ہائیڈروکسی کلورو کوئن کی ہائی پاور خوراک سے میڈیکل پیشہ وروں میں کورونا انفیکشن کا کم خطرہ : آئی سی ایم آر

آئی سی ایم آر کے مطالعہ میں یہ بھی پایا گیا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور دواؤں کے مضر اثرات کے بیچ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔

آئی سی ایم آر کے مطالعہ میں یہ بھی پایا گیا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور دواؤں کے مضر اثرات کے بیچ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

(فوٹو: رائٹرس)

نئی دہلی: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)کے ایک مطالعہ میں پایا گیا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کا استعمال میڈیکل پیشہ وروں میں کو رونا وائرس کے انفیکشن کو کم کرتا ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، آئی سی ایم آر نے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق متاثر پائے گئے 1000میڈیکل پیشہ وروں کے مطالعہ میں یہ نتیجےپائے۔

آئی سی ایم آر کے مطالعہ میں یہ بھی پایا گیا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور دواؤں کے مضر اثرات کے بیچ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔میڈیکل ریسرچ میں آن لائن شائع معاملوں کو کنٹرول کرنے والے مطالعہ میں پائے گئے نتائج کے مطابق، مطالعہ میں شامل لوگوں کو چار سے پانچ متوازن  خوراک دینے پر ان میں ایس اے آر ایس -سی او وی -2 انفیکشن کے خطرے میں اہم  کمی دیکھی گئی۔

ریسرچ کرنے والوں  نے مطالعہ میں کہا کہ اس کے ساتھ ہی پی پی ای کٹ کا صحیح  استعمال بھی مفید ثابت ہوا ہے۔یہ مطالعہ میڈیکل جرنل د ی لینسیٹ میں چھپے اس مطالعہ کے بالکل الٹ ہے جس میں پایا گیا تھا کہ اس دوا کا کو رونا وائرس انفیکشن کے علاج میں کوئی فائدہ  نہیں ہے بلکہ یہ کو رونا مریضوں میں دل کی  بیماریوں کے ساتھ موت کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

آئی سی ایم آر نے کہا کہ لینسیٹ کا مطالعہ زیادہ انفیکشن سے متاثر لوگوں پر کیا گیا جبکہ آئی سی ایم آر نے اپنا دھیان انفیکشن کو روکنے پر لگایا ہے۔لینسیٹ کے مطالعہ کے بعد ہی ڈبلیو ایچ اونے کو رونا وائرس کی دوا ڈھونڈنے کے لیے دنیا بھر کے کو رونا مریضوں پر جاری ٹیسٹ  میں سے ہائیڈروکسی کلوروکوئن کو نکال دیا تھا۔

اس کے بعد پچھلے ہفتے آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیلتھ ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری  ڈاکٹربلرام بھارگو نے کہا تھا کہ ہندوستان میں کووڈ 19 کے علاج کے لیے ایزتھرومائسن کے ساتھ ایچ سی کیو کااستعمال  جاری رہےگا اور وہ  اس کاتجزیہ  کریں گے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)