متنازعہ زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج، ہندو فریق کو ملے گی زمین: سپریم کورٹ

بابری مسجد-رام جنم بھامی تنازعہ: رام جنم بھومی نیاس کو ملے گا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانی ہوگی ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔

بابری مسجد-رام جنم بھامی تنازعہ: رام  جنم بھومی نیاس کو ملے گا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانی ہوگی ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔

فوٹو: وکی پیڈیا/ رائٹرس

فوٹو: وکی پیڈیا/ رائٹرس

نئی دہلی :کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعہ  پر اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیاہے۔متنازعہ زمین  پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ رام  جنم بھومی نیاس کو 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق ملے گا ۔وہیں سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔

مندر کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر ٹرسٹ بنانا ہوگا اور اس ٹرسٹ میں نرموہی اکھاڑہ کا ایک ممبر شامل ہوگا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، سی جے آئی نے پانچ ججوں کی آئینی  بنچ کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا  کہ شیعہ وقف بورڈ کی عرضی کو خارج کر دیا گیا ہے۔

سی جے آئی  نے کہا تھا کہ، اے آیس آئی  کی جانچ کو دھیان میں رکھتے ہوئے کورٹ یہ فیصلہ لے رہا ہے۔ مسجد کب بنی، کس نے بنوائی، صاف نہیں ہوا۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا۔ لوگوں کے عقائد کو دھیان میں رکھتے ہوئے – جو مسجد میں نماز پڑھتے تھے اور پوجا کرنے والوں کو بھی دھیان رکھتے ہوئے۔

چیف  جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کورٹ کے لیے تھیولاجی میں جانامناسب  نہیں۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاملے کے ایک فریق رام جنم بھومی(رام للا)قانونی فرد نہیں ہیں۔

عدالت نےنرموہی اکھاڑا کی عرضی  بھی خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی بتایا کہ اےایس آئی  نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متنازعہ  زمین کے نیچے مندر تھا۔ انہوں نے کہا، ‘اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ مندر گراکر مسجد بنائی گئی تھی۔’

انہوں نے آگے بتایا کہ یہ مسلم گواہوں نے بھی مانا کہ وہاں دونوں فریق  پوجا کیا کرتے تھے۔

سی جے آئی نے کہاکہ،اے ایس آئی  کی رپورٹ کے مطابق خالی زمین پر مسجد نہیں بنائی گئی تھی۔ ساتھ ہی یہ ثبوت پیش کئے گئے کہ ہندو باہری احاطے میں پوجا کیا کرتے تھے۔چیف جسٹس نے کہا – سوٹ 5 تاریخ  کی  بنیاد پر ہے، جس میں سفر  کا تذکرہ  ہے۔ ‘سیتا رسوئی’ اور ‘سنگھ دوار’ کا ذکر کیا گیا ہے۔

سی جے آئی نے کہا – سنی وقف بورڈ نے زمین پر مالکانہ حق مانگا ہے۔ سنی وقف بورڈ کے لیے پرامن  قبضہ دکھانا ناممکن ہے۔ سنی بورڈ کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر سےمسمار کیے جانے تک نماز پڑھی جاتی تھی۔ باہری احاطے میں ہندوؤں کے ذریعے  پوجا کا ایک ہمنواپیٹرن تھا۔ دونوں مذہب  کے ذریعے  پرامن  پوجا یقینی بنانے کے لیے ایک ریلنگ کا قیام کیا گیا۔

سی جے آئی نے کہا – 1856-57 سے پہلے اندرونی احاطے میں ہندوؤں پر کوئی روک نہیں تھی۔ 1856-57 کی جد وجہد نے پر امن  پوجا کی اجازت دینے کے لیے ایک ریلنگ کا قیام  کیا تھا۔ سی جے آئی نے کہا – مسلمانوں کا باہری احاطے پر حق نہیں رہا۔ سنی وقف بورڈ یہ ثبوت نہیں دے پایا کہ یہاں اس کا حق تھا۔ سی جے آئی نے کہا – ہم ثبوتوں کی  بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔

سی جے آئی نے کہا – مسلمانوں کو مسجد کے لیے دوسری جگہ ملے گی۔سپریم کورٹ نے کہا –مرکزی حکومت تین مہینےمیں منصوبہ تیار کرے گی۔ منصوبےمیں بورڈ آف ٹرسٹی کی تشکیل  کی جائے گی۔

سی جے آئی نے کہا – مسلم فریق  ثابت نہیں کر پایا کہ ان کے پاس زمین کا مالکانہ حق تھا۔

سی جے آئی نے کہا – فی الحال مقبوضہ جگہ کا قبضہ ریسیور کے پاس رہےگا۔ سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین ملے گی۔

سپریم کورٹ نے کہا –متنازعہ  ڈھانچے کی زمین ہندوؤں کی دی جائی۔

واضح ہو کہ ایودھیا معاملے میں 2010 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج  دینے والی 14عرضیوں  کی شنوائی سپریم کورٹ نے کی تھی۔ ہائی کورٹ نے چار دیوانی مقدموں پر اپنے فیصلے میں 2.77 ایکڑ زمین کو تینوں فریق —سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے بیچ برابر برابر بانٹنے کا حکم دیا تھا۔

 ہائی کورٹ کے 30 ستمبر، 2010 کے حکم  کے مطابق، متنازعہ زمین کا ایک تہائی حصہ پانے والا سنی وقف بورڈ کلیدی عرضی گزار ہے۔ وہیں، سپریم کورٹ میں ہوئے اس معاملے کی شنوائی میں نروانی اکھاڑا کلیدی  عرضی گزارنہیں تھا۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ ججوں  کی آئینی بنچ نے 16 اکتوبر کو 40 دنوں کی شنوائی کے بعد یہ فیصلہ محفوظ  رکھ لیا تھا۔

اس سے پہلےجمعہ  کو سی جے آئی گگوئی نےاتر پردیش کے اعلیٰ افسران اور حکام سے اس بارے  میں نظم ونسق  کی صورت حال  پر چرچہ  کی تھی۔ معاملے کو سن رہی آئینی بنچ کے دوسرے ممبروں  میں جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندرچوڑ، اشوک بھوشن اور ایس عبدالنذیر شامل ہیں۔

اس معاملے کو 40 دن سننےکے بعد 16 اکتوبر کوسپریم کورٹ کی آئینی بنچ  نے اس معاملے کی شنوائی  پوری کی تھی۔ کسی آئینی بنچ کے ذریعے  کی گئی یہ زبانی شنوائی تاریخ میں دوسری سب سے لمبی چلنے والی شنوائی ہے۔

اس سے پہلے سب سے لمبی شنوائی 1972 کے کیشوانند بھارتی معاملے میں جب 13 ججوں کی بنچ نے پارلیامنٹ  کے اختیارات کو لے کر اپنا فیصلہ دیا تھا تب سب سے لمبی شنوائی چلی تھی۔ وہ شنوائی لگاتار 68 دن چلی تھی۔

 بڑی تعداد میں ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ 16ویں صدی کا بابری مسجد بھگوان رام کے بنے مندر کی جگہ بنایا گیا تھا۔ اسی جگہ پر رام کا جنم مانا جاتا ہے۔ 1992 میں بھیڑ نے مسجد کومنہدم کر دیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں تشدد اور دنگے ہوئے تھے۔

 عدالت نے اس سال کی شروعات میں لمبے وقت  سے زیر التوتنازعہ  کو سلجھانے کے لیے ثالثی  کا مشورہ  دیا تھا۔ سبکدوش جج جسٹس ایف ایم ابراہم کی قیادت میں تین رکنی  پینل اور آرٹ آف لونگ کے بانی شری شری روی شنکر اور سینئروکیل  شری رام پنچو نے ایک تجویز پر کام کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکامیاب رہے۔