امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے منسلک بات چیت میں وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ آنے کے بعد کانگریس نے لوک سبھا میں فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک التوا پیش کی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزوں کےمطابق، 2017 اور 2019 کے درمیان ہندوستانی کاروباری انل امبانی امریکی سیاسی رسائی سے متعلق امور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحات کے بارے میں گفت و شنید کے حوالے سے ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں تھے۔
تصویر: اے پی اور پی ٹی آئی
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیامنٹ منیکم ٹیگور نے سوموار (2 فروری) کو لوک سبھا میں امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سےمتعلق ای-میل دستاویزوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کاحوالہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ‘گمبھیربین الاقوامی میڈیا رپورٹس’ پر فوراً بحث کی مانگ کرتے ہوئے
تحریک التوا پیش کی۔
تحریک التوا کے توسط سے لوک سبھا اپنے ریگولر ایجنڈے کو معطل کرتے ہوئے عوامی اہمیت کے معاملات پر بحث کر سکتی ہے۔ اس کو اسپیکر کی اجازت سے پیش کیا جاتاہے اور اس کا مقصد ایسے معاملات کو اٹھانا ہوتا ہے، جو وقت کے لحاظ سے حساس ہوں اور ان پر حکومت سے فوراًجواب کی ضرورت ہو۔
موجودہ مطالبے کا تعلق امریکہ میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی تحقیقات سے متعلق حال ہی میں جاری کیے گئے دستاویزوں سے ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
امریکی فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے ضبط شدہ الکٹرانک آلات سے برآمد
دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 2017 اور 2019 کے درمیان ہندوستانی کاروباری انل امبانی کے ساتھ بان کی ات چیت ہوئی تھی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی تھی۔
اس کے ساتھ ہی اس میں مئی 2019 کی ایک میٹنگ کا بھی ذکر ہے،جس میں ایپسٹین نے اس شخص سے ملنے کی بات کہی تھی، جسے انہوں نے ہندوستان کی انتخابی دور کے دوران مودی کی جانب سے بھیجا گیا کا نمائندہ بتایا۔
ایپسٹین نے 2019 میں نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے خودکشی کر لی تھی۔
ریکارڈ، جس میں ایپسٹین کے آئی فون سے ملے ٹیکسٹ پیغامات اور ای-میلز شامل ہیں، دکھاتے ہیں کہ امبانی مودی کے سفارتی دوروں کے بارے میں کو ایپسٹین سے جانکاری مانگ رہے تھے، جبکہ ایپسٹین خود کو ہندوستانی مفادات اور امریکی سیاسی شخصیات کے درمیان پل کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
سب سے اہم بات چیت مئی 2019 میں اس وقت ہوئی، جب نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ کےالزامات میں ایپسٹین کی گرفتاری کو چھ ہفتےباقی تھے، اور جب اسی وقت ہندوستان کے عام انتخابات کے نتائج کی گنتی کی جا رہی تھی۔ 14 مئی سے 20 مئی کے درمیان، ایپسٹین اور امبانی نے 23 مئی کو ایک میٹنگ کے لیے
تال میل کیا، یہی وہ دن تھا جب عام انتخابات کے نتائج میں مودی دوسری بار چنے گئے تھے۔
ایپسٹین نے 20 مئی کوٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن کو
