شہریت ترمیم بل: آسام میں کرفیو کے باوجود لوگ سڑک پر اترے، پولیس نے چلائی گولیاں

شہریت ترمیم بل پاس کیے جانے کی مخالفت میں آسام میں جاری پرتشدد مظاہرےکی وجہ سے ریاست کےتمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔آسام سے آنے جانے والی ٹرینیں اور اڑانیں بھی رد کر دی گئی ہیں۔ کئی افسروں کا تبادلہ کردیا گیاہے۔ آسام کے 10 اضلاع میں انٹرنیٹ پر 48 گھنٹے کی پابندی ہے۔تریپورہ میں بھی اسکول کالج اور دفتر بند رہے۔

شہریت ترمیم بل پاس کیے جانے کی  مخالفت میں آسام میں جاری پرتشدد مظاہرےکی وجہ سے ریاست کےتمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔آسام سے آنے جانے والی ٹرینیں اور اڑانیں بھی رد کر دی گئی ہیں۔ کئی افسروں  کا تبادلہ کردیا گیاہے۔ آسام کے 10 اضلاع میں انٹرنیٹ پر 48 گھنٹے کی پابندی ہے۔تریپورہ میں بھی اسکول کالج اور دفتر بند رہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : آسام شہریت ترمیم بل کو لے کرمخالفت اور تیز ہو گئی ہے۔ گوہاٹی میں ہزاروں لوگ کرفیو کی خلاف ورزی  کرتے ہوئے جمعرات کو سڑک پر اتر آئے اور کئی مقامات  پرحالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو گولیاں بھی چلانی پڑی۔تشدد کو دیکھتے ہوئے آسام کے دس اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات پر لگائی گئی روک کی مدت کو جمعرات کی دوپہر 12 بجے سے 48 گھنٹے کے لیے اور بڑھا دیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کوروکنے اور نظم ونسق کو  بنائے رکھنے کے لیے انٹرنیٹ خدمات پر روک لگائی گئی تھی۔ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ اور سیاسی امور)سنجے کرشنا نے بتایا کہ لکھیم پور، دھیماجی، تنسکیا، ڈبروگڑھ، چرائیدیو، شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ، کام روپ (میٹرو) اور کام روپ میں انٹرنیٹ خدمات متاثر رہیں گی۔ پولیس نے بتایا کہ لالنگ گاؤں میں انہیں گولیاں بھی چلانی پڑی کیونکہ مظاہرین نے ان پر پتھربازی کی۔مظاہرین  کا دعویٰ ہے کہ اس  میں چار لوگ زخمی  ہو گئے۔

یہی  نہیں پولیس کو گوہاٹی-شیلانگ روڈ سمیت دوسرے علاقوں میں بھی گولیاں چلانی پڑیں۔ یہ علاقہ جنگی میدان میں تبدیل ہو چکا ہے، کیونکہ مظاہرین  نے دکانوں اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ ہی سڑکوں پر ٹائر جلائے۔مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے بیچ جھڑپ بھی ہوئی ہے۔آل آسام اسٹوڈنٹس یونین اور کسان مکتی سنگرام سنگٹھن نے لتاشیل میدان میں لوگوں کو جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ اس میں سیکڑوں لوگوں نے حصہ لیا۔ پابندی کے باوجود بھی اس ریلی میں فلم اورموسیقی کے شعبوں کی کئی ہستیوں نے حصہ لیا۔ کالج اور یونیورسٹی  کے طلبا کے ساتھ جبن گرگ بھی اس میں شامل ہوئے۔

یونین کے صلاح کار ساموجل بھٹاچاریہ نے اس جلسے میں کہا، ‘وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ سربانند سونووال نے اس بل کے پاس ہونے کو یقینی بناکرآسام کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔’مذکورہ یونین اور نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ ہر سال 12 دسمبر کو ‘یوم سیاہ’کےطورپرمیں منائیں گے۔

