محکمہ انکم ٹیکس کی تفتیش: بہار سرکار کی بھرتیوں پر نجی کمپنی کا قبضہ، اعلیٰ افسران ملوث

محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق، بہار سرکار کی کنٹریکٹ پر بھرتیوں پر ایک کمپنی کا قبضہ ہے۔ یہ کمپنی ریاست کے اعلیٰ افسران کو رشوت دیتی ہے اور مختلف محکموں میں امیدواروں سے پیسے لے کر بھرتی کرواتی ہے۔ اس انویسٹیگیشن کی پہلی قسط۔

محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق، بہار سرکار کی کنٹریکٹ پر بھرتیوں پر ایک کمپنی کا قبضہ ہے۔ یہ کمپنی ریاست کے اعلیٰ افسران کو رشوت دیتی ہے اور مختلف محکموں میں امیدواروں سے پیسے لے کر بھرتی کرواتی ہے۔ اس انویسٹیگیشن کی پہلی قسط۔

محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے بہار کے چیف سکریٹری کو بھیجے خط  کوایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اتنی  بڑی چھاپے  ماری اور اتنے سنگین الزامات کے بعد بھی ریاست میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ (السٹریشن: پری پلب چکرورتی)

پٹنہ: ٹھیک ایک سال پہلے، جون 2024 میں، پٹنہ میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے اس وقت کے پرنسپل ڈائریکٹر (انویسٹیگیشن) رنجن کمار نے بہار حکومت کے اس وقت کے چیف سکریٹری برجیش مہروترا کو  خط لکھ کر ان کی توجہ ایک بڑے گھوٹالے کی طرف مبذول کرائی تھی۔

پرنسپل ڈائریکٹر نے لکھا کہ اُرمیلا انٹرنیشنل سروس پرائیویٹ لمیٹڈ اور اُرمیلا انفوسالیوشن نام کی دو کمپنیوں نے بہار حکومت کے مختلف محکموں میں کنٹریکٹ پر بھرتیوں پر ‘تقریباً اجارہ داری’ قائم کر لی ہے۔

محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق یہ کمپنیاں پیپر لیک گھوٹالے میں بھی ملوث تھیں۔

پچاس سے زیادہ صفحات پر پھیلے اس خط میں انکم ٹیکس ڈائریکٹر نے بہار حکومت کے اعلیٰ ترین افسران سے لے کر ضلع سطح تک کے متعدد ملازمین کا ذکر کیا ہے، جنہیں یہ کمپنی مبینہ طور پر رشوت، دیوالی پر مہنگے تحائف، سونے اور چاندی کے سکے دیا کرتی تھی تاکہ اس کے توسط سے مختلف محکموں میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں کرا سکے۔

محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق یہ کمپنیاں ان امیدواروں سے 15 ہزار سے 50 ہزار روپے لیا کرتی تھیں۔

محکمہ انکم ٹیکس کے دستاویز

اس خط میں لکھا تھا کہ یہ کمپنیاں ‘بہار حکومت کے مختلف عہدوں کے لیے  دفاتر اور محکموں میں ملازمین مہیا کراتی ہیں’، اور  نوکری پانے والے ‘امیدواروں سے پیسہ لیتی  ہیں۔’

محکمہ انکم ٹیکس نے کمار اویناش اور اس کمپنی کے خلاف ‘سخت کارروائی’ کا مطالبہ کیا تاکہ ‘کنٹریکٹ پر بھرتی کے عمل میں بدعنوانی کو ختم کیا جا سکے اور بھرتی کے عمل کو شفاف بنایا جا سکے۔’

چیف سیکرٹری کو محکمہ انکم ٹیکس کا خط۔

دی وائر کا یہ سلسلہ بہار کے اس سیاہ باب کو اجاگر کرتا ہےکہ نتیش کمار کے دور اقتدارمیں سرکاری بھرتیاں کس قدر بدحال ہوتی چلی گئی ہیں۔

