کورونا وائرس: 21 ہزار سے زیادہ ریلیف کیمپ میں رہ رہے ہیں  6.6 لاکھ لوگ

مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق، تقریباً 21064 ریلیف کیمپ میں 23 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کھانا فراہم کرایا جا رہا ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے دی گئی اطلاع  کے مطابق، تقریباً 21064 ریلیف کیمپ  میں 23 لاکھ سے زیادہ  لوگوں کو کھانا  فراہم  کرایا جا رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی:مرکزی وزارت داخلہ  نے منگل کو بتایا کہ ملک میں چل رہے 21 ہزار سے زیادہ ریلیف کیمپ  میں 6.6 لاکھ سے زیادہ  بے سہارا لوگ اور کو رونا وائرس کی وجہ سے  پھنسے ہوئے لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔وزارت میں جوائنٹ سکریٹری  پنیہ سللا شریواستو نے کو رونا وائرس اور لاک ڈاؤن پر پریس کانفرنس  کے دوران صحافیوں  کو بتایا کہ ان کیمپوں  اور دوسرے مقامات پر 23 لاکھ سے زیادہ  لوگوں کو کھانا  بھی فراہم  کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ ملک  میں ریاستوں  اور یونین ٹریٹری کے تال میل  سے لاک ڈاؤن کونافذ کرانے پر لگاتار نظر رکھ رہا ہے اور اب تک حالات تسلی بخش ہیں ۔انہوں نے کہا، ‘ریاستوں  اور یونین ٹریٹری کے ذریعےمرکزی وزارت داخلہ  کودستیا ب  کرائی گئی اطلاعات  کے مطابق لگ بھگ 21064 ریلیف کیمپ  بنائے گئے ہیں اور ان میں 6.66 لاکھ سے زیادہ  لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ 23 لاکھ سے زیادہ  لوگوں کو کھانابھی فراہم  کرایا جا رہا ہے۔’

حکام  نے کہا، ‘یہ سہولت غریب، بے سہارا لوگوں، پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں  کے لیے ہے، جنہیں صرف کھانے کی ضرورت ہے۔ یہ سہولت ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو اپنی منزل  پر پہنچ چکے ہیں، لیکن ہدایات کے مطابق  انہیں الگ کیا گیا ہے۔’ساتھ ہی انہوں نے کہا، ‘مہاجر مزدوروں کے حالات بھی قابو میں ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ضروری اشیا  کی فراہمی  کا انتظام  بھی تشلی بخش  ڈھنگ سے چل رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ لاک ڈاؤن مؤثر رہےگا… ہم اجتماعی طو رپر اس وبا کے چیلنج  سے نپٹ لیں  گے۔’جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سرکار وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعےاعلان کئے گئے تین ہفتے کے لاک ڈاؤن کو سختی  سےنافذ کرانے کے لیے فوج  کی تعیناتی کا منصوبہ  بنا رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریاست وزارت داخلہ  سے اس طرح کی مدد مانگتی ہے تو کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثناسرکاری اعدادوشمار کے مطابق، ملک  میں کو رونا وائرس کے انفیکشن  سے مرنے والوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ وہیں، اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 1637 ہو گئی ہے۔

(خبررساں ایجنسی  بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)