ازبکستان کی حکومت نے وزیراعظم نریندر مودی کو غیر ملکی رہنماؤں کے لیے اپنا سب سے بڑا اعزاز دیا ہے۔ اب تاریخ کی کچھ بے چینی فطری ہے۔ کیونکہ ہندوستان میں بابر کا نام سنتے ہی پانچ سو سال پرانی تلواریں نیام سے باہر آنے لگتی ہیں۔ لیکن خارجہ پالیسی میں وہی تلوار کسی دوسرے ملک پہنچتے پہنچتے گلدستہ بن جاتی ہے۔

ازبکستان کا اعزاز ’اولی درجالی دوستلک‘ (اعلیٰ ترین درجے کی دوستی کا اعزاز) حاصل کرتے ہوئے وزیراعظم مودی۔ (تصویر: پی ایم او انڈیا)
تاریخ سیاسی جماعت کے دفتر میں دشمن ہوتی ہے تو وزارت خارجہ پہنچتے ہی مشترکہ وراثت کا چوغہ اوڑھ لیتی ہے۔ تاریخ بڑی ہی ڈھیٹ، بدکردار اور موقع پرست ہے۔ اسے جتنا بھی درسی کتاب میں سیدھا کرکے بٹھا دیجیے، موقع ملتے ہی نہ جانے کب کسی سرکاری تقریب میں پہنچ جاتی ہے اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر پوری مکاری سے مسکرانے لگتی ہے۔
ہندوستان میں بابر کا نام سنتے ہی پانچ سو سال پرانی تلواریں نیام سے باہر آنے لگتی ہیں؛ لیکن ازبکستان پہنچیے تو ہنہناتے گھوڑے پر سوار وہی بابر ایک یادگار کی شکل اختیار کرکے کنکھیوں سے تاکتا نظر آتا ہے۔ تاریخ کو فقیروں کو خاک سے کبھی نسبت نہیں رہتی۔ وہ تو ہمیشہ تخت سلیمانی پر اتراتی ہے۔
ابھی جو ہندوستان میں عداوت کی وجہ بنا ہوا تھا، ازبکستان میں دوستی اور محبت کا ہم شکل بنتا جا رہا ہے۔
اگر آپ کو یقین نہ آئے تو جدید ازبکستان کا یہ معاملہ دیکھ لیجیے، جہاں ازبکستان کی حکومت نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے گلے میں غیر ملکی رہنماؤں کے لیے اپنا سب سے بڑا اعزاز ’اولی درجالی دوستلک‘ (اعلیٰ ترین درجے کی دوستی کا اعزاز) پہنا دیا۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے 30 اگست 2026 کو یہ اعزاز دیا اور مودی نے اسے ہندوستان کے 140 کروڑ عوام اور دونوں ملکوں کی ’صدیوں پرانی دوستی اور مشترکہ وراثت‘ کو معنون کیا۔
اب تاریخ کا کچھ بے چین ہونا فطری ہے۔ کیونکہ گھریلو سیاست میں تاریخ تلوار ہے؛ لیکن خارجہ پالیسی میں وہی کسی دوسرے ملک پہنچتے پہنچتے گلدستہ بن جاتی ہے۔ تاریخ بھی اب سمجھنے لگی ہوگی کہ سیاست کی کیمسٹری حیرت انگیز ہے۔ بابر میں ذرا سا یورینیم ملا دو تو تاریخ فوراً اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
بابر 1483 میں اندیجان، وادیٔ فرغانہ میں پیدا ہوا تھا۔ یہی وہ خطہ ہے جو آج ازبکستان میں واقع ہے۔ وہاں کا سرکاری سیاحتی ادارہ بابر کے لیے یادگار، عجائب گھر اور پارک دکھاتا ہے اور اسے اپنی ثقافتی میراث کے ایک قابل فخر کردار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ازبک حکومت نے اسی سال ویلنٹائن ڈے یعنی 14 فروری 2026 کو اس کی سالگرہ کے موقع پر باقاعدہ اسے ’عظیم شاعر، سپہ سالار اور سیاستدان‘ قرار دیا۔