بہار: شادی کے دو دن بعد کورونا انفیکشن سے دولہے کی موت، 100 سے زیادہ لوگ متاثر

معاملہ پٹنہ ضلع کے پالی گنج کا ہے۔محکمہ صحت کے افسران نے کہا کہ دولہے کی موت کے بعد کانٹیکٹ ٹریسنگ سے 350 سے زیادہ لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے جس میں سے 100 سے زیادہ لوگ متاثر پائے گئے ہیں۔

معاملہ پٹنہ ضلع کے پالی گنج کا ہے۔محکمہ صحت کے افسران  نے کہا کہ دولہے کی موت کے بعد کانٹیکٹ ٹریسنگ سے 350 سے زیادہ  لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے جس میں سے 100 سے زیادہ  لوگ متاثر پائے گئے ہیں۔

Screenshot-103-e1593520111226

نئی دہلی: بہار کی راجدھانی پٹنہ کے دیہی علاقے میں دوہفتے پہلے ہوئی ایک شادی کے دو دن بعد جہاں کورونا وائرس سے دولہے کی موت ہو گئی وہیں اب تک 100 سے زیادہ  لوگ متاثر پائے جا چکے ہیں۔خبررساں  ایجنسی پی ٹی آئی کےمطابق،محکمہ صحت کے افسران  نے منگل کو بتایا کہ شادی میں دولہے کو تیز بخار تھا اور دو دن بعد اس کی موت ہو گئی تھی۔

معاملہ پٹنہ ضلع کے پالی گنج سب ڈویژن کا ہے۔محکمہ صحت کے افسران نے کہا کہ دولہے کی موت کے بعد کانٹیکٹ ٹریسنگ کےتوسط سے 350 سےزیادہ  لوگوں کی کوروناجانچ کی جا چکی ہے، جس میں سے 100 سے زیادہ  لوگ متاثر پائے جا چکے ہیں۔افسران  نے کہا کہ رابطہ  میں آنے کی وجہ سے دولہے کے 15 رشتہ دارمتاثر ہوئے اورممکنہ طور پر اس کے بعد ان سے دوسرے لوگ متاثر ہو گئے۔

اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر افسران  نے کہا کہ دولہا گڑگاؤں میں سافٹ ویئر انجینئر تھے اور مئی کے آخری ہفتےمیں اپنی شادی کے لیے واپس گھر لوٹے تھے۔’تلک ‘کے کچھ دن بعد دولہے میں انفیکشن کےآثار دکھنے شروع ہو گئے تھے۔شادی کے دن 15 جون کو دولہے کو تیز بخار تھا اور وہ چاہتے تھے کہ شادی ٹال دی جائے۔ حالانکہ، اہل خانہ نے انہیں پیراسٹامول کی گولی کھلاکر شادی جاری رکھنے کے لیے زور ڈالا۔

گزشتہ 17 جون کو ان کی طبیعت تیزی سے خراب ہو گئی جس کے بعداہل خانہ انہیں پٹنہ کے ایمس لےکر جانے لگے لیکن راستے میں ہی ان کی موت ہو گئی۔اس کے بعد اہل خانہ نے جلدبازی میں انتظامیہ  کوجانکاری  دیے بناآخری رسومات کی ادائیگی  کر دی۔ حالانکہ، کسی نے ضلع مجسٹریٹ  کو فون کرکے پورےمعاملے کے بارے میں بتا دیا۔

افسران نے بتایا کہ 19 جون کو دولہے کے تمام قریبی رشتہ داروں، شادی میں شامل ہونے والے لوگوں کا کوروناٹیسٹ کرایا گیا۔ ان میں سے 15 لوگ متاثر پائے گئے۔اس کے بعد انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے شادی کی تقریب  والے گاؤں میں 24 سے 26 جون تک ایک خصوصی کیمپ لگایا گیا جس میں 364 لوگوں کے نمونے اکٹھا کئے گئے۔ ان میں سے 86 متاثرپائے گئے۔

زیادہ تر متاثرہ لوگوں میں کورونا کے کوئی آثارنہیں تھے اور انہیں بہٹہ اور پھلواری شریف کے آئسولیشن سینٹر میں بھرتی کروایا گیا۔بی ڈی او چرن جیو پانڈے نے کہا کہ میٹھا کنواں، کھاگری محلہ اور پالی گنج بازار کے کچھ حصوں کو سینٹائزیشن کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔بتا دیں کہ بہار میں پٹنہ ضلع کورونا انفیکشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق وہاں اب تک 699 پازیٹو کیس ملے ہیں اور پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ فی الحال پازیٹو معاملوں کی تعداد 372 ہے۔

سوموار کو بہار میں ایک دن میں سب سے زیادہ 394 معاملے سامنے آئے، جس میں سے 20 فیصدی معاملے پٹنہ ضلع کے تھے۔ تقریباً 80 معاملے پالی گنج سے سامنے آئے۔