ہوگلی ضلع سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن امت نندی کو 14 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ ایک سب-انسپکٹر کی شکایت پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں فیس بک پوسٹ کا ذکر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نندی نے ایک ٹریفک پوسٹ پر لگے سڑک تحفظ کے پیغام کا مذاق اڑایا تھا۔
نئی دہلی:سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پوسٹ کے سلسلے میں ایک شخص کی
گرفتاری کے مغربی بنگال پولیس کے فیصلے نے ریاست میں من مانی کارروائی اور منتخب انداز میں قانون نافذ کرنے کے الزامات کو پھر سے ہوا دے دی ہے۔ حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ جس فوجداری قانون کو پرانے سیڈیشن قانون کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اسے اب آن لائن اظہار رائے اور اختلاف کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ14 فروری کو ہوگلی ضلع کے چنسورہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن امت نندی کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں ایک فیس بک پوسٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نندی نے مشرقی میدنی پور ضلع کے کانتھی تھانہ حلقہ میں واقع ایک ٹریفک پوسٹ پر لگے سڑک تحفظ کے پیغام کا مذاق اڑایا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق، پوسٹ میں لکھا تھا،’گاڑی کھائے، مد چلابین نا (گاڑیاں مت پیجیے اور شراب چلائیے)،‘ جو پولیس کے معروف نعرے ’مد کھائے گاڑی چلابین نا (شراب پی کر گاڑی نہ چلائیں)‘ پر ایک طنزیہ پوسٹ تھا۔ یہ پوسٹ 27 جنوری کو ڈالی گئی تھی اور اب ڈیلیٹ کی جا چکی ہے۔
یہ ایف آئی آر 28 جنوری کو کانتھی تھانہ حلقہ میں سوشل میڈیا سے متعلق معاملوں کو دیکھنے والے سب-انسپکٹر دلیپ گپتا نے درج کرائی تھی۔ اس میں پوسٹ کو ضلع پولیس کی جانب سے اپنے آفیشیل پیج پر جاری عوامی بیداری مہم سے متعلق پیغام کی’تحریف و تنسیخ‘ قرار دیا گیا ہے۔
دی وائر سےبات چیت میں گپتا نے کہا،’یہ پوسٹ پولیس کے خلاف چلائی جا رہی ایک منظم بدنامی مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے ایک سرکاری عوامی آگاہی پوسٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ ان کے کئی فالوورز ہیں، اس لیے یہ پوسٹ کافی شیئر کی گئی۔ چونکہ یہ واقعہ پولیس کی شبیہ کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ان کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔‘
نندی پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152، 197(1)(ڈی)(جو ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد یا سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی جھوٹی معلومات کی تشہیر سے متعلق ہے)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 356(2) (ہتک عزت) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے سنگین دفعہ 152 ہے، جسے مؤثر طور پر تعزیرات ہند کی بغاوت کی دفعہ 124اےکے متبادل کے طور پرمتعارف کرایا گیا ہے۔
یہ دفعہ ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے مبینہ افعال سے متعلق ہے، جس کے تحت عمر قید یا سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ جرم قابل دست اندازی اور غیر ضمانتی ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ میں ’غلط، غیر مصدقہ اور بے بنیاد الزامات‘عائد کیے گئے ہیں، جن کا واضح مقصد’پولیس کی عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچانا، پولیس کی ساکھ اور عوامی شبیہ کو نقصان پہنچانا اور عام لوگوں میں پولیس انتظامیہ کے تئیں عدم اعتماد اور منفی تاثر پیدا کرنا‘ ہے۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس پوسٹ کا ’پولیس اور عوام کے تعلقات اور لاء اینڈ آرڈر پر اورعوام کے بھروسے پر منفی اثر ‘پڑے گا۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس پوسٹ کو شیئر کرنے والی ایک خاتون کانٹینٹ کریٹر کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل ہے، لیکن انہیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ فی الحال، یہ پوسٹ کسی بھی ملزم کے فیس بک ٹائم لائن پر نظر نہیں آ رہی ہے۔
سائنسی سوچ کو فروغ دینے کے لیے معروف نندی اکثر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تنقید کرتے رہے ہیں، اور کبھی کبھار بائیں بازو کی جماعتوں کی بھی۔
حال کے دنوں میں انہوں نے کولکاتہ کے ایک گودام میں لگی
آگ، جس میں 21 افراد کی موت ہوئی تھی، اور اپنی آنجہانی ماں کی آنکھوں کے قرنیہ کے عطیے میں مدد کرنے والے ایک سماجی کارکن کی
گرفتاری کے حوالے سے ریاستی حکومت کی کارروائیوں پر مسلسل پوسٹ کیے تھے۔
گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس (اے پی ڈی آر) نے کہا ہے کہ یہ قدم اس وسیع پیٹرن کا حصہ ہے، جس میں تنقید کو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ فرض کیا جاتا ہے۔
اے پی ڈی آر کے ریاستی سکریٹری رجت سُر نے الزام لگایا،’بی جے پی مقتدرہ تمام ریاستوں میں سوشل میڈیا کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے تاکہ حکومت یا رہنماؤں کی مخالفت کرنے والوں کی نشاندہی کر کے انہیں سزا دی جا سکے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ترنمول حکومت نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت اختلافی آوازوں کو سامنے نہیں آنے دے رہی۔ ہم میں سے جو ایس آئی آر کی مخالفت کر رہے ہیں، سب کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے ہیں۔ ‘
سُر نے یہ بھی الزام لگایا کہ مغربی بنگال کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کی ہدایت پر میٹا نے ان کا اپنا فیس بک اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا ہے۔
مغربی بنگال میں متعدد لوگوں کے لیے یہ گرفتاری 2012 کے اس واقعے کی یاد تازہ کرتی ہے، جب جادوپور یونیورسٹی کے پروفیسر امبیکیش مہاپاترا کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر طنزیہ کارٹون فارورڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ اس بات کی علامت بن گیا تھا کہ کس طرح فوجداری قانون کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ برسوں تک چلی قانونی لڑائی کے بعد، جنوری 2023 میں مہاپاترا کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔
مہاپاترا نے دی وائر سے کہا، ’ہماری ریاست میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، اس لیے پولیس سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی احترام نہیں کرتی۔ وہ وزیر اعلیٰ کی ذہنیت کو جائز ٹھہرانا چاہتے ہیں اور اظہار رائے کی آزادی چھین لینا چاہتے ہیں۔‘ اس پورے معاملے سے متعلق ان کے تین معاملے اب بھی زیرالتوا ہیں۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب عدلیہ سوشل میڈیا سے متعلق فوجداری مقدمات میں احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلےکو برقرار رکھا تھا، جس میں آن لائن سیاسی تنقید کے معاملوں میں من مانی گرفتاری روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات طے کیے گئے تھے۔ اس آرڈر کے تحت شکایت کی پیشگی جانچ اور تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
نندی کو 23 فروری کو ایک بار پھر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے
یہاں کلک کریں۔