ہندوستان کی بعض سیاسی تقریروں میں یہی نام ایک تاریخی گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی کیا قیامت ہے کہ بیچارے تاریخ کی نوکری دونوں ملکوں میں الگ الگ ہے۔ بابر وہاں قابل فخر ورثہ ہے اور یہاں کئی پلیٹ فارموں پر حملہ آور۔ اور بیچارے بابر کو شاید دونوں تقرری کے خطوط کبھی ملے ہی نہیں۔ لیکن تاریخ یہ بھی جانتی ہے کہ جو بابر دہلی یا ایودھیا میں پانچ سو سال پرانا ملزم ہے؛ تاشقند پہنچتے پہنچتے اس کی کیس فائل ’تہذیبی تعلقات‘ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ بھی کس کو معلوم ہے کہ ’نانی یاد دلا دیں گے‘ جیسے محاورے استعمال کرنے والے محب وطن لوگوں کو سب سے پہلے بابر ہی نے نانی والا محاورہ دیا تھا۔ بابر کو اپنی نانی پر بہت فخر تھا، جن کے بارے میں بابر نے اپنی کتاب ’بابرنامہ‘ میں لکھا ہے: ’سوجھ بوجھ اور تدبیر لڑانے میں شاید ہی کوئی میری نانی کا مقابلہ کر سکے!‘
اصل میں ’بابر کا ملک‘ کہنا بھی ایک دلچسپ تاریخی شارٹ کٹ ہے۔ کیونکہ بابر تو خود ہندوستان ہی کو اپنا وطن مانتا تھا اور یہی بات اس نے ’بابرنامہ‘ میں لکھی ہے۔
اور جن ازبک شیبانیوں سے بابر لڑا، انہوں نے ہی 1501 میں اسے سمرقند سے نکال باہر کیا تھا۔ یعنی جس جدید ملک کو ہم سہولت کے لیے ’بابر کا ملک‘ کہہ رہے ہیں، اسی نام سے وابستہ تاریخی ازبک طاقت کبھی بابر کی دشمن بھی تھی۔
اگر تاریخ اتنی صاف اور سادہ ہوتی تو ٹی وی چینلوں کا آدھا کاروبار بند ہو جاتا۔ مگر گھریلو سیاست کو اتنی باریکی کون سمجھائے؟ کیونکہ وہاں تاریخ شجرۂ نسب نہیں، بارود کا ڈھیر ہے۔
کسی ہندوستانی مسلمان کو سیاسی طنز میں ’بابر کی اولاد‘ کہہ دینا آسان ہے؛ لیکن تاشقند اترتے ہی بابر کا شجرۂ نسب امیگریشن کاؤنٹر پر جمع کرانا ہی پڑتا ہے۔ وہاں سامنے صدر مرزیایوف ہیں، سرخ قالین ہے، تجارت ہے، یورینیم ہے، اہم معدنیات ہیں، یو پی آئی ہے، ادویات ہیں، تعلیم ہے، سیاحت ہے اور میز کے بیچوں بیچ تاریخ نہیں بلکہ قومی مفاد بیٹھا ہے۔
اس سفر میں ہندوستان اور ازبکستان نے اپنے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘ تک بلند کیا، 2030 تک ’دو طرفہ تجارت‘ کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا، طویل مدتی یورینیم سپلائی کے اارینجمنٹ پر آگے بڑھنے کی بات کی اور کان کنی، اہم معدنیات، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، دفاع، صحت، تعلیم، آیوروید اور سیاحت تک تعاون کو وسعت دی۔
اگر تاریخ اجلاس میں گھس کر یہ کہتی کہ ’پہلے 1526 کا حساب کیجیے‘ تو خارجہ سکریٹری شاید نہایت شائستگی سے اسے ویٹنگ روم میں بٹھا دیتے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ واپس آتے ہی سیاستدان اس حساب کو کرنے ضرور بیٹھ جاتے ہیں۔

30 اگست 2026 کو ازبکستان میں ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کی تصویر۔ (فوٹو: پی ایم او انڈیا)