پیغام بھیجا ، جس میں لکھا تھا، ‘مودی سینڈنگ سم ون ٹو سی می آن تھرس’، یعنی ‘جمعرات، 23 مئی کو مودی مجھ سے ملنے کسی کو بھیج رہے ہیں۔’
امبانی کے سکریٹریٹ سےآئے ای میل کنفرمیشن کے مطابق، اسی جمعرات دوپہر 4:30 بجے،
امبانی مین ہٹن واقع ایپسٹین کے 9 ایسٹ 71 اسٹریٹ والے ٹاؤن ہاؤس پہنچے۔
اس شام تقریباً 9:05 بجے (ای ڈی ٹی)، ایپسٹین نے امبانی کو پیغام بھیجا ،’ٹوڈے واز اے ٹریٹ، نائس سی انگ یو۔’ مطلب یہ کہ آج کا دن اچھا تھا،آپ سے ملنا خوشگوار رہا۔’
اس سےتقریباً ایک گھنٹہ پہلے، 8:23 بجے (ای ڈی ٹی)، ایپسٹین نے بینن کو پیغام بھیج کراس میٹنگ کے بارے میں مطلع کیا، جسے انہوں نے ‘
ریئلی انٹریسٹنگ مودی میٹنگ‘ کہا۔
دی وائر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ کیا واقعی مودی نے’ سم ون ٹو سی می’ (کسی کو ملنے) بھیجا تھا، جیسا کہ ایپسٹین کے پیغام میں کہا گیا ہے، اور اگر ایسا ہے تو، کیا وہ شخص انل امبانی تھے یا کوئی تیسرا، جو فی الحال گمنام ہے۔
پیغام کے مطابق ، ایپسٹین نے اس شخص سے ملاقات کی جسے اس نے مودی کا نمائندہ،’ہز گائے’ یعنی ان کا آدمی بتایا۔ پیغام میں ایپسٹین نے لکھا کہ اس شخص نے کہا،’نو ون ان واش اسپیکس ٹو ہم’ یعنی واشنگٹن میں کوئی بھی مودی سے بات نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ مودی کا ‘ مین اینیمی از چائنا! اینڈ دیئر پراکسی ان دی ریجن پاکستان۔’ (مودی کا دشمن چین ہے اور خطے میں ان کا پیادہ پاکستان ہے۔)
پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ نمائندے نے کہاکہ مودی ‘ ٹوٹلی بائس ان ٹو یور وژن’ ، حالانکہ اس نے یہ واضح نہیں کیا گیاکہ یہ ‘وژن’ کس کا تھا اور اس کا مطلب کیا تھا۔
اگست 2017 سے وہائٹ ہاؤس سے باہر ہونے کے باوجود، اس وقت، بینن قدامت پسند سیاسی حلقوں میں چین مخالف آواز کے طور پر بااثر بنے ہوئے تھے۔ ایپسٹین نے بعد میں لکھا،’
ہز فوکس وانٹس ٹو بی اسٹاپنگ چائنا‘ (ان کی توجہ چین کو روکنے پر ہے) اور ‘آئی کین سیٹ’ جس سے اشارہ ملتا ہے کہ مزید انتظامات کیے جا رہے تھے۔
پھر 24 کو صبح سویرے، تقریباً 2:06 بجے(ای ڈی ٹی)، بینن نے ایپسٹین کو لکھا، ‘آئی ایم ڈوئنگ
اے ون آور شو فار انڈیا آن مودی وہائل ہیر-برنگنگ امریکن ہندو گائز ود اس۔’اس کا مطلب ہوا کہ وہ کسی انڈین شو میں مودی کے بارے میں بات کر نے والے ہیں ،تاکہ وہ امریکی ہندوؤں کو اپنے ساتھ کر لیں۔
اسی تھریڈ میں ایپسٹین نے جواب دیا کہ اتوار کو مودی کی حلف برداری کی تقریب ہے۔
اس کے بعد، نیویارک کے وقت کے مطابق دوپہر کے قریب، ایپسٹین کا پر اسرار پیغام آیا،’
مودی آن بورڈ ‘ اور چین کے بارے میں مشترکہ خدشات کی بنیاد پر مودی کو اسٹیو بینن سے جوڑنے کی تجویز رکھی گئی۔امریکہ میں مقیم
ڈراپسائٹ نیوز نے ایپسٹین اور بینن کے درمیان اس ٹیکسٹ بات چیت کی جانکاری سب سے پہلے دی تھی۔
اسی صبح ، ایپسٹین نے امبانی کو تجویز پیش کی، ‘مسٹر مودی مائٹ انجوائے میٹنگ اسٹیو بینن ، یو آل شیئر دی چائنا پرابلم۔’
مطلب کہ مودی بینن سے ملنا پسند کریں گے کیونکہ آپ سبھی کے چین کو لے کر مشترکہ خدشات ہیں۔ امبانی نے اس کا جواب دیا،’شیور۔’
دستیاب دستاویزوں میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ایسی کوئی میٹنگ ہوئی۔