یہ پہلی قسط اس گھوٹالے کے طریقہ کار پر مرکوز ہے۔ اس کے بعد کی قسطیں ان اہم عہدیداروں کے متعلق تفتیش کرتی ہیں، جو اس کمپنی کی مبینہ بددیانتی سے مستفید ہوئے ہیں، اور جنہیں اس کمپنی نے زمین کی سودے بازی میں ناجائز مالی فائدہ پہنچایاہے۔

اس گھوٹالے کے مرکز میں دو کمپنیاں ہیں۔ انکم ٹیکس ڈائریکٹر کے مطابق، ‘کمار اویناش ان دونوں کے مالک ہیں۔ اُرمیلا انٹرنیشنل سروس پرائیویٹ لمیٹڈ میں ان کی 98 فیصد حصہ داری ہے۔’

دراصل، اُرمیلا انٹرنیشنل اُرمیلا انفوسولیوشن کی پیرنٹ کمپنی ہے۔

محکمہ انکم ٹیکس نے 8 فروری 2024 کو کمار اویناش کے دفتر، گھر اور دیگر احاطے پر چھاپہ مارا تھا۔ اُرمیلا انٹرنیشنل کا دفتر راجیو نگر، پاٹلی پترا کالونی، پٹنہ میں واقع ہے۔ اویناش کا گھر پٹنہ کے بیلی روڈ کے قریب امبیڈکر پاتھ پر واقع ہے۔

بیلی روڈ، پٹنہ میں کمار اویناش کا گھر۔ (تصویر: آشوتوش کمار پانڈے)

انکم ٹیکس ڈائریکٹر کے خط میں مختلف لوگوں کے ساتھ کمار اویناش کی وہاٹس ایپ چیٹ منسلک ہے۔ رنجن کمار نے ایک ضبط شدہ ڈائری کا بھی ذکر کیا ہے جس میں متعدد لین دین کا ریکارڈ ہے اور اس میں کمار اویناش کے دستخط موجود ہیں۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے کمار اویناش نے اعتراف کیا کہ ان کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور ضبطی بھی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ‘ انکم ٹیکس کی ڈیوٹی ہے، کہیں بھی ریڈ کر سکتے ہیں۔ اس میں کون سی بڑی بات ہے؟ یہ انکم ٹیکس کا معمول کا کام ہے۔’

اگرچہ انہوں نے دیگر الزامات سے انکار کیا، لیکن دی وائر کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کے الزامات بے بنیاد نہیں ہیں۔

خط میں مذکور چند اہم الزامات؛

بھرتی کے عمل پر شکنجہ

بہار اسٹیٹ الکٹرانکس ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (بیلٹرون) بہار حکومت کا ایک اقدام ہے۔ بیلٹرون کی ویب سائٹ کے مطابق ، یہ ‘بہار حکومت کے مختلف محکموں کو افرادی قوت کی مدد فراہم کرتا ہے’ اور ‘محکموں کی بہتری کے لیے ڈیٹا انٹری آپریٹر، پروگرامر اور دیگر ہنر مند افرادی قوت فراہم’ کرتا ہے۔

محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق کمار اویناش کی کمپنی بیلٹرون کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو متاثر کرتی تھی اور اس طرح اپنے امیدواروں کو مختلف محکموں میں بھرتی کرواتی تھی۔

محکمہ انکم ٹیکس نے بیلٹرون پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

بیلٹرون اکیلا نہیں ہے۔


کئی دیگر محکموں اور ان کے عہدیداروں کے نام محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے ضبط کیے گئے دستاویزوں میں موجود ہیں، جنہیں اُرمیلا انٹرنیشنل نے مبینہ طور پر رشوت اور مہنگے تحائف دیے تھے (ان پر تفصیلی رپورٹ آئندہ قسطوں میں)۔

کمار اویناش نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ تحائف خریدے تھے، لیکن دعویٰ کیا کہ کسی بھی افسر نے انہیں قبول نہیں کیا۔ ‘ہم ان کے ساتھ کام کرتے تھے،لگا گفٹ دینا چاہیے۔ ہم نے تحائف خریدے اور انہیں دینا چاہا، لیکن انہوں نے لیا ہی نہیں، ‘ اویناش نے کہا۔


