بنگلورو: کووڈ 19 بیڈ بکنگ گھوٹالے میں بی جے پی ایم ایل اے ستیش ریڈی کا معاون گرفتار

01:37 PM May 28, 2021 | دی وائر اسٹاف

بی جے پی ایم ایل اے ستیش ریڈی کا گرفتار معاون بابو گزشتہ چار مئی کو جنوبی بنگلورو سے بی جے پی ایم پی  تیجسوی سوریہ اور پارٹی کے دیگررہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ بنگلورو میونسپل کارپوریشن  کے اس کووڈ  19 وار روم پہنچا تھا، جہاں سوریہ نے 16 مسلم ملازمین  پرمبینہ کووڈ 19 بیڈ گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

4 مئی کو کووڈ 19 وار روم میں دیگربی جے پی رہنماؤں کے ساتھ تیجسوی سوریہ۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین گریب)

نئی دہلی: بنگلورو سٹی پولیس کےسینٹرل کرائم برانچ نے کووڈ 19 بیڈ بکنگ گھوٹالے کے سلسلےمیں ایم ایل اے ستیش ریڈی کے معاون کو گرفتار کیا ہے۔

فی الحال پولیس حراست میں رکھے گئے بابو (34سال)4 مئی کو جنوبی  بنگلورو سے بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریہ، بومان ہلی سے ایم ایل اے ستیش ریڈی، بساونگڑی ایم ایل اے روی سبرامنیا اور چک پیٹ سے ایم ایل اے ادے گردھاچر کے ساتھ بنگلورو میونسپل کارپوریشن (بی بی ایم پی)کے اس کووڈ 19 وار روم میں پہنچے تھے، جہاں 16 مسلم ملازمین پر اس مبینہ گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

گزشتہ چار مئی کو بی جے پی ایم پی  تیجسوی سوریہ نے الزام  لگایا تھا کہ ملک  اور کرناٹک میں کووڈ 19کے معاملے بڑھ رہے ہیں، ایسے وقت میں فرضی ناموں سے بنگلورو شہر میں کم سے کم 4065 بیڈ‘روک کر’رکھے گئے ہیں۔ ان بستروں کو بنا علامتوں  والےمریضوں  کے نام پر روک کر رکھا گیا ہے، جو کہ گھر پر آئسولیشن میں ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایسے لوگوں نے دھوکے سے اسپتالوں میں بیڈ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔الزام  لگاتے ہوئے تیجسوی سوریہ نے مسلم کمیونٹی کے 16 لوگوں کا نام لیا تھا اور یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ وہ شہر میں کووڈ وار روم کو کیوں کنٹرول کر رہے ہیں؟

گزشتہ چار مئی کو اس سے متعلق  ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور سوریہ کے ذریعےان کا نام پڑھنے کے بعد سبرامنیا نے بی بی ایم پی حکام کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا، ‘کیا آپ نے ان لوگوں کو مدرسے کے لیے یا میونسپل(بی بی ایم پی)کے لیےمقررکیا ہے؟’

اس پر بی جے پی ایم ایل اے ستیش ریڈی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا تھا کہ انہیں کام پر رکھنے کے پیچھے ایک ارادہ تھا اور یہ لوگ اس کے پیچھے ہیں۔

بہرحال ستیش ریڈی کے معاون بابو کو گرفتار کرنے کے بعد بنگلورو پولیس نے کہا کہ اسے 24 مئی کو بیڈ کو بلاک کرنے اور مریضوں کو زیادہ قیمت پر بیچنے میں ان کے رول کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ سماجی  کارکن نیتراوتی اور روہت کمار کے ذریعے ریکیٹ چلاتا تھا، جنہیں کچھ وقت  پہلے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

دی ہندو کے مطابق، جہاں نیتراوتی اور روہت کو اپنے وہاٹس ایپ نیٹ ورک کے توسط سے بیڈ کے لیے گراہک ملتے تھے تو بابو بستر کی دستیابی  کے سلسلے میں جانکاریاں جمع کرتاتھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ بابو لوگوں کے معاشی  حالات کو دیکھتے ہوئے ان سے الگ الگ قیمت وصول کرتا تھا۔ وہیں وہ نیتراوتی اور روہت کو اس کے لیے کمیشن دیتا تھا، جبکہ وہ مریضوں سے جمع  کیے گئے پیسےکا بڑا حصہ خود رکھتا تھا۔

