بہار: ایک سال بعد بھی ارریہ وائرل ویڈیو کی جانچ آگے کیوں نہیں بڑھی؟

01:39 PM Mar 29, 2019 | امیش کمار رائے

مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی اس لوک سبھا انتخاب میں ارریہ میں وائرل ویڈیو کا معاملہ اچھال‌کر ووٹ کے پولرائزیشن کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ چونکہ اب تک وائرل ویڈیو کی جانچ رپورٹ نہیں آئی ہے۔

16 مارچ کو زی ہندوستان نے ‘ جیتا مسلمان…اب ارریہ آتنکستان ‘کے نام سے ایک پروگرام نشر کیا تھا/فوٹو :زی ہندوستان /ویڈیو اسکرین شاٹ

پٹنہ: ارریہ لوک سبھا سیٹ کے لئے گزشتہ سال ہوئے ضمنی انتخاب میں راجد امیدوار سرفراز عالم کی جیت‌کے بعد پارٹی حامیوں کے ذریعے مبینہ طور پر لگائے گئے ملک مخالف نعرے کے وائرل ویڈیو کی فارینسک جانچ کی رپورٹ سال بھر بعد بھی نہیں آئی ہے۔ویڈیو کی صداقت کی جانچ  کے لئے پولیس نے ویڈیو چنڈی گڑھ کی فارینسک لیبارٹری میں بھیجا تھا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں پولیس اہلکار چنڈی گڑھ گئے تھے، لیکن رپورٹ ان کو نہیں ملی۔ رپورٹ نہیں ملنے سے جانچ آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔ارریہ ایس ڈی پی او کے ڈی سنگھ نے دی وائر کے ساتھ بات چیت میں کہا، رپورٹ جلد دی جائے، اس کے لئے فارینسک لیبارٹری کو خط لکھا جائے‌گا، تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

غور طلب ہے کہ ارریہ لوک سبھا سیٹ کے لئے ہوئے انتخاب کے ووٹوں کی گنتی 14 مارچ کو ہوئی تھی۔ انتخاب میں راجد امیدوار کی جیت‌کے بعد پارٹی حامیوں نے جشن منایا تھا۔ جشن کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ اس میں دو نوجوانوں کو مبینہ طور پر ملک مخالف نعرہ لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سرفراز عالم کے خلاف بی جے پی کی طرف سے انتخابی میدان میں اترے پردیپ کمار سنگھ نے ارریہ تھانے میں اس کی شکایت درج کرا دی تھی۔شکایت کے بعد حرکت میں آئی پولیس نے ویڈیو میں دکھ رہے دونوں نوجوان سلطان اور شہناز کو گرفتار کر لیا تھا۔ فی الحال دونوں کو ضمانت مل گئی ہے۔

وائرل ویڈیو کی صداقت ثابت ہونے سے پہلے ہی ریاست کے اس وقت کے ڈی جی پی کے ایس دوویدی نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ویڈیو فرضی نہیں ہے۔انہوں نے ایک نیوز چینل کو بتایا تھا کہ راجد امیدوار سرفراز عالم کی جیت‌کے بعد ان کے حامیوں نے جو ملک مخالف نعرے لگائے تھے، وہ ایک دم صحیح ہے۔ ویڈیو فرضی نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ابھی یہ جانچ کا معاملہ ہے اور جانچ ہونے کے بعد سب کچھ صاف ہو جائے‌گا۔ڈی جی پی نے اپنے دعووں کو پختہ ثابت کرنے کے لئے یہ بھی جوڑا تھا کہ جن دو ملزمین کو ملک مخالف نعرہ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، انہوں نے ان الزامات سے انکار نہیں ہے۔

ویڈیو کی صداقت کوپتہ کرنے کے لئے فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز نے آن لائن دستیاب تکنیکوں کی مدد لی تھی، جس میں پہلی نظر میں پتا چلا تھا کہ ویڈیو میں نعرے بازی کرتے جوانوں کے لپ سنک اور ملک مخالف نعرے میچ نہیں کر رہے تھے، جس سے شروعاتی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک مخالف نعرے کو بعد میں ویڈیو میں جوڑا گیا تھا۔


یہ بھی پڑھیں:ارریہ : کیا ہے ’پاکستان زندہ باد‘ والے وائرل ویڈیو کا سچ؟


وہیں، واقعہ کے بعد ملزم نوجوانوں کے رشتہ داروں کی طرف سے ایک نیا ویڈیو جاری کیا گیا تھا۔ رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ یہی ویڈیو اصلی ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں کسی طرح کی ملک مخالف نعرے بازی نہیں تھی۔ بلکہ، اس میں دونوں جوان ‘ کیتنو کربے باپ باپ، تئیو جیتتو للٹیم چھاپ’کہتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔

یہاں یہ بھی بتا دیں کہ ارریہ لوک سبھا سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے ووٹ کے پولرائزیشن کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے اشتعال انگیز بیان دئے تھے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نتیانند رائے نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ راجد سپریمو لالو پرساد یادو کاامیدوار (سرفراز عالم) اگر ارریہ میں جیتتا ہے، تو ارریہ دہشت گرد گروپ آئی ایس آئی ایس کے لئے محفوظ مقام بن جائے‌گا۔

انتخابی نتیجہ کے جشن کے درمیان جب مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی سے جڑا ویڈیو وائرل ہوا، تو بی جے پی رہنما اور حملہ آور ہو گئے تھے۔ بی جے پی کے رکن پارلیامان گوپال نارائن سنگھ نے کہا تھا کہ سرفراز عالم کی جیت‌کے بعد ارریہ، کشن گنج اور کٹیہار آہستہ آہستہ پاکستان بن جائے‌گا۔

گریراج سنگھ نے سرفراز عالم کی جیت کو کٹّرپنتھ کا ابھار مانتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جیت نے کٹر پنتھی نظریہ کو جنم دیا ہے۔آر جے ڈی  نے اس سیٹ سے اس بار کے انتخاب میں بھی سرفراز عالم کو ہی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی نے بھی گزشتہ سال کے ضمنی انتخاب میں اترے پردیپ سنگھ کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی اس لوک سبھا انتخاب میں ارریہ میں وائرل ویڈیو کا معاملہ اچھال‌کر ووٹ کے پولرائزیشن کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ چونکہ اب تک وائرل ویڈیو کی فارینسک رپورٹ نہیں آئی ہے، اس لئے بی جے پی آسانی سے یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ ارریہ میں ملک مخالف عناصر ہیں اور آر جے ڈی  ان کو پناہ دیتا ہے۔ آر جے ڈی  کے لئے اس دعویٰ کو خارج کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ جانچ ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔

(امیش کمار رائے آزاد صحافی ہیں۔)