واضح ہو کہ ایپسٹین کو 2008 میں جسم فروشی کے لیے نابالغ سے رابطہ کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اور انہوں نے 18 ماہ جیل کی سزا کاٹی تھی۔ تاہم، 2017 اور 2018 تک، بچوں کے جنسی جرائم اور کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ان کے رول کے
کافی ثبوت سامنے آچکے تھے۔
دی وائر نے امریکی محکمہ انصاف کی’
ایپسٹین لائبریری‘ میں موجود جانکاری پر ردعمل کے لیے انل امبانی سے وہاٹس ایپ اورآئی میسیج کے ذریعے رابطہ کیا ہے، اور ان کی کمپنی کی کارپوریٹ کمیونی کیشن ٹیم سے رابطہ کیا ہے۔ جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
معلوم ہو کہ انل امبانی 2005 میں بڑے بھائی مکیش امبانی سے بٹوار کے بعد ریلائنس اے ڈی اے گروپ کے چیئرمین ہیں۔ 2008 میں ان کے پاس بے تحاشہ دولت تھی، جب فوربس نے انہیں 42 ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ دنیا کا چھٹا امیر ترین شخص قرار دیا تھا۔
نریندر مودی کے دور میں، 2016 میں رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے میں ریلائنس ڈیفنس آفسیٹ پارٹنر بنی تھی۔
اس پر اس وقت تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا، جب فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے
کہا تھاکہ ہندوستان نے اس شراکت داری کے لیے دباؤ ڈالا تھا، حالاں کہ حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
ریلائنس انفراسٹرکچر نے بتایا ہے کہ مالی سال 2024-25میں 3,300 کروڑ روپے ادا کرنے کے بعد
کمپنی کا قرض اتر گیا ہے۔ اگست 2024 میں سیبی نے ریگولیٹری کارروائی کرتے ہوئے پانچ سال کے لیے انل امبانی پرشیئر بازار سے
پابندی لگا دی ہے۔
سال2017: نیڈ یور گائیڈنس آن ڈیلنگ ود وہائٹ ہاؤس فار انڈیا ریلیشن شپ اینڈ ڈیفینس کو آپریشن’
ایسا لگتا ہے کہ ایپسٹین اور امبانی کے درمیان تعلقات فروری 2017 میں شروع ہوئے، جب دبئی پورٹس ورلڈ کے چیئرمین سلطان احمد بن سلیم نے ہندوستانی کاروباری کے رابطے کی تفصیلات
شیئر کیں ۔ اگلے دن، 23 فروری، 2017 کو،
ایپسٹین اور امبانی کے درمیان پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے ہی مل چکے تھے۔
ایپسٹین نے لکھا کہ وہ ‘سلطان فیملی’ کے ایک اور فرد سے مل کر خوش ہوئے۔ امبانی نے جواب دیا، ‘تھینکس۔ انجوائڈ میٹنگ یو۔ ول لرن اے لاٹ فرام یو۔’
اسی گفتگو میں، ایپسٹین نے انکشاف کیا کہ اس نے ایہود باراک کے رابطے کی تفصیلات بھیجی ہیں، جنہیں اس نے ‘ اے لیول ابو دی ریسٹ’ (سب سے اوپر)کہا، حالانکہ انھوں نے مزید کہا کہ، ‘آئی پرسنلی ڈونٹ گیٹ ڈیفینس بزنس ان اینی فارم۔’یعنی میں ذاتی طور پر کسی بھی صورت میں دفاعی (ڈیفینس)کاروبار میں نہیں پڑتا۔
ایک ہفتے بعد، 2 مارچ کو، امبانی نے اپنا پہلا ٹھوس مطالبہ بھیجا،’ول نیڈ یور گائیڈنس آن ڈیلنگ ود وہائٹ ہاؤس فار انڈیا ریلیشن شپ اینڈ ڈیفینس کو آپریشن ‘ (ہندوستان کے ساتھ تعلقات اور دفاعی تعاون کے لیے وہائٹ ہاؤس کے ساتھ بات کرنے کے لیے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی)۔
ایپسٹین نے جواب میں پوچھا کہ امبانی بدلے میں کیا دینے کو تیار ہیں، انہوں نے پوچھا،’ نو آئیڈیولوجی نیڈیڈ، ٹِٹ فار ٹیٹ۔’امبانی نے جواب دیا، ‘انڈین مارکیٹ وہاٹ ایور ورکس۔’
اگلے دن، ایپسٹین نے امبانی کو محفوظ مواصلات کے لیے سگنل میسنجر ڈاؤن لوڈ کرنے کا مشورہ دیا اور وعدہ کیا، ‘آئی ول گیٹ سم ان سائیڈ بیس بال فار یو۔’
امبانی نے دہلی سے 16مارچ کو ایک
