سابق جونیئر ورلڈ چیمپین کا الزام، اولمپک میں میری کام کو بھیجنے کے لئے اصولوں میں تبدیلی کی گئی

05:41 PM Oct 18, 2019 | دی وائر اسٹاف

انڈین باکسنگ فیڈریشن کی پالیسی تھی کہ خاتون زمرے میں اولمپک کوالیفائر میں جانے کا اصول صرف گولڈ اور سلور کے میڈل  جیتنے والوں پر نافذ ہوتا ہے۔ الزام ہے ورلڈ چیمپین شپ میں برانز میڈل  جیتنے والی میری کام کو بی ایف آئی اولمپک کوالیفائرس کے لئے بھیجنا چاہتا ہے۔

مکے باز ایم سی میری کام اور نکہت زرین(فوٹو بہ شکریہ : پی ٹی آئی / فیس بک)

نئی دہلی: سابق جونیئر ورلڈ چیمپین نکہت زرین نے وزیرکھیل کرن ریجیجو کو خط لکھ‌کر باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا (بی ایف آئی) پر میری کام کو ورلڈ گیمز میں براہ راست داخلے کے لئے اصولوں میں ردوبدل کا الزام لگایا گیا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے اگلےسال ہونے والے ٹوکیو اولمپک کوالیفائرس 2020 کے لئے ہندوستانی ٹیم کا انتخاب کرنے سے پہلے ایم سی میری کام کے خلاف ٹرائل مقابلہ کروانے کی مانگ کی ہے۔

میری کام (51 کلوگرام) نے روس میں حال میں ختم ہوئی ورلڈ چیمپین شپ میں اپنا آٹھواں تمغہ حاصل کیا۔ ان کو اس مقابلہ کے لئے زرین کی جگہ ترجیح دی گئی تھی۔ باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا (بی ایف آئی) نے تب ٹرائل سے انکار کر دیا تھا اور میری کام کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ٹیم میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ منگل کو بی ایف آئی کے صدر اجئے سنگھ نے کہا نے کہ اولمپک کوالیفائرس کے لئے باکسنگ کے 51 کلوگرام کے زمرہ میں میری کام اور نکہت  زرین کے درمیان کوئی ٹرائل مقابلہ نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ اگست میں تب تنازعہ ہو گیا تھا جب بی ایف آئی نے ورلڈ چیمپین شپ کے ٹرائل مقابلے کے لئے میری کام کے خلاف نکہت زرین کو موقع ہی نہیں دیا تھا۔

بی ایف آئی کا اب ورلڈ چیمپین شپ میں کانسہ کا تمغہ جیتنے کے بعد اولمپک کوالیفائرس کے لئے بھی میری کام کو بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

اپنے خط میں زرین نے کہا، ‘ برانز میڈل جیتنے والی میری کام کو شامل کرنے کے لئے صرف گولڈ اور سلور کے میڈل جیتنے والے کو ورلڈ چیمپین شپ سے چھوٹ دینے کے اپنے فیصلے میں بی ایف آئی نے تبدیلی کی ہے۔ ‘ دراصل، اس ورلڈ چیمپین شپ سے پہلے بی ایف آئی کی پالیسی تھی کہ خاتون اور مرد دونوں زمروں میں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہی اولمپک کوالیفائر میں بھیجا جائے‌گا اور ان کو ٹرائلس نہیں دینا ہوگا۔ حالانکہ، خاتون زمرہ میں اولمپک کوالیفائر میں جانے کا اصول صرف گولڈ اور سلور کے میڈل جیتنے والوں پر نافذ ہوتا ہے۔

اس طرح سے وہ اپنے پچھلے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ بتا دیں کہ اولمپک کوالیفائرس اگلےسال فروری میں چین میں ہوں‌گے۔

زرین نے اپنے خط میں لکھا ہے، ‘ سر، کھیل کی بنیاد غیرجانبداری ہے اور کسی کو ہر وقت اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اولمپک گولڈ میڈل  جیتنے والے کو بھی اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لئے پھر سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ ‘

انہوں نے کہا، ‘ میں عفوان شباب  سے ہی میری کام سے متاثر رہی ہوں۔ اس  کے ساتھ انصاف کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ میں ان کی طرح ایک عظیم مکے باز بننے کی کوشش کروں۔ کیا میری کام کھیل کی اتنی بڑی ہستی ہیں کہ ان کو مقابلہ سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔ ‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایف آئی کےمرد زمرہ کے  اصول کے مطابق، برانز میڈل  جیتنے والے کا بھی براہ راست انتخاب ہوگا۔

زرین نے لکھا ہے، ‘ آخر جب 23بار گولڈ میڈل  جیتنے والے مائیکل فلیپس کو بھی اولمپک کے لئے ہر بار نئے سرے سے کوالیفائی کرنا پڑا تو ہم سبھی کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔ ‘ میری کام کہتی رہی ہیں کہ انتخابی ٹرائل پر وہ بی ایف آئی کے اصولوں  پر عمل کریں گی اور اگر فیڈریشن کہتا ہے تو ٹرائل میں حصہ لیں گی۔

وزارت کھیل کسی بھی نیشنل فیڈریشن کے انتخاب کے معاملوں میں تب تک مداخلت نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کھیل کا عالمی ادارہ ایسا کرنے کے لئے نہیں کہے کیونکہ اس طرح کا کوئی بھی قدم اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ زرین نے کہا کہ اگر ٹرائل ہوتا ہے اور وہ ہار جاتی ہیں تو ان کو یہ تو احساس ہوگا کہ ان کو کم سے کم موقع تو ملا۔

انہوں نے کہا، ‘ میں مدد نہیں صرف غیر جانبداری چاہتی ہوں۔ ٹرائل کے بعد میری کام یا دیگر کوئی بھی مکے باز کوالیفائی کرتی  ہے تو کم سے کم ہم یہ سوچ‌کر چین  کی نیند تو سو سکتے ہیں کہ ہرایک دعوے دار کو اولمپک میں ہندوستان کو فخر محسوس  کرنے کے لئے ہر ممکن موقع دیا گیا۔ ‘ نکہت تلنگانہ کے نظام آباد سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس سال مئی میں گواہاٹی میں ہوئے دوسرےانڈیا اوپن انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ میں انہوں نے سلور میڈل جیتا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)