اویناش کے موبائل فون میں ایک نمبر محفوظ ہے جس کا نام ‘منیش نیو ونیت’ ہے۔ محکمہ کے مطابق اگست 2023 میں ان دونوں کے درمیان پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کمپنی بھرتی کے عمل میں مداخلت کرتی تھی اور پیپر لیک میں بھی ملوث تھی۔

مثال کے طور پر ایک جگہ منیش لکھتے ہیں، ‘بس سر ذرا دھیان رکھیے گا… صاف بولے ہیں ہم کو اگر لیک ہواتو دوبادہ گھر مت آئیے…’

‘کیونکہ سر آؤٹ آف پٹنہ ہیں نیکسٹ پورا ویک… کویشچن کوئی اور سیٹ کرے گا پھر۔’

کمار اویناش نے اعتراف کیا کہ منیش ان کی کمپنی میں کام کرتے ہیں، لیکن دعویٰ کیا کہ یہ بات چیت امیدواروں کے ‘انٹرنل اگزام’ سے متعلق تھی۔

لیکن محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سرکاری بھرتیوں سے متعلق تھا۔

دی وائر نے اُرمیلا انٹرنیشنل کی تحقیقات میں شامل محکمہ انکم ٹیکس کے ایک اہلکار سے بات کی۔ انہوں نے کہا؛


ہم ایسے معاملوں کی مزید تفتیش نہیں کر سکے کیونکہ پیپر لیک کا معاملہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تھا… یہ محکمہ انکم ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر تھا۔ یہ کرپشن کا کیس تھا، جس کی تحقیقات دیگرایجنسیوں کو کرنی تھی۔ لیکن حکومت نے اسے آگے نہیں بڑھایا۔’


لیکن کمار اویناش کا دعویٰ ہے کہ وہ بھرتی کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘ہم ریکروٹمنٹ کرتے ہی نہیں ہیں۔ جو بھی بھرتی ہوتی ہے، ڈپارٹمنٹ خود کراتے ہیں۔ ہم صرف پے رول مینج کرتے ہیں۔’

تاہم، ان کا یہ دعویٰ کمزور نظر آتا ہے۔ ایک میڈیا آرگنائزیشن کو دیے گئے انٹرویو میں کمار اویناش خود کہتے ہیں، ‘ہماری کمپنی فلیکسی مین پاور بزنس کے پورے شعبے میں کام کرتی ہے، جس میں اعلیٰ ہنر مند پیشہ ور افراد جیسے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل پروفیشنلز سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین جیسے سویپر، چپراسی اور ہاؤس کیپر تک کی خدمات شامل ہیں۔’

یہ انٹرویو آگے کہتا ہے؛


اُرمیلا انٹرنیشنل سروسز ‘بہار میں انسانی وسائل فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی اور بالآخر تقریباً 500 کروڑ روپے کا سالانہ کاروبار کرنے لگی ۔’


دوسری بات، اویناش بھول جاتے ہیں کہ پے رول مینجمنٹ بہت اہم کام ہے۔ پے رول کا انتظام کرنے والی کمپنی ملازمین اور تنظیم کے درمیان تعلقات کا تعین کرتی ہے۔

‘پے رول کسی بھی کمپنی اور افرادی قوت کے درمیان تعلق کی وضاحت کرتا ہے۔ ملازم کو اس کی پوزیشن اور تنخواہ کے لحاظ سے سہولیات جیسےآنے جانے، رہنے- کھانے، گاڑی، صحت وغیرہ کے مطابق الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اسے پے رول مینجمنٹ کہتے ہیں،’ پٹنہ کے ایک سینئر سرکاری افسر نے کہا۔

