بابری مسجد انہدام معاملے میں کلیان سنگھ کو پیش کرنے کے لئے سی بی آئی نے دی عرضی

04:02 PM Sep 10, 2019 | دی وائر اسٹاف

بی جے پی کے سینئر رہنما کلیان سنگھ حال ہی میں راجستھان کے گورنر کے عہدے سے ہٹے ہیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ چونکہ اب کلیان سنگھ گورنر کے عہدے سے ہٹ چکے ہیں اس لئے بابری مسجد انہدام معاملے میں ان کے خلاف کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔

کلیان سنگھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سی بی آئی نے لکھنؤ کی اسپیشل سی بی آئی کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ اور سابق گورنر کلیان سنگھ کو بابری ڈھانچہ گرائے جانے کے معاملے میں مقدمہ کا سامنا کرنے کے مقصد سے طلب کرنے کی گزارش  والی عرضی سوموار کو دی۔ عدالت ایودھیا میں چھے دسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھانچہ گرانے کی سازش کے لئے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، بی جے پی کے سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی، اما بھارتی اور دیگر ملزمین کے مقدمہ کی شنوائی  کر رہی ہے۔

عدالت نے سی بی آئی سے جانکاری لی کہ کلیان سنگھ کیا اب گورنر کے آئینی عہدے پر ہیں۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کی کارروائی چونکہ روزانہ کی بنیاد پر چل رہی ہے اس لئے سی بی آئی کی عرضی پر 11 ستمبر 2019 کو سماعت ہو سکتی ہے۔ عرضی پیش کرتے ہوئے سی بی آئی نے کہا کہ کلیان سنگھ کے خلاف 1993 میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔

ابھی تک کلیان سنگھ ملزم کے طور پر مقدمہ کی کارروائی میں نہیں لائے جا سکے کیونکہ ان کو گورنر ہونے کی وجہ سے آئین کے تحت خصوصی حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے حالانکہ سی بی آئی کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ جب کلیان سنگھ گورنر نہیں رہیں‌گے تو ان کو ملزم کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ سنگھ حال میں راجستھان کے گورنر کے عہدے سے ہٹے ہیں۔ گورنر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد کلیان سنگھ نے دوبارہ بی جے پی کی رکنیت لی ہے۔ گزشتہ سوموار کو وہ پارٹی میں شامل ہوئے۔

سی بی آئی نے اپنی عرضی میں کہا کہ سنگھ کی  تقرری تین ستمبر 2014 کو گورنر کے عہدے پر ہوئی تھی اور ان کی پانچ سال کی مدت کار پوری ہو گئی ہے۔غور طلب ہے کہ ایودھیا میں 6 دسمبر، 1992 کو متنازعہ ڈھانچہ کی مسماری کے واقعہ سے متعلق دو مقدمے ہیں۔ پہلے مقدمے میں نامعلوم ‘کار سیوکوں’کے نام ہیں جبکہ دوسرے مقدمے میں بی جے پی رہنماؤں پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔

19 اپریل، 2017 کو سپریم کورٹ کے جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمن کی بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے ملزمین کو بری کئے گئے فیصلے کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے دائر اپیل کو منظوری  دےکر اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی سمیت 12 لوگوں کے خلاف سازش کے الزامات کو بحال کیا تھا۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنی غیر معمولی آئینی اختیارات  کا استعمال کرتے ہوئے رائے بریلی اور لکھنؤ کی عدالت میں زیر التوا مقدموں کو ملانے اور لکھنؤ میں ہی اس پر سماعت کا حکم دیا تھا۔کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ معاملے کی کارروائی روزانہ  ہواور دو سالوں میں پوری کی جائے۔

بنچ نے کہا تھا کہ راجستھان کے گورنر ہونے کے ناطے معاملے کے ایک ملزم کلیان سنگھ کو آئینی حفاظت یا بچاؤ حاصل ہوگا، لیکن جیسے ہی وہ عہدہ چھوڑتے ہیں ان کے خلاف اضافی الزام دائر کئے جائیں‌گے۔ سنگھ ستمبر میں گورنر کے عہدے سے ہٹیں‌گے۔ گزشتہ سال 30 مئی کو اسپیشل سی بی آئی نے بی جے پی کے سینئر ہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 12 لوگوں کے خلاف الزام طے کئے تھے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)