سوئس کمپنی کے ذریعے دہائیوں تک ہندوستان-پاکستان کی جاسوسی کر رہا تھا سی آئی اے: رپورٹ

05:55 PM Feb 14, 2020 | دی وائر اسٹاف

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور جرمنی کی سرکاری مواصلاتی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس تنظیم سی آئی اے نے ایک سوئس کمپنی کے ذریعے تقریباً پچاس سالوں سے زیادہ وقت تک دنیا کے تمام ممالک کی خفیہ معلومات اور جانکاری میں سیندھ لگائی اور امریکی پالیسی طے کرنے میں مدد دی۔

(فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: امریکہ کی انٹیلی جنس تنظیم سی آئی اے نے ایک سوئس کمپنی کے ذریعے ہندوستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کے خفیہ پیغامات کو دہائیوں تک پڑھا اور امریکی پالیسی طے کرنے میں مدد دی۔ سوٹزرلینڈ کی اس کمپنی پر دنیا کو بڑا بھروسہ تھا لیکن اصل میں اس کمپنی میں سی آئی اے کی ساجھے داری تھی۔ یہ جانکاری امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور جرمنی کی سرکاری مواصلاتی ایجنسی زیڈ ڈی ایف میں شائع رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ حکومت ہند نے اس رپورٹ پر فی الحال کوئی رد عمل  نہیں دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کمپنی کے ڈیوائس کا استعمال پوری دنیا میں مختلف ممالک کی حکومتوں کے ذریعے اپنے جاسوسوں، فوجیوں اور خفیہ سیاسی رہنما کے ساتھ پیغامات کے تبادلہ کے لئے بےحد قابل اعتماد مانا جاتا رہا، لیکن کسی کو بھی اس کمپنی کا مالکانہ حق مشترکہ طور پر سی آئی اے اور اس کے معاون مغربی جرمنی کی خفیہ ایجنسی بی این ڈی کے پاس ہونے کا پتہ کسی کو نہیں چلا۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ قریب پچاس سالوں تک چلا۔ کرپٹو اے جی(CRYPTO AG) نام کی سوئس کمپنی سے 1951 میں سی آئی اے (سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) کا سمجھوتہ ہوا اور یہ 1970 کے بعد تک چلا۔ دونوں نیوز گروپ سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں پر مبنی مشترکہ تحقیقی مہم چلا رہے ہیں۔ اس مہم میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح سے امریکہ اور اس کے معاون ملک دنیا کے ممالک سے رقم لیتے تھے اور ان کی اطلاعات کی چوری کرکے ان کا فائدہ اٹھاتے تھے۔

کرپٹو اےجی کی تشکیل 1940 میں مواصلات اور اطلاعات کی حفاظت کے لئے ایک آزاد ادارے کے طور پر ہوئی تھی۔ لیکن بعد میں اس نے اپنا کردار بدل لیا۔

سوٹزرلینڈ میں کرپٹو اےجی کا دفتر (فوٹو : رائٹرس)

رپورٹ کے مطابق ،کوڈ لینگویج میں ہونے والے مکالمہ کے لئے ڈیوائس بنانے والی کرپٹو اےجی نے سی آئی اے سے ہاتھ ملاکر اپنے کسٹمر ممالک کے ساتھ غداری کی۔ تقریباً 50 سال تک دنیا کے تمام ممالک کی حکومتیں اپنے جاسوسوں، فوجوں اور سفارتوں سے ہونے والے مکالمہ کے لئے کرپٹو اےجی پر منحصر تھیں اور اس پر اعتماد کرتی تھیں۔ کمپنی کے گاہکوں میں لاطینی امریکی ممالک، ہندوستان، پاکستان، ایران اور ویٹیکن بھی تھے۔

ان تمام ممالک کو کبھی شک بھی نہیں ہوا کہ ان کے خفیہ پیغامات کو اس طرح سے بیچ سے ہی چرایا جا رہا ہے۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ کرپٹو اےجی کا سی آئی اے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔ یہ بات مغربی جرمنی کی خفیہ تنظیم اور سی آئی اے کے درمیان گٹھ جوڑ سے پتہ چلا کہ کرپٹو اےجی کا استعمال کیا جا رہا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے معاونین اور مخالفین دونوں کی ہی جاسوسی کی۔ کمپنی نے سالوں تک دنیا کے کئی ممالک کا بھروسہ حاصل ہونے کے باوجود مختلف ممالک کے جاسوسوں، فوجوں اور سیاسی رہنما کی خفیہ بات چیت اور مکالمہ کو بنا ان کی جانکاری کے سنا۔

رپورٹ کے مطابق، اس کمپنی کے کلائنٹس میں ایران، لاطینی امریکی ممالک، ہندوستان، پاکستان اور ویٹیکن شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کمپنی کے کسی بھی کلائنٹ کو اس بارے میں جانکاری نہیں تھی کہ کمپنی کی ملکیت سی آئی اے کے پاس ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)