کمار اویناش نے 10 فروری 2024 کو محکمہ کو دیے گئے اپنے بیان میں یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ‘مین پاور سپلائی ‘ یعنی افرادی قوت کی فراہمی کے لیے ان کی کمپنی کا ‘معاہدہ’ بیلٹرون اور مختلف محکموں کے ساتھ ‘ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میرا بہار اسٹیٹ محکمہ صحت کے ساتھ ایک معاہدہ ہے، جس میں تقریباً 3500 ڈیٹا مینجمنٹ یونٹ ہیں… اس کے علاوہ، میرے مختلف ریاستوں کے مختلف محکموں کے ساتھ معاہدے ہیں، جن پر مختلف سروس چارجز ہیں… میں غیر سرکاری تنظیموں کو بھی افرادی قوت فراہم کرتا ہوں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھرتیاں دو طرح سے ہوتی ہیں۔ یا تو ‘پہلے سے کام کرنے والے’ ملازمین کو ‘دوبارہ تعینات کیا جاتا ہے’، اور ‘جہاں ہمیں افرادی قوت خود فراہم کرنی ہوتی ہے، ہماری کمپنی امیدواروں کی اسکریننگ کرتی ہے اور انٹرویو ڈپارٹمنٹ کی طرف سے لیا جاتا ہے اور محکمہ کے ذریعے منتخب کیے گئے امیدواروں کا پے رول ہم مینج کرتے ہیں۔’

یہ واضح ہے کہ وہ مختلف محکموں کو انسانی وسائل مہیا کراتے ہیں۔

کمار اویناش۔

بھرتی کے عمل میں رشوت  

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا دعویٰ ہے کہ بھرتی کے عوض میں کمار اویناش امیدواروں  15ہزار  سےلے کر 50 ہزار روپے تک لیتے ہیں۔

کمار اویناش نے 10 فروری 2024 کو محکمہ کو دیے گئے اپنے بیان میں یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں  نے ہرامیدوار سے پیسے لیےہیں۔

اس کی تصدیق سمستی پور کے اس وقت کے ضلع انفارمیشن آفیسر آشوتوش نندن سنگھ کے محکمہ کو دیے گئے بیان سے بھی ہوتی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے مطابق انہوں نے تصدیق کی ہے کہ کمار اویناش نے پیسے لے کر امیدواروں کی بھرتی کروائی ہے۔

انکم ٹیکس دستاویزوں میں آشوتوش نندن سنگھ کا بیان۔

آشوتوش نندن سنگھ اس وقت دربھنگہ کے ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ28 مارچ 2024 کو محکمہ انکم ٹیکس کو دیے گئے ایک بیان میں آشوتوش نندن سنگھ نے کہا، ‘ہم اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کو اس کمپنی کی معرفت بھرتی کرانا چاہتے تھے۔ وہ (اُرمیلا انٹرنیشنل) امیدواروں سے انتخاب کے لیے 25000 روپے لیتے تھے۔’

اس بیان کے مطابق،  نندن سنگھ نے 2020 میں اپنے چھ امیدواروں کو مدھوبنی میں اور پندرہ امیدواروں کو دربھنگہ میں مختلف محکموں میں بھرتی کروایا۔

آشوتوش نندن سنگھ اور کمار اویناش کے درمیان وہاٹس ایپ پر ہونے والی بات چیت بھی محکمہ کے دستاویزوں میں درج ہے۔

غور طلب ہے کہ14دسمبر 2020 کو آشوتوش نندن نے کمار اویناش کو ایک پیغام بھیجا تھا – ‘36000×15’۔ محکمہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پندرہ طلباء کی بھرتی کے لیے 5,40,000 روپے وصول کیے گئے ۔


اسی طرح 25 اپریل 2021 کا کمار اویناش کو ایک وہاٹس ایپ میسج کہتا  ہے کہ بھرتی کے لیے 60 امیدواروں سے پیسے لیے گئے ہیں۔ اس کی تصدیق آشوتوش نندن سنگھ کی طرف سے محکمہ انکم ٹیکس کو دیے گئے اس بیان سے ہوتی ہے کہ اویناش کو 25000 روپے فی امیدوار کے حساب سے 15,00,000 لاکھ روپے دیے گئے ۔


دی وائر سے بات کرتے ہوئے آشوتوش نندن سنگھ نے بھرتی کے عمل میں اُرمیلا انٹرنیشنل کی مداخلت کو تسلیم کیا، لیکن پیسےکے لین دین سے انکار کیا۔

‘میں نے اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان  والوں کو نوکری دلانے کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا۔ میں نے کسی سے پیسے کی کوئی بھی لین دین نہیں کی۔’

