میرے رخ کی تصدیق  ہوئی، میں اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں: لال کرشن اڈوانی

رام جنم بھومی تحریک کے بنیادگزاراور بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے سپریم کورٹ کے ذریعےایودھیا میں مسجد کے لیے پانچ ایکڑ زمین دینے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

رام جنم بھومی تحریک کے بنیادگزاراور بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے سپریم کورٹ کے ذریعےایودھیا میں مسجد کے لیے پانچ ایکڑ زمین دینے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

لال کرشن اڈوانی(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

لال کرشن اڈوانی(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب)

نئی دہلی : رام جنم بھومی تحریک  کے بنیاد گزار اور بی جے پی کے بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ وہ پورے دل سے ایودھیا مدعے پر سپریم کورٹ  کے فیصلے کاخیرمقدم  کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے رخ کی تصدیق  ہوئی ہے اور وہ خود کو خوش قسمت  محسوس کرتے ہیں۔

اس لمحے کو دیرینہ  خواہش کو پورا ہونے والا بتاتے ہوئے 92 سالہ  اڈوانی نے کہا کہ یہ لمحہ  میری دیرینہ خواہش کے مکمل  ہونے کا ہے، ایشور نے مجھے عظیم الشان تحریک  میں اپنی خدمات  دینے کا موقع دیا۔انہوں نے کہا کہ لمبے وقت سے ایودھیا میں چل رہے مندر -مسجد تنازعہ  کا حل ہو گیا اور وقت  آ گیا ہے کہ جھگڑے اورتلخی  کو پیچھے چھوڑکرفرقہ وارانہ ہم آہنگی  اور اتفاق کو گلے لگایا جائے۔

مندرتحریک  کو آزادی  کے بعد سب سے بڑی  تحریک  قرار دیتے ہوئے انہوں نےکہا کہ اس کامقصد حاصل کرنا فیصلے سے ممکن ہوا ہے۔انہوں نے فیصلے کا دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ‘میں اپنے رخ پر قائم ہوں اور خود کوخوش قسمت محسوس کر رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر ایودھیا میں رام جنم بھومی پر عظیم الشان  رام مندر بنانے کا راستہ صاف کیا۔’

اڈوانی نے زور دےکر کہا کہ رام اور رامائن ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی وراثت میں بلند مقام  رکھتے ہیں۔ رام جنم بھومی کی کروڑوں لوگوں کے دلوں میں مقدس جگہ ہے۔بی جے پی کے سب سے لمبے وقت تک صدررہے اڈوانی نےہندوستان  کی مختلف کمیونٹی  سے اپیل کی کہ وہ  ایک جٹ ہوکر ملک  کی ایکتا اورسالمیت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کریں۔

بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے سپریم کورٹ کے ذریعےایودھیا میں مسجد کے لیے پانچ ایکڑ زمین دینے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔انہوں نے کہا، ‘ایودھیا کے مدعے پر سپریم کورٹ  کے پانچ ججوں  کی آئینی بنچ کی طرف سے دیے گئے تاریخی  فیصلے کا کھلے دل سے خیرمقدم  کرنے کے لیے میں ملک کی عوام  کے ساتھ کھڑا ہوں۔’

قابل ذکر  ہے کہ ملک کی سیاست میں سیکولر پارٹیوں کے تسلط کے بیچ اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہی بی جےپی کواڈوانی کی صدارت  میں سمت  ملی۔ ان کے صدر رہتے پارٹی نے 1989 کے پالم پور اجلاس  میں رام مندر آندولن کو حمایت دی اور اس سے بی جے پی کو ہندتو والی پارٹی کی پہچان ملی۔

رام مندر مدعے اور کانگریس مخالف پارٹیوں سے اتحاد کی بدولت بی جے پی کو 1984 کے دو لوک سبھا سیٹوں کے مقابلے 1989 میں 85 سیٹیں ملی تھیں۔اڈوانی نے ایودھیا کے متنازعہ مقام  پر مندر کے لیے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے گجرات کے سومناتھ مندر سے رتھ یاترا شروع کی تھی۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ا ن پٹ کے ساتھ)