چین نے اروناچل پردیش کے 23 مقامات کے نئے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’جھوٹے دعوے پیش کرنے اور بے بنیاد بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں اس ناقابل تردید حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ یہ مقامات اور علاقے، جن میں اروناچل پردیش بھی شامل ہے، ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ‘

اروناچل پردیش کا نقشہ، جس میں چین کے ساتھ اس کی سرحد دکھائی گئی ہے۔ (فوٹو: گوگل میپس)
نئی دہلی: ہندوستان نے اتوار (12 اپریل) کو چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے کچھ مقامات کے نام بدلنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے’شرارت آمیز اقدامات‘اور’جھوٹے دعوے اور من گھڑت کہانیوں‘ سےاس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ یہ ریاست ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان ’چینی فریق کی جانب سے ہندوستان کے علاقے میں آنے والے مقامات کو فرضی نام دینے کی کسی بھی شرارت آمیز کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا،’چین کی جانب سے جھوٹے دعوے پیش کرنے اور بے بنیاد بیانیہ تشکیل دینے کی ایسی کوششیں اس ناقابل تردید حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ یہ مقامات اور علاقے، جن میں اروناچل پردیش بھی شامل ہے، پہلے بھی ہندوستان کا حصہ تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔‘
وزارت کی طرف سے یہ ردعمل 10 اپریل کو چین کی وزارت شہری امور کی جانب سے 23 مقامات کے نئے ناموں کے اعلان کے بعد آیا۔
جیسوال نے کہا کہ ایسے اقدامات’ہندوستان اورچین کے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم اور معمول پر لانے کی جاری کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا،’چین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تعلقات میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں اور بہتر باہمی سمجھ بوجھ کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘
چین کی وزارت شہری امور نے اروناچل پردیش کو’زانگنان‘قرار دیتے ہوئے ریاست کے 23’معیاری‘مقامات کے ناموں کی چھٹی فہرست جاری کی ہے۔ یہ 2017 سے وقفے وقفے سے جاری نام رکھنے کی کڑی میں ایک اور قدم ہے۔
گزشتہ سال مئی میں چین نے پانچویں فہرست جاری کی تھی۔ اس سے پہلے مارچ 2025 میں 30 نام، اپریل 2023 میں 11 نام، ایک اور فہرست میں 15 نام، اور 2021ا ور 2017 میں پہلی فہرست میں بالترتیب چھ -چھ نام جاری کیے گئے تھے۔
10 اپریل کو جاری نئی فہرست میں جغرافیائی مقامات کا امتزاج شامل ہے، جن میں ایل اے سی کے قریب اسٹریٹجک لحاظ سے حساس علاقوں کی قابل ذکر تعداد شامل ہے۔ 23 اندراجات میں سے کم از کم آٹھ درے ہیں، اس کے علاوہ کئی چوٹیاں، ندیاں اور کچھ بستیاں بھی شامل ہیں۔
پہلے کی طرح، ہر نام کو چینی حروف، تبتی رسم الخط اور پن ین میں دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ درست عرض البلد اور طول البلد بھی شامل کیے گئے ہیں۔ پہلے کی فہرستوں میں بھی اروناچل پردیش کے توانگ، مغربی سیانگ، سبنسری اور انجاؤ اضلاع کے میپڈ لوکیشن شامل کیے گئے تھے۔
دریں اثنا، چین نے 26 مارچ کو شن زیانگ صوبے میں پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور افغانستان کی سرحد کے قریب’ سینلنگ ‘نام کا ایک نیا کاؤنٹی بھی قائم کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں شن زیانگ میں قائم کیا گیا یہ تیسرا نیا کاؤنٹی ہے۔
دسمبر 2024 میں چین نے شن زیانگ کے ہوتان علاقے میں دو نئے کاؤنٹی قائم کیے تھے، جن میں اکسائی چین کے بڑے حصے بھی شامل تھے، جس پر ہندوستان دعویٰ کرتا ہے۔
اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اس نے ’سفارتی ذرائع سے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔‘ وزارت نے کہا،’ہندوستان کی حکومت نے اس علاقے میں ہندوستانی زمین پر چین کے غیر قانونی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ نئے کاؤنٹی بنانے سے نہ تو ہندوستان کی خودمختاری سے متعلق اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی چین کے غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت ملے گی۔‘
جنوری میں بھی ہندوستان نے شکسگام وادی میں چین کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ہندوستانی علاقہ ہے، اس لیے وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2024 میں لائن آف کنٹرول پر فوجی تعطل ختم ہونے اور مختلف کشیدہ مقامات پر افواج کے پیچھے ہٹنے کے بعد ہندوستان اورچین تعلقات معمول پر آنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