ہزاروں بیٹیوں کو اجڑنے سے بچانے والی سدھا کو بیٹی سے دور قید میں کیسا لگتا ہوگا…

یوں تو بیٹیاں ماؤں کے بہت قریب ہوتی ہی ہیں،مگر سدھا بھاردواج کی بیٹی ہونا کوئی آسان نہیں۔ بنا کسی جرم کے ڈھائی سال سے زیادہ ہوئے ماں جیل میں ہے اور باہر مائشہ الگ لڑائی لڑ رہی ہے۔

یوں تو بیٹیاں ماؤں کے بہت قریب ہوتی ہی ہیں،مگر سدھا بھاردواج کی بیٹی ہونا کوئی آسان نہیں۔ بنا کسی جرم  کے ڈھائی سال سے زیادہ  ہوئے ماں جیل میں ہے اور باہر مائشہ الگ لڑائی لڑ رہی ہے۔

سدھا بھاردواج اور مائشہ کا گھر۔ (فوٹو: ومل)

سدھا بھاردواج اور مائشہ کا گھر۔ (فوٹو: ومل)

بہت دنوں بعد سدھا بھاردواج جی کے گھر گیا۔ فی الحال فریدآبادواقع ان کے فلیٹ میں ان کی بیٹی رہتی ہے۔ دو کمروں کی چھوٹے سے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی سامنے کتابوں کی الماری پر ہاتھ کا بنا سدھا جی کا چہرہ نظر آیا۔مائشہ نے بتایا کہ یہ نانی ہے۔ کتنا ملتا ہے ماں بیٹی کا چہرہ۔ اس کی نانی کرشنا بھاردواج جو 54 برس میں ہی زندگی پورا کر گئی تھی،22سال میں اقتصادیات پرمضمون لکھ کر عالمی سطح  پر پرخود کوثابت کیاتھا۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ان کے نام پر ہرسال ایک سیمینار ہوتا ہے۔ ان کی تمام کتابیں یونیورسٹی کی لیب میں الگ سے محفوظ کی گئی ہیں۔یوں تو سدھا کی چھتیس گڑھ مکتی مورچہ کے ساتھی اور دوست سب مائشہ کےرابطہ میں ہیں۔ پر نہ جانے کیوں مجھے اس سادے سے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک خالی پن اور اس بیٹی کا اکیلاپن خود میں گھرا محسوس ہوا۔

مائشہ نے مجھے وہ کمرا دکھایا جہاں سدھا جی اپنی نظربندی کے دوران تھی۔ کمرے کے باہر کی بالکنی سے بہت خوبصورت نظارہ تھا۔ اور وہاں بیٹھ کر کافی پینے بہت مزہ آیا۔ مگر سدھا جی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس وقت 28اگست کا 2018 کا وہ دن مجھے یاد آ گیا جب صبح 7:00 بجے ہی پونے پولیس آکر ان کو گرفتار کرکے لے گئی تھی۔ اس کے بعد رات 1:00 بجے تک لمبی قانونی داؤپیچ کی لڑائی چلی اور آخرکار فریدآباد عدالت نے ہریانہ ہائی کورٹ  کے آرڈر کو مانتے ہوئے، سدھا کو گھر میں نظربندی کا آرڈر پاس کیا۔

وہ واپس ان کے گھر پولیس حراست میں لوٹی تھیں۔ تب دیکھا تھا۔ ٹیڑھے دانتوں الی سدھا بالکل پریشان نہیں دکھی تھی۔ ایسے حالات سے تو وہ زندگی بھرگھری رہی ہیں اس بار تھوڑا فرق ہی تھا کہ وہ دفاعی فریق  کی وکیل نہیں تھی بلکہ خود ہی ایک فریق بنا دی گئی تھی۔

ہم سب بھی تب ہی گھر لوٹے تھے۔ اس پورے دن ہم لوگ پولیس گاڑی کے ساتھ دوڑتے رہے۔ دن کے شروع سے ہی، کوئی اور میڈیا تھا یا نہیں مگر ری پبلک چینل کا ضرور ساتھ تھا۔

Sudha-Arnab-copy

آج اسی چینل کے ڈائریکٹر کا نام ہر جگہ ہے۔ اس کے نام کی ہزاروں صفحے کی وہاٹس ایپ چیٹ جگ ظاہر ہے۔ اس نے ایک گمنام چٹھی سے سدھا کو جوڑتے ہوئے ان کے خلاف ایک منفی ماحول بنایا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اس چینل کی ٹی آر پی کیسے بڑھی اور کیسےانسانی حقوق  کے خلاف ایک مہم کا وہ بھی سازشی ہے۔ مگر وہ سرکاری حفاظت میں ہے اور سدھا جیل میں۔