سفارت کاری کی یہی خوبصورتی ہے۔ جو تاریخ گھر میں بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، وہی بیرون ملک ’سولائزیشنل ٹائز‘ بن جاتی ہے۔
یہاں اسد الدین اویسی کا طنز اپنی جگہ دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کی وادیٔ فرغانہ سے بابر ہندوستان آیا تھا، وہی ملک اب مودی کو اعزاز دے رہا ہے؛ جو لوگ بابر کے نام پر اتنی گالیاں دیتے رہے، انہیں اس پر غور کرنا چاہیے۔ اس میں تھوڑی سیاسی شرارت ہے؛ لیکن شرارت اکثر اس الماری کی چابی نکال لاتی ہے جس میں شدید منافقت بند ہوتی ہے۔
مگر مودی کا ازبک اعزاز نہ غلط ہے، نہ متضاد خارجہ پالیسی۔
وزیراعظم کو بالکل وہاں جانا چاہیے، دوستی بڑھانی چاہیے، یورینیم حاصل کرنا چاہیے، بازار کھولنا چاہیے، وسطی ایشیا کے ساتھ رابطے اور کنیکٹیویٹی بڑھانی چاہیے۔ ملک پانچ سو سال پرانی ناراضگی کی بنیاد پر خارجہ پالیسی بنائے تو اسے چاہیے کہ وزارت خارجہ بند کرکے اس کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ کو دے دے۔
طنز اعزاز لینے میں نہیں ہے۔ طنز دو لغت رکھنے میں ہے۔
ایک گھریلو لغت ہے، جس میں بابر حملہ آور ہے، مغل توہین کی علامت ہیں اور تاریخ کا کام موجودہ شہریوں کے نسب کی جانچ کرنا ہے۔ دوسری سفارتی لغت ہے، جس میں اسی خطے کے ساتھ ’گہری جڑوں والے تہذیبی تعلقات‘، ’مشترکہ وراثت‘ اور ’صدیوں پرانی دوستی‘ جیسے الفاظ ہیں۔
وزیراعظم نے اعزاز قبول کرتے ہوئے خود بھی انہی صدیوں پرانے تعلقات اور مشترکہ وراثت کی بات کی۔
گھر میں مشترکہ ورثے کی بات کیجیے تو کچھ لوگوں کو ثقافت خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔ تاشقند میں یہی بات کیجیے تو وہ خارجہ پالیسی بن جاتی ہے۔ یہی ہمارا قومی لطیفہ ہے۔ سرحد پار کرتے ہی اوصاف کا ویزا اور پاسپورٹ کا رنگ بدل جاتا ہے۔
اورنگ زیب تک پہنچتے پہنچتے معاملہ اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے۔ بابر سے ہمایوں، اس سے اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور پھر اورنگ زیب-یعنی جسے ہماری موجودہ سیاسی زبان میں مغل خاندان کا سب سے بڑا ولن بنا دیا گیا ہے-اس کے خاندان کی جڑیں بھی اسی فرغانہ میں جاتی ہیں، جہاں ہندوستان کے وزیراعظم ’دوستی‘ کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کر رہے تھے۔
لیکن تاریخ میں رشتہ داری کی بنیاد پر خارجہ پالیسی طے نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو یورپ کے ممالک کو ایک دوسرے سے بات کرنے سے پہلے دو عالمی جنگوں کے آباؤ اجداد سے اجازت لینی پڑتی۔
سب سے دلچسپ ازبک نقطہ نظر ہے۔ ہندوستان میں ہم بابر کی یاد پر عدالت لگاتے ہیں؛ ازبکستان میں اس کے لیے ایک یادگاری پارک ہے۔ اندیجان میں اس کا گھڑ سوار مجسمہ ہے، میوزیم ہے، اس کی شاعری اور ’بابرنامہ‘ کی یاد موجود ہے۔ وہاں کا قومی سیاحتی پورٹل اس کی شاعری میں ’انسانی وقار، محبت اور شائستگی‘ تک دیکھتا ہے۔
اگر کوئی ہندوستانی ثقافتی جنگجو وہاں پہنچ جائے تو بڑی نظریاتی کشمکش ہوگی۔ پہلے یادگار کی مخالفت کرے یا وہاں سے واپس آنے والے وزیراعظم کے اعزاز پر فخر؟
قوم پرستی میں کبھی کبھی گردن کی ایسی ہی ورزش کرنی پڑتی ہے۔
اصل سوال کسی مسلمان کو ازبکستان بھیجنے کا نہیں ہے؛ ہندوستانی مسلمان ازبکستان سے آیا ہوا کوئی پوسٹل پارسل نہیں ہے۔
کچھ لوگوں کی سیاسی زبان جس ہندوستانی مسلمان کو بار بار بابر کی فرضی نسل میں دھکیلتی ہے، ہماری خارجہ پالیسی اسی بابر کی جائے پیدائش کو ’مشترکہ تہذیبی ورثہ‘ کہہ کر گلے لگاتی ہے۔
یہ دوہرا رویہ اس مسلمان شہری سے زیادہ تاریخ کی توہین ہے۔
وہ شہری یہیں کا ہے۔ بابر پانچ سو سال پہلے کا ہے۔ لیکن سیاست کو موجودہ شہری سے سوال پوچھنے کے لیے مردہ بادشاہ زیادہ سہل معلوم ہوتا ہے۔
کئی بار ایسا لگتا ہے کہ تاریخ سرکاری ملازم بن گئی ہے۔ انتخابات کے دنوں میں اس کا تبادلہ وزارت داخلہ میں ہو جاتا ہے، جہاں وہ شناختی کارڈ چیک کرتی ہے۔ بیرون ملک سفر کا موقع آتے ہی حکم جاری ہوتا ہے اور وہی ملازم وزارت خارجہ پہنچ کر ثقافتی دوستی کی فائل سنبھالنے لگتا ہے۔ تنخواہ وہی، میز الگ۔
اور بابر؟
وہ اپنے ’بابرنامہ‘ میں شاید اس تماشے کی تفصیل بڑی دلچسپی سے لکھتا۔ آدمی خود 1530ء میں مر گیا، قبر کابل میں ہے، جائے پیدائش اندیجان میں ہے، سلطنت ہندوستان میں چھوڑ گیا؛ پانچ سو سال بعد ہندوستانی انتخابات میں اس کے نام پر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، اور اس کی سرزمین پیدائش ہندوستانی وزیر اعظم کو ’اعلیٰ ترین دوستی‘ کا تمغہ عطا کرتی ہے۔
تاریخ نے شاید اس سے بہتر طنز خود کبھی نہیں لکھا۔
مودی جی ایوارڈ لے کر واپس آ جائیں گے۔ یورینیم آئے گا۔ تجارت بڑھے گی۔ یو پی آئی پہنچے گا۔ ممکن ہے ہندوستانی جامعات اور کمپنیاں وہاں مزید پھیلیں۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
لیکن بابر کا بدلہ بھی لیا جا سکتا ہے، اگر کچھ ہندوستانی ٹی وی چینل کو ازبک زبان میں نشریات کے لیے تعینات کر دیا جائے۔
لیکن کبھی اس تمغے کو غور سے دیکھیے گا۔ اس کی چمک میں ایک چھوٹا سا سبق بھی دکھائی دیتا ہے۔ ممالک حال میں چلتے ہیں، ماضی میں صرف سیاسی ایجنڈے چلتے ہیں۔
بابر وہیں رہے گا۔ اندیجان کے عجائب گھر، کابل کی قبر اور تاریخ کی کتاب میں۔ ہندوستان کے مسلمان یہیں رہیں گے۔ ہندوستانی شہری کی طرح۔ اور اگر ہماری سیاست کو پھر بھی ہر اختلاف کے پیچھے بابر ہی نظر آتا رہے، تو مسئلہ بابر کی واپسی نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک 1526ء سے پوری طرح واپس ہی نہیں آئے ہیں!
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں۔)