بی جے پی ایم پی  سوریہ کی چھاپےماری سے کچھ دن پہلے بی جے پی ایم ایل اے ستیش ریڈی اور ان کےحامیوں(جس میں بابو بھی شامل تھا)نے اسی وار روم میں آئی اے ایس افسر وی یشونت پر حملہ کیا تھا۔

بنگلورو پولیس نے کہا کہ انہوں نے وار روم کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی اور اسٹاف ممبروں  اور ڈاکٹروں کے بیان درج کیے، جس سے بابو کے جرم کا پتہ چلا۔ بابو کے علاوہ پولیس پہلے ہی پانچ دیگر لوگوں کو گرفتار کر چکی تھی، جو نیتراوتی، روہت، وینکٹ سبا راؤ، منجوناتھ اور پنیت ہیں۔

گزشتہ 4 مئی کو سوریہ  نے کووڈ وار روم میں کام کر رہے 16مسلمانوں کے نام پڑھ کر ان کی تقرری  پر سوال کھڑا کر دیا تھا اور ہنگامہ کیا تھا۔انہوں نے الزام  لگایا تھا کہ بنگلورو کے اسپتالوں نے پیسے کمانے کے لیے نقلی ناموں سے بستروں کو بلاک کیا ہے، جبکہ ایسے وقت میں بستروں کی شدید قلت تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بنگلورومیونسپل کے حکام  نے نجی نرسنگ ہوم اور اسپتالوں کے ساتھ مل کر بیڈ بلاک کر دیا اور انہیں بہت زیادہ فیس کے لیے مختص کیا۔

ایک ساتھ کئی ٹوئٹ کرتے ہوئے کرناٹک کانگریس رہنماشری وتس نے پوچھا کیا کہ کیا اب تیجسوی سوریہ آگے آکر اس گرفتاری کے بارے میں بتائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ستیش کے معاون کی گرفتاری سے اب سوریہ کی سازش کا انکشاف ہو گیا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا، ‘کچھ دن پہلے تیجسوی سوریہ کی(اسپتال میں)چھاپےماری کے دوران بی جے پی ایم ایل اے ستیش ریڈی اور ان کے حامیوں نے اسی(کووڈ 19)وار روم میں آئی اے ایس افسر یشونت پر حملہ کیا تھا۔ آئی اے ایس یشونت نے ایم ایل اے کے ایجنٹوں کو رنگےہاتھ پکڑا تھا۔ ستیش کے معاون کی گرفتاری سے تیجسوی سوریہ کی سازش اب سامنے آ گئی ہے۔’

معلوم ہو کہ بنگلورو میں مبینہ بیڈ گھوٹالے کےالزامات کو لےکر کرناٹک میں اپوزیشن کانگریس نے صوبے میں مقتدرہ  بی جے پی کو نشانہ  بنایا تھا اور یہ الزام  لگاتے ہوئے پارٹی ایم پی  تیجسوی سوریہ  اور ایک پارٹی ایم ایل اے کی گرفتاری کی مانگ کی تھی کہ وہ  شہر میں کووڈ 19مریضوں کے لیے اسپتال کے بستروں کو بلاک  کرنے کے گھوٹالے کے پیچھے ہیں۔

کانگریس رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ  سدھارمیا نے ٹوئٹ کر بی جے پی رہنما تیجسوی سوریہ کی‘غیرحساس ’ اور معاملے کو ‘فرقہ وارانہ’ بنانے کے لیے مذمت  کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا، ‘کرناٹک بی جے پی ایم پی  تیجسوی سوریہ  کی جانب سے اس مدعے کو فرقہ وارانہ بنانا اصل میں بدقسمتی اور ان کاغیرحساس  رویہ  ہے۔ کھانے  سے لےکر موت  تک بی جے پی رہنما کچھ کمیونٹی  کو نشانہ بناکر سیاسی فائدہ  لینا چاہتی ہے۔’

حالانکہ معاملے کو فرقہ وارانہ  رنگ دینے کے سوال پر انڈیا ٹو ڈے سے بات چیت میں تیجسوی سوریہ نے کہا تھا، ‘میں نے کوئی بھی مذہبی نام نہیں لیا۔ میں نے کبھی کوئی فرقہ وارانہ  بیان نہیں دیا۔ صرف کچھ نام پڑھنے کے بعد میں نے پوچھا تھا کہ ان لوگوں کو کیسے نوکری پر رکھا گیا۔’

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)