‘میں نے کمار اویناش سے نوکری لگوانے کے لیے اس لیے بات کی کیونکہ میں انہیں کئی سالوں سے جانتا ہوں، جب وہ الیکشن وینڈر ہوا کرتے تھے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘اس پورے واقعہ کے بعد سے میرا اویناش سے کوئی رابطہ نہیں ہے… اس نے مجھے کہا کہ آپ نے جو بھی بیان دیا ہے اس سے پیچھے ہٹ جائیے۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ میں اپنا بیان واپس نہیں لوں گا، اس کے بعد ہم نے کوئی بات نہیں کی۔’

انکم ٹیکس کو 10 فروری 2024 کو دیے گئے ایک بیان میں کمار اویناش نے اعتراف کیا کہ ‘آشوتوش سنگھ کمپیوٹر آپریٹر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ چلاتے ہیں، اور یہ  میرے دوست رہے ہیں، لیکن سال 2022  کے بعد سے میرا ان کے ساتھ مالی تنازعہ ہوگیا… اس سے قبل ہمارے درمیان ان کے انسٹی ٹیوٹ کے تربیت یافتہ لڑکوں کو پورے بہار میں بھرتی کرانے کا معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت 15 ہزار  روپے فی امیدوار بھرتی کرانے کے پلیسمنٹ چارج کے طور پر کیش لیا جاتا تھا۔’

اعلیٰ حکام اور داغدار کمپنیوں کی ملی بھگت

چیف سکریٹری کو لکھے گئے خط میں محکمہ انکم ٹیکس نے کہا کہ ‘تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کمار اویناش سرکاری دفاتر/ اہلکاروں کو سونے اور چاندی کے سکے/ زیورات دے کر غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچانے میں ملوث ہے۔ اس کی تصدیق کمار اویناش کی جانب سے اپنے نام، اپنی کمپنی کے نام اور دیگر افراد کے نام پر کی گئی خریداریوں کی تفصیلات سے ہوتی ہے۔’

دی وائر سے بات کرتے ہوئے کمار اویناش نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ تحائف افسران کے لیے خریدے تھے، لیکن دعویٰ کیا کہ انھوں نے انھیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ‘ہم ان کے ساتھ کام کرتے تھے،لگا دیا جائے۔ لیکن کسی نے لیا ہی نہیں،‘ اویناش نے کہا۔

محکمہ انکم ٹیکس کا الزام ہے کہ افسران نے دیوالی پر مہنگے تحائف لیے تھے۔

محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے چیف سکریٹری کو بھیجے خط  کوایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کمپنی کا اثر اتنا زیادہ ہے کہ اتنے بڑے چھاپے اور اتنے سنگین الزامات کے بعد بھی ریاست میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔

دریں اثنا، یہ کمپنی ترقی کرتی جاتی رہی ہے۔ چھوٹی سی رقم سے شروع ہونے والی اس کمپنی کا کل کاروبار آج 650 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے ۔

کیس کی موجودہ صورتحال

دی وائر نے پٹنہ میں محکمہ انکم ٹیکس کے افسران سے بات کی جو اس معاملے سے وابستہ تھے۔ ان کا کہناہے کہ ان کا کام صرف تفتیش کرنا تھا اور انہوں نے تمام دستاویزابہار حکومت کو مزید کارروائی کے لیے دے دیے تھے۔ اس کے بعد یہ حکومت کی ذمہ داری تھی۔

اس وقت کے چیف سکریٹری برجیش مہروترا نے دی وائر  کو بتایا کہ وہ اب ریٹائر ہوچکے ہیں اور ہمیں اس کیس کے سلسلے میں موجودہ چیف سکریٹری سے رابطہ کرنا چاہیے۔

ہم نے چیف سکریٹری امرت لال مینا کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا، انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے سوالنامہ 28 جولائی کو بہار حکومت کے انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن ڈپارٹمنٹ کو بھجوایا  ہے، ہم نے محکمہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

ہم نے بیلٹرون کو تفصیلی سوال بھیجے ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

(شروتی شرما نے اس رپورٹ میں تعاون کیا۔)