کورونا فنڈنگ کے لیے او ایل ایکس پر اسٹیچو آف یونیٹی کو فروخت کر نے کا اشتہار، معاملہ درج

07:20 PM Apr 06, 2020 | دی وائر اسٹاف

گجرات پولیس نے بتایا کہ کسی نامعلوم شخص نے سنیچر کو او ایل ایکس پر ایک اشتہار دیا جس میں اس نے ہسپتالوں اور صحت سے متعلق سازوسامان خریدنے کے لئے اسٹیچو آف یونیٹی  کو 30000 کروڑ روپے میں بیچنے کی ضرورت بتائی ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: نرمدا ضلع کے کیوڈیا میں واقع ‘اسٹیچیو آف یونیٹی’ کو  فروخت کرنےکے لیے ایک آن لائن اشتہار جاری کرنے کو لےکر ایک نامعلوم شخص کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔کورونا وائرس کے بحران سے نپٹنے کے لئے میڈیکل کے بنیادی ڈھانچے اورہسپتالوں پر ہونے والے سرکاری خرچ کو پورا کرنے کے لئے اس مجسمہ کو 30.000 کروڑروپے میں فروخت کرنے  کا اشتہار دیا گیا۔

یہ سردار پٹیل کا میموریل ہے اوریہ  مجسمہ 182 میٹر اونچا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2018 میں اس کا افتتاح کیا تھا۔کیوڈیا پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ کسی نامعلوم شخص نے سنیچر کو او ایل ایکس پر ایک اشتہار دیا جس میں اس نےہسپتالوں اور صحت سے متعلق ساز و سامان خریدنے کےلئے ‘اسٹیچیو آف یونیٹی’ کو30000 کروڑ روپے میں بیچنے کی ضرورت بتائی۔

انسپکٹر پی ٹی چودھری نے کہا کہ ایک اخبار میں اس کی رپورٹ آنے پر میموریل کے افسروں کو اس کا پتہ چلا اور انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مختلف قوانین کے تحت ایک معاملہ درج کیا گیاہے۔ایک نامعلوم شخص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 505 (کسی بھی افواہ۔ کسی بھی طرح کی افواہیں پھیلانا)، 417 (دھوکہ دھڑی کے لئے سزا)، 469 (جعل سازی) اورآئی ٹی قانون کے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بعد میں اشتہار کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، اسٹیچیو آف یونیٹی کے اسسٹنٹ کمشنر نیلیش دوبے کی طرف سے جاری ایک  ریلیز میں کہا گیا، حکومت کو بدنام کرنے کے لئے کسی نامعلوم شخص نے اسٹیچیو آف یونیٹی کو او ایل ایکس پر بیچنے کے لئے لگا دیا جبکہ اس کے پاس ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ یہ خوفناک ہے کہ آن لائن مارکیٹ پلیس اوایل ایکس نے پوسٹ کی تصدیق نہیں کی۔

قابل ذکر ہے کہ31 اکتوبر، 2018 کو افتتاح کے بعد سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے اسٹیچیو آف یونیٹی کو گجرات میں کورونا وائرس کے معاملات کےپیش نظر حکومت کی ایک ہدایت کے بعد 17 مارچ سے سیاحوں کے لئے بند کردی گئی۔

 (خبررساں ایجنسی  بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)