری تحقیق کے مطابق بدعنوانی سے پاک رکھا ہے وہ سیاست دانوں کی سادہ زندگی ہے۔وہ سادگی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یہی سیاست داں بیورو کریسی‘ کارپویٹ اور ملک کے عوام کے لئے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ غالباََ یہی وہ بات ہے جس کی نصیحت موہن داس کرم چند یعنی مہاتما گاندھی نے 1937میں اس وقت کے کانگریسی وزراء اعلی کو کی تھی جب انہوں نے مختلف صوبوں میں عہدے سنبھالے تھے۔ گاندھی جی نے انہیں تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا تھا ”…. کانگریسیوں کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ سادگی ان کی ہی اجارہ داری ہے‘ جس کا مظاہرہ وہ 1920 سے کھادی کے کرتے اور دھوتی کی صورت میں کررہے ہیں۔میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں رام اور کرشن کو مثال کے طور پر اس لئے پیش نہیں کرسکتا کہ یہ ماقبل تاریخ نام ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ  مہارانا پرتاپ اور شیواجی انتہائی سادہ زندگی گذارتے تھے لیکن اس بات پر اختلاف ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے کیا طرز عمل اپنایا۔ البتہ پیغمبراسلام‘ حضرت ابوبکر اور عمر کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ پوری دنیا کی دولت ان کے قدموں میں تھی اس کے باوجود انہوں نے جس طرح کی جفاکشی اور سادہ زندگی گذاری اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔حضرت عمر نے اپنے گورنروں کو بھی موٹا کپڑا پہننے اور موٹا آٹا کھانے کی ہدایت دی تھی۔اگر کانگریسی وزراء بھی اسی سادگی اور کفایت شعاری کو برقرار رکھیں گے جس پر وہ1920  سے گامزن ہیں تو اس سے ہزاروں روپے بچیں گے‘ جس سے غریبوں کی امیدیں روشن ہوسکتی ہیں اور خدمات کے آہنگ میں تبدیلی آسکتی ہے۔ میں اس جانب اشارہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سادگی کا  مطلب پھٹے حالی ہر گز نہیں ہے۔سادگی میں ایک خوبصورتی اور کشش ہوتی ہے جسے اس خوبی کو اپنانے والے بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ پاک صاف اور باوقاررہنے کے لئے پیسے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ دکھاوا او رنمائش بالعموم فحاشی کے مترادف ہوتے ہیں۔“ایسا محسوس ہوتا ہے گاندھی جی کی ان نصیحتوں کو ڈنمارک کے سیاست دانوں نے حرف بہ حرف اپنا لیا ہے لیکن مہاتما گاندھی کے پیروکار ں نیز  آخری رسول کو ماننے والو نے ان تعلیمات کو بہت پہلے ہی بھلا دیا ہے‘ جس کا انجام آج عوام کو بدحالی اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں آزادی کے بعد فرسودہ اور ناقص انتخا بی نظام کے نتیجہ میں جمہوری لبادہ میں امرا (Oligarchy)کا جو طبقہ معرض وجود میں آیا، اس نے ملک کے وسائل اور دولت کو دونوں ہاتھوں لوٹا ہے۔

(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں اوران کا کالم بدھ کے روز شائع ہوتا ہے۔ پرانے کالمس پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔)