آر ٹی آئی کے تحت اطلاع دینے سے چھوٹ حاصل دفعات کا ذکر کرنے پر مناسب وجہ دے سی بی آئی: سی آئی سی

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سی آئی سی نے کئی احکام میں واضح کیا ہے کہ بد عنوانی کے الزامات کی جانکاری دینے سے چھوٹ نہیں ملی ہے لیکن سی بی آئی میں آر ٹی آئی عرضیوں کو دیکھنے والے افسروں کے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

سماجی کارکنوں  کا کہنا ہے کہ سی آئی سی نے کئی احکام میں واضح کیا ہے کہ بد عنوانی کے الزامات کی جانکاری دینے سے چھوٹ نہیں ملی ہے لیکن سی بی آئی میں آر ٹی آئی عرضیوں  کو دیکھنے والے افسروں کے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

سینٹرل انفارمیشن کمیشن

سینٹرل انفارمیشن کمیشن

نئی دہلی: سینٹرل انفارمیشن  کمیشن (سی آئی سی) نے کہا ہے کہ بد عنوانی کے معاملوں میں جانچ کی جانکاری مانگنے والی عرضیوں  پر جواب دینے میں آر ٹی آئی قانون کے تحت چھوٹ مانگنے سے پہلے سی بی آئی کو مناسب وجہ پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت سی بی آئی سمیت سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو اطلاع دینے سے چھوٹ ملی ہے لیکن اگر درخواست گزار ‘ بد عنوانی کے الزامات ‘ سے متعلق ایسی کوئی جانکاری مانگتا ہے جو ایجنسی کے پاس ہے، تو یہ چھوٹ نافذ نہیں ہوتی۔

سی بی آئی جن معاملوں کو دیکھتی ہے، ان میں خاص طور پر بد عنوانی کے الزام والے ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں جانکاری مانگنے والی آر ٹی آئی عرضیوں  کا جواب آر ٹی آئی قانون کے اہتماموں کے مطابق دیا جانا چاہیے لیکن ایجنسی کے افسر عام طور پر اطلاع کی گزارش کو خارج کرنے کے لئے دفعہ 24 کے تحت چھوٹ کا ذکر کرتے ہیں۔

CIC-CBI-order

سماجی کارکنوں  کا کہنا ہے کہ سی آئی سی نے کئی احکام میں واضح کیا ہے کہ بد عنوانی کے الزامات کو چھوٹ نہیں ملی ہے لیکن سی بی آئی میں آر ٹی آئی عرضیوں کو دیکھنے والے افسروں کے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی صاف کیا ہے کہ بد عنوانی کے الزام ایجنسی کو ملی چھوٹ‌کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔

ایسے ہی ایک درخواست گزار پی سی بنگاریا نے اکتوبر 2017 میں سی بی آئی کے ذریعے ان کے خلاف درج بد عنوانی کے دو معاملوں کے بارے میں اطلاع مانگی تھی۔ لیکن سی بی آئی نے دفعہ 24 کے تحت چھوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع نہیں دی۔ جب درخواست گزار کمیشن کے سامنے پہنچا تو انفارمیشن کمشنر دیویہ پرکاش سنہا نے کہا کہ یہ اچھی طرح ثابت ہو گیا ہے کہ معاملے میں بد عنوانی کے الزام ہیں۔

سنہا نے کہا ، ‘سی پی آئی او (سی بی آئی افسر) کی دلیل اس فیکٹ کو خارج نہیں کرتی ہے کہ بدعنوانی کے الزام ہیں ، جن میں جانچ کی گئی۔’ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپیل کنندہ نے چار سال قید کاٹی ، یہ بھی بدعنوانی کے الزامات کو ثابت کرتا ہے۔ ‘ کمیشن نے سی بی آئی کی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ 15 دن کے اندر مفت میں درخواست گزار کو ساری جانکاری مہیا کرائیں۔

اس سے پہلے انفارمیشن کمشنر دیویہ پرکاش سنہا نے ہی ڈی او پی ٹی کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آر ٹی آئی قانون کے تحت اطلاع دینے سے چھوٹ حاصل دفعات کا من مانے طریقے سے ذکر کرنا غلط رواج کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ڈی او پی ٹی، آر ٹی آئی قانون کو صحیح طریقے سے نافذ کرنے کی ذمہ داری والی نوڈل ایجنسی ہے۔

آر ٹی آئی کارکن کوموڈور لوکیش بترا نے سی آئی سی میں شکایت درج کرکے الزام لگایا تھا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کو نافذ کرنے کی نوڈل ایجنسی ہونے کے باوجود ڈی او پی ٹی بغیر سوچے سمجھے آر ٹی آئی ایکٹ کی اطلاع دینے سے چھوٹ حاصل دفعات کا ذکر کرتے ہوئے اطلاع دینے سے منع کر رہا ہے۔ سنہا نے بترا کی دلیلوں سے اتفاق کیا اور ڈی او پی ٹی کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے آگے سے ایسا نہیں کرنے کی  وارننگ دی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)