کیرل: مندر میں ٹوائلٹ کے باہر لکھا ’صرف برہمنوں کے لیے‘ کا بورڈ، تنازعہ کے بعد ہٹایا

کیرل کے کُٹومُکو مہادیو مندر کے تین ٹوائلٹ کے باہر لگے سائن بورڈ پر مرد، خاتون اور صرف برہمن لکھا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کوچین دیوسوم بورڈنے جانچ‌کے حکم دیے ہیں۔

کیرل کے کُٹومُکو مہادیو مندر کے تین ٹوائلٹ  کے باہر لگے سائن بورڈ پر مرد، خاتون اور صرف برہمن لکھا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کوچین دیوسوم بورڈنے جانچ‌کے حکم دیے ہیں۔

کیرل کے مندر کا ٹوائلٹ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کیرل کے مندر کا ٹوائلٹ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: کیرل کے ایک مقامی مندر میں برہمنوں کے لئے الگ سے ایک ٹوائلٹ  ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس بارے میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ایک تصویر میں تین ٹوائلٹ نظر آ رہے ہیں، جن میں پہلے پر مردوں، دوسرے میں خواتین اور تیسرے پر ‘صرف برہمنوں کے استعمال ‘کے لیے کا بورڈ لگا ہے۔حالانکہ سوشل میڈیا پر اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد تنازعہ بڑھنےپر مندر انتظامیہ نے اس سائن بورڈ کو ہٹا دیا ہے۔

دراصل سوشل میڈیا پر کیرل کے کُٹومُکو مہادیو مندر کے تین ٹوائلٹ  کے باہر لگے سائن بورڈ کی تصویریں وائرل ہو رہی ہیں، جن کے باہر مرد، خاتون اور برہمن لکھا ہوا ہے یعنی ان ٹوائلٹ  کو صرف وہی استعمال کر سکتے ہیں۔نیوز18 کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کو لےکر کوچین دیوسوم بورڈ(سی ڈی بی)نے جانچ‌کے حکم دیے ہیں۔

یہ معاملہ تب سامنے آیا جب تریشور کے باشندہ اور ریسرچ اسٹوڈنٹ ارویند جی کرسٹو نے بدھ کو کُٹومُکو مہادیو مندر احاطے میں لگے ایک سائن بورڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔سائن بورڈ میں لکھا تھا کہ اس ٹوائلٹ  کا استعمال صرف مرد، خاتون اور برہمنوں کے لیے ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہو گئی۔ لوگوں نے اس کوغیراخلاقی کام بتایا، جس سے ریاست کا نام خراب ہوگا۔سوشل میڈیا پر کرسٹو نے پوسٹ میں لکھا ہے، ‘ میں مندر کے ایک پروگرام میں حصہ لینے گیا تھا تبھی میں نے مندر احاطے میں برہمنوں کے لئے الگ ٹوائلٹ  کا سائن بورڈ دیکھا۔ سائن بورڈ دیکھ‌کر میں چونک گیا اور اس کی تصویر کھینچ لی۔ اس کے بعد میں نے فوٹو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا، جو وائرل ہو گئی۔ مجھےخوشی ہے کہ اب اس سائن بورڈ کو ہٹا دیا جائے‌گا۔ ‘

کوچین دیوسوم بورڈ کے صدر اے بی موہنن نے کہا، ‘یہ معاملہ جب میرےعلم میں آیا تو میں نے مندر کے افسروں کو اس کو فوراً ہٹانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی سی ڈی بی کے معاون کمشنر جئےکمار کو اس معاملے کی تفتیش کرنے اور ایک رپورٹ سونپنےکی ہدایت دی ہے۔ ‘

وہیں، مندر کمیٹی کے ایک افسر کنن کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ تقریباًدو دہائی پہلے لگا تھا اور اس کے خلاف ابھی تک کسی نے شکایت نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا، اس ٹوائلٹ  کا استعمال پجاری اور مندر کے دیگرملازم کرتے تھے۔ ہم نے اس بورڈ کو بھی نہیں دیکھا۔ ہمیں جیسے ہی اس کے بارے میں پتہ چلا، ہم نے اس کو ہٹا دیا اور ‘صرف ملازمین‎کےلیے’بورڈ لگا دیا۔کنن نے کہا کہ مندر اور اس کا انتظامیہ کسی بھی طرح کی غیراخلاقی روایت کے خلاف ہے۔

وہیں مندر کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ وہ اس آدمی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی اسکیم بنا رہے ہیں جس نے سوشل میڈیا پر ٹوائلٹ کی یہ تصویریں پوسٹ کی۔انہوں نے کہا، ہمیں شک ہے کہ اس شخص نے تہوار کے وقت اس کو مدعابنانے اور مندر کی عزت کو بدنام کرنے کے لئے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ اتناہی نہیں انہوں نے جو فوٹو شیئر کی وہ ایک پرانی فوٹو تھی۔ ‘

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کےساتھ)