پیغام بھیجا، جس سے یہ واضح ہوا کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے لکھا، ‘لیڈر شپ وُڈ لائیک یور ہیلپ فار می ٹو میٹ جیرڈ اینڈبینن اے اے ایس پی ‘ یعنی جیرڈ کشنر اور اسٹیو بینن سے جلد سے جلد ملاقات میں مدد۔ انہوں نے لکھا کہ مئی میں وزیراعظم کا دورہ واشنگٹن متوقع ہے اور اس میں بھی انہیں مدد کی ضرورت ہے۔
واضح ہوکہ ٹرمپ کے داماد کشنر اس وقت ان کے سینئر مشیر بھی تھے۔
اگلے دن، 17 مارچ کو، ایپسٹین نے رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کار اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی ٹام بیرک کو
ای میل بھیجا، ‘انل امبانی، انڈیا، از کمنگ ٹو نیو یارک فرسٹ ویک اپریل، آئی تھنک یو وُڈ انجوائے، مودی از کمنگ ان مئی۔’ یعنی انل امبانی اپریل کے پہلے ہفتے نیویارک آ رہے ہیں اور مودی مئی میں۔ بیرک ٹرمپ کی حلف برداری کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے تھے۔
مہینے کے آخر میں، 29 مارچ کو، امبانی نے ایپسٹین سے مودی کے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کے بارے میں
پوچھا ،’دی وائٹ ہاؤس ہیز اناؤنسڈ یسٹرڈے پی ایم مودی ٹرپ ٹو دی سی۔ کین یو ٹیل می وہین اینڈ دی ڈیٹس؟’ یعنی وہائٹ ہاؤس نے کل پی ایم مودی کے ڈی سی کے دورے کا اعلان کیا ہے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ دورہ کب ہے اوراس کی تاریخیں کیا ہیں؟’
دو دن بعد انہوں نے دوبارہ پوچھا، ‘اینی وز ایبلٹی آن ڈیٹس آور پی ایم وزٹ ٹو ڈی سی؟’مطلب پھر سے تاریخیں پوچھی۔ساتھ ہی ‘ٹریک 2’ رابطوں، یعنی غیر رسمی سفارتی چینلوں کے بارے میں بھی جانکاری چاہی۔
دو اپریل تک امبانی ایپسٹین کو دہلی میں ہونے والی پیش رفت سے
آگاہ کر رہے تھے ۔
انہوں نے ایپسٹین کو بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر ‘ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے اعلیٰ سطحی اہلکار’ کے طور پر ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں اور وزیر اعظم جون میں واشنگٹن (ڈی سی) کا دورہ کریں گے۔ جب ایپسٹین نے ان سے دورے کے فوکس کے بارے میں پوچھا، تو امبانی نے جواب دیا، ‘انڈیا پاکستان ڈیفینس۔’
اس کے بعدایپسٹین نے پوچھا کہ کیا امبانی کے پاس واشنگٹن میں کوئی وکیل ہے؟ انہوں نے لکھا، ‘دے آر کانڈیوٹس اینڈ ریکوائرڈ، یو ایس رولز آر آپریسو۔’ یعنی ،وہ ثالث ہوتے ہیں اور ان کی ضرورت ہوتی ہے، امریکی قوانین بہت سخت/جابر ہیں۔’
مودی کے دورے کی منصوبہ بندی کے بارے میں بات چیت میں ایپسٹین نے ہندوستان پر لاگوامریکی پالیسی کی حدود کے بارے میں معلومات دی، اسے انہوں نے’انسائیڈ’ جانکاری کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے لکھا، آئی ایم ٹولڈ دیٹ بائے انڈیا ان ریئلٹی از لمیٹڈ ٹو اے سرٹین کٹیگری آف تھنگس۔’ مطلب مجھے بتایا گیا ہے کہ ہندوستان حقیقت میں جن چیزوں کو خریدسکتا ہے، وہ کچھ خاص زمروں تک ہی محدود ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ‘کئی چیزیں ایسی ہیں جو صرف امریکہ میں ہی بنائی جا سکتی ہیں (اور ان میں ‘بیک ڈور’ جیسے فطری خطرات ہوتے ہیں)۔آئی ٹی-ہاں، جیٹ انجن – نہیں۔’
تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ نجی کاروبار کو اس میں شامل کرنے کے بارے میں ‘کافی جوش ‘ ہے، کیونکہ اسے حکومت کے مقابلے میں’بہت کم کرپٹ’ سمجھا جاتا ہے۔