نظربندی کے دوران کورٹ کی ہر تاریخ پر ہم لوگ ان کے فلیٹ کے نیچے آ جاتے تھے۔ مگر سدھا جی سے صرف 27 اکتوبر 2018 کو ہی ملنا ہو پایا۔ ہم گیت گا رہے تھے ہم نعرے دے رہے تھے۔سدھا کو پونے پولیس کے لوگ تیزی سے نیچے لائے اور بالکل سیڑھیوں کے بغل میں کھڑی کار کے اندر لگ بھگ دھکیل دیا تھا۔ بس اتنا ہی ان کو دیکھ پائے تھے۔

بہت ہی سیدھا، موٹا -موٹا سا کچھ سامان فلیٹ میں ہے۔ اس میں سے کئی مہنگی چیزیں جیسے ٹی وی ان کے دوستوں کا ہی دیا ہوا ہے۔ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ سدھا جیسے لوگوں کی ملکیت ان کے لوگ ہوتے ہیں۔ان کا کام ہوتا ہے اور سب سے عظیم الشان ان کی مالا مال نظریاتی شناخت،جس کی وجہ سے چھتیس گڑھ میں لوگ لگاتار احتجاج کرتے ہیں۔

سدھا بھاردواج کئی بیماریوں کے باوجود جیل میں دوسرےقیدیوں کے ساتھ وقت کاٹ رہی ہے، وہاں چھوٹا سا بچہ بھی ہے جو ماں کے ساتھ جیل میں ہے۔ حال ہی میں ان کو مہینے میں5 کتابیں باہر سے مل پائیں، ایسا عدالت نے رحم کیا ہے۔

میں اس لڑکی کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ ماں بیٹی آپس میں بہت جڑی رہی ہے۔ ایسا ہوتا بھی ہے کہ بیٹیاں ماں کے ساتھ کافی جڑی ہوتی ہیں۔مگر سدھا بھاردواج کی بیٹی ہونا بھی کوئی آسان نہیں کیونکہ ان کا خاندان تو بہت ہی بڑا اور متعدد جہتوں والا رہا ہے۔ الگ الگ طرح کے معاشروں کا جھرمٹ۔ اس میں ایک بیٹی کا ہونا دونوں کے لیے ہی ایک اہم اور بڑی بات ہے۔

کئی بار سدھا جیسی ماں اپنی بیٹی کو وقت نہیں دے پاتی رہی اور کتنی ہی بار مائشہ اپنی ماں کے کاموں سے جڑا محسوس نہیں کر پاتی رہی۔ اور اب وہ دونوں اپنی اپنی طرح کی قید میں ہے۔بنا کسی جرم کے ڈھائی سال سے اوپر ہوئے ماں جیل میں ہے۔ جس وقت ایک بیٹی کو اپنی دوست جیسی ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

مائشہ کے بھی بہت سے سپنے رہے ہیں۔ اور اب اس کی زندگی پر بہت بڑا بوجھ آ گیا ہے۔ ماں بنا وجہ جیل میں ہے۔ اور اس کو خودہی سب کچھ نمٹانا ہے۔ ہر کوئی مضبوط ہو ہر کوئی خود ہی ذمہ دار ہو۔ ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔

آدی واسیوں کے بیچ، یونین کا کام، سرکار کے پورے جبر کے بیچ پوری زندگی لگا دینا، بہت کٹھن ہوتا ہے۔ ہر قدم مشکلوں سے بھرا۔ خود کےاپنائے کٹھن اور سادگی والی  زندگی میں ایک بیٹی کے آنے کی خوشی بہت بڑی ہوتی ہے۔

کچھ تو سپنے ضرور رہے ہو ں گے بیٹی کے لیے۔ ہزاروں کی چھت بچانے والی، نہ جانے کتنی بیٹیوں کو اجڑنے سے بچانے والی سدھا کے سماجی کاموں کے علاوہ اس کے من کی یہ گھٹن بھی تواہمیت کی ہے۔ اس کے من کی تکلیف اور چھوٹی  چھوٹی خوشیاں اور پیار بھرے پلوں کی یاد جیل میں آتی تو ہوگی۔ یہ بھی تواہم ہے۔

اور اب اس بیٹی سے دور قید میں سدھا کو کیسا لگتا ہوگا؟ یہ تو شاید وہ دونوں ماں بیٹیاں ہی جانتی ہوں۔ اسی کو سوچتے ہوئے سدھا کو سلام اور مائشہ کو پیار دیتے ہوئے۔ ماں بیٹی کے جلدی ہی ملنے کی تمنا کرتے میں سدھا کے گھر کی سیڑھیوں سے اتر آیا۔

(مضمون نگار سماجی  کارکن ہیں۔)