اتراکھنڈ: ’محمد‘ دیپک کو قتل کرنے پر 2 لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والا شخص حراست میں

گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے 'محمد' دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

دیپک کمار۔تصویر بہ شکریہ: انسٹا گرام/ دیپک کمار

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں جم چلانے والے اور باڈی بلڈر دیپک کمار کے قتل کے لیے 2 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار (9 فروری) کو حراست میں لیا ہے۔

‘محمد’ دیپک کے نام سے مشہور دیپک کمار کشیپ گزشتہ ماہ اس وقت سرخیوں میں آئے تھے، جب وہ بجرنگ دل کے اراکین کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہوگئے تھے۔

یہ کارروائی اتوار (8 فروری) کو دیپک کی طرف سے اتراکھنڈ پولیس میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے بعد کی گئی ۔ حراست میں لیے گئے شخص کی شناخت بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ ویڈیو میں وہ دیپک کو 70 سالہ مسلمان دکاندار وکیل احمد کے دفاع میں کھڑے ہونے پر جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر دیپک  کے ذریعے وکیل احمد کا دفاع کرنے والا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدانہیں  ہندوتوا کے حامیوں کی مسلسل دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس) کی دفعہ 351 (3) (موت یا شدید چوٹ پہنچانے کی دھمکی) کے تحت اتوار کی رات دیر گئے ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔

دیپک نے بتایا کہ انہیں یہ دھمکی آمیز ویڈیو سوشل میڈیا پر نظر آیا۔ ویڈیو میں اتکرش سنگھ ماتھے پر تلک لگائے اورہاتھوں میں نوٹوں کا بنڈل پکڑے نظر آتا ہے۔ دیپک کی شکایت کے مطابق، ویڈیو میں سنگھ کو یہ کہتے ہوئے سناجا سکتا ہےکہ ‘جو بھی محمد دیپک کو مارے گا اور اسے سناتن دھرم کا ‘پاٹھ’ پڑھائے گا، اسے 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔’

غور طلب ہے کہ 26 جنوری کو اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں بجرنگ دل کے اراکین  وکیل احمد کو ان کی  دکان’بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سینٹر’ کے نام سے ‘بابا’  لفظ ہٹانے کے لیے ہراساں کر رہے تھے۔ بجرنگ دل کےلوگوں کا کہنا تھا کہ لفظ ‘بابا’ کا تعلق ایک مقامی دیوتا سے ہے، جو مبینہ طور پر ہنومان سے متعلق ہے۔

اس دوران دیپک کمار نے بزرگ شخص کا دفاع کیا تھا۔ جب ان سے ان کا نام پوچھا  گیا،تو انہوں  نے خود کو’محمد دیپک’ بتایا تھا۔ بجرنگ دل والوں کے ساتھ ان کی اس بات چیت کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا، جس کے بعد دیپک نے خوب سرخیاں حاصل کیں، لیکن وہ تنازعات کے مرکز میں بھی آگئے۔

گزشتہ 31جنوری کو، بجرنگ دل کےلوگ دیپک کو ‘سبق سکھانے’ کے ارادے سے جم کے باہر جمع ہوگئےتھے ۔ دیپک فی الحال پولیس کی سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔

اس سے پہلے انڈین ایکسپریس نےاپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے، ایک طبقہ دیپک کی حمایت کر رہا ہے تو دوسرا طبقہ ان کی مخالفت کر رہا ہے۔ دیپک نے اخبار کو بتایا  تھاکہ اس تنازعہ کے بعد ان کے جم کوبڑی تعداد میں لوگ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ پہلے ان کے جم میں 150 ممبران تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر صرف 15 رہ گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا جم کرایہ کی عمارت میں چلتا ہے جس کا ماہانہ کرایہ 40,000 روپے ہے۔

دیپک نے اخبار کو بتایا،’آدھا شہر میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کام پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی  ہے۔’