ایپسٹین نے امبانی سے یہ بھی کہاکہ ‘ڈسکشنس ری اسرائیل اسٹریٹجی ویر ڈومینٹنگ پرایوریٹی۔’یعنی ایپسٹین کا کہنا تھا کہ مودی کے دورے سے متعلق پروگرام پراسرائیل کی حکمت عملی کو لے کر ہونے والی بات چیت حاوی تھیں، اور ساتھ ہی بہت سے اندرونی اختلافات / تنازعات بھی تھے جنہیں ترجیح دیا جا رہا تھا۔
ستائیس اپریل کو، ایپسٹین نے وہائٹ ہاؤس کے اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ‘ وہائٹ ہاؤس، یسٹر ڈے، فوکس ایز اے پریویسلی سیڈ آن اسرائیل’ مطلب، کل وہائٹ ہاؤس میں، جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا، توجہ اسرائیل پر ہی مرکوزتھی۔
سات جون کو
ایپسٹین نے لکھا کہ،’مودی نے سینٹ پیٹرز برگ میں اچھا کیا۔ وہ ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں،’ یہ اشارہ 1-2 جون کو ہوئےسینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کی جانب تھا۔اسی پیغام میں، انہوں نے کہا کہ،’انڈیا اسٹل ناٹ پنڈ ڈاؤن رگارڈنگ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن پالیسیز۔’یعنی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر ہندوستان کا موقف غیر واضح ہے۔
ایک ماہ بعد، 6 جولائی کو، ایپسٹین نے
قطری رابطہ کو ای میل میں مودی کے دورہ اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ‘دی اندین پرائم منسٹر مودی ٹک ایڈوائزڈ۔ اینڈ ڈانسڈ اینڈ سینگ ان اسرائیل فار دی بینیفٹ آف دی یو ایس پریسیڈنٹ۔ دے ہیڈ میٹ اے فیو ویکس اگو… ان ورکڈ!’
اس کا مطلب یہ سمجھا جا سکتا ہے،’ہندوستانی وزیر اعظم مودی نے صلاح لی، اور امریکی صدر کے فائدے کے لیے اسرائیل میں رقص کیااور گانا گایا۔ وہ چند ہفتے پہلے ملے تھے…… اور یہ کارگر ثابت ہوا۔’
ان انکشافات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ نے
31 جنوری کو ایک بیان میں کہا ، ‘جولائی 2017 میں وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کی حقیقت کے علاوہ، ای-میل میں کیے گئے دیگراشارے ایک سزا یافتہ مجرم کے پھوہڑ تخیل سے زیادہ کچھ نہیں ہیں، جنہیں مکمل طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔’
اس کے بعد مارچ 2018 میں ایپسٹین نے امبانی کو لکھا،’
اسٹیو بینن ود می ان پیرس۔ کم وزٹ ۔’ مطلب یہ کہ اسٹیو بینن میرے ساتھ ہیں، آئیے ملیے۔ تین ہفتے بعد 29 مارچ کو، اس نے براہ راست پوچھا،وُڈ یو لائیک ٹو میٹ ود اسٹیو بینن۔’ یعنی، کیا آپ اسٹیو بینن سے ملنا پسند کریں گے؟’
اگلے پیغامات اپریل 2019 کے ہیں، جب امبانی نے ایک ذاتی مالی معاملے میں
ایپسٹین کی مدد چاہتےتھے ۔ 21 اپریل کو انہوں نے پوچھا،’ہاؤ کین یو ہیلپ ٹو ارینج فنانسنگ ایٹ کارپوریٹ لیول؟’یعنی کارپوریٹ سطح پر فنڈنگ کا بندوبست کرنے میں آپ کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟’
اسی بات چیت میں امبانی نے پوچھا کہ ایپسٹین کس سے ملاقات کی سفارش کریں گے، یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان کے انتخابی نتائج 23 مئی کو ہیں اور وہ نیویارک شہر میں ہیں۔ پیغام تھا،’جنرل الیکشن رزلٹز آن 23 مئی وہائل آئم ایم ان این وائی سی۔’
اس پرایپسٹین نے مشورہ دیا، ‘بینن؟ رمبلر؟ اور رمبلر، فارمروائٹ ہاؤس کاؤنسل۔ ایہود باراک ۔’ یعنی ایپسٹین نے ان افراد سے ملنے کا مشورہ امبانی کو دیا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے
یہاں کلک کریں ۔