مظاہرین نے امبروئی حلقے میں سینئر بی جے پی رہنما ہیمنتا بسواسرما کا پتلا جلایا۔ وہیں کاٹن یونیورسٹی  اور ہندیک گرلز کالج کے طلبا بھی بل کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین میں سے ایک نے کہا، ‘یہ ہمارے وجود کی لڑائی ہے۔’کامروپ ضلع میں دفتر، اسکول اور کالج پوری طرح سے بند رہے۔ یہاں دکانیں بند ہیں اور قومی شاہراہ31 سمیت مختلف شاہراہوں پر سڑکوں سے گاڑیاں ندارد ہیں کیونکہ اسے بند کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ انہیں رنگیا شہر میں تین گولیاں چلانی پڑی کیونکہ مظاہرین  نے ان پر پتھر اور جلے ہوئے ٹائر پھینکے۔ شہر کے کئی مقامات پرمظاہرین پر لاٹھی چارج بھی ہوا۔

افسروں نے بتایا کہ پولیس کو گولا گھاٹ ضلع میں بھی ہوا میں گولیاں چلانی پڑی کیونکہ مظاہرین نے قومی شاہراہ 39 بند کر رکھا تھا اور پولیس ان کو منتشرکرنے کی کوشش کر رہی تھی۔لکھیم پور اور چرائی دیو ضلعوں کے چائے باغانوں میں مزدوروں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ گولہ گھاٹ کے نمالی گڑھ اور تن سکیا ضلعوں کے کچھ علاقوں میں بھی مزدوروں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

ریاست کے سبھی تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں فوج کے پانچ کالم تعینات ہیں اور وہ گوہاٹی،تن سکیا،جورہاٹ اور ڈبروگڑھ میں فلیگ مارچ کر رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ناکےبندی کے بعد آسام کے کئی شہروں میں سڑکوں پر گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔5-6 گاڑیوں میں آگ بھی لگا دی گئی ۔ریاست کے کئی حصوں میں بی جے پی اور آسام گن پریشد (اے جی پی)کے رہنماؤں کے گھر پر بھی حملے ہوئے۔

آسام پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لاء اینڈ آرڈر)نے کہا،’اگلے حکم تک کرفیو لگا رہے گا۔ہم حالات پر نظر رکھ رہے ہیں اور اب تک حالات قابو میں ہیں۔’شہریت ترمیم بل بدھ کو راجیہ سبھا میں پاس ہو گیا۔ اس سے پہلے یہ بل سوموار کو لوک سبھا میں پاس ہو چکا ہے۔ اس میں افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان سے مذہبی استحصال کی وجہ سے 31 دسمبر 2014 تک ہندوستان آئے غیر مسلم مہاجرین-ہندو، سکھ۔ بودھ،جین ،پارسی اور عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا اہتمام ہے۔

بل کے خلاف مسلسل ہو رہے مظاہرے کے بعد گوہاٹی میں 11 دسمبر کی رات سے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا گیا تھا۔4 جگہوں پر فوج کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ بدھ کو تریپورہ میں آسام رائفلس  کے جوانوں کو تعینات بھی کیا گیا تھا۔ ڈبروگڑھ میں بدھ دیر رات غیر معینہ مدت کے لیے گرفیو لگا دیا گیا کیونکہ یہاں مظاہرین نے آسام کے وزیراعلیٰ سربانند سونووال اور مرکزی وزیر رامیشور تیلی کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔

لوک سبھا میں اس بل کے پاس ہونے کے بعد سے ہی آسام میں مظاہرے کی خبریں آنے لگی تھیں۔شہروں میں زبردست مظاہروں کے بیچ آسام کے 10 ضلعوں -لکھیم پور،دھیما جی،تن سکیا، ڈبروگڑھ،شیو ساگر، جورہاٹ،گولا گھاٹ،کامروپ(میٹرو)اور کام روپ میں 11 دسمبر کی شام 7 بجے سے 24 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔

نارتھ ایسٹ کی مختلف ریاستوں میں شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں مسلسل مظاہرہ ہو رہا ہے۔ ایسٹ کی ریاستوں میں اصل باشندوں کو ڈر ہے کہ ان لوگوں کے داخلے سے ان کی شناخت اور روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آسام میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ا س سےآسام سمجھوتہ 1985 کے اہتمام رد ہو جائیں گے،جس میں بنا مذہنی جانبداری کے غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجے جانے کی آخری تاریخ 24 مارچ 1971طے ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)