آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے لگاتار تیسری بار اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس جیت کے مرکز میں ہمنتا بسوا شرما کی قیادت، شناخت پر مبنی سیاست، 2023 کی حد بندی کا اثر اور کمزور اپوزیشن نے رول ادا کیا ۔ اس انتخاب میں کانگریس محدود ہو گئی، اے آئی یو ڈی ایف کمزور پڑی اور ریاست میں پولرائزیشن کا اثر واضح طور پر نظر آیا۔

تصویر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
نئی دہلی: آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے صرف یہ طے نہیں کیا کہ ریاست میں اگلی حکومت کون بنائے گا، بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ریاست کی سیاست کس طرح تبدیل ہو چکی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی قیادت میں مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کر کے نہ صرف واپسی کی بلکہ اپنے اب تک کے سب سے مضبوط سیاسی مقام پر پہنچ گئی۔
واضح ہو کہ126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی نے اکیلے 82 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ اتحادی جماعتوں آسام گن پریشد (اے جی پی) اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی پی ایف) کے ساتھ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا اعدادوشمار 102 تک پہنچ گیا۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ بی جے پی نے دس سالہ اقتدار کے خلاف پیدا ہونے والی تھکن کو اپنے خلاف نہیں جانے دیا۔ عام طور پر طویل حکمرانی کے بعد حکومتوں کے خلاف ناراضگی کا مشاہدہ کیا جاتاہے، لیکن آسام میں بی جے پی کا عوامی دائرہ محدود ہونے کے بجائے مزید وسیع ہوا۔ 2016 اور 2021 میں بی جے پی نے 60-60 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ اس بار اس نے پہلی بار اپنے بل بوتے پر مکمل اکثریت حاصل کی۔ یہ صرف نشستوں میں اضافہ نہیں بلکہ سیاسی تسلط کا قیام ہے۔
بی جے پی کی جیت، لیکن چہرہ ہمنتا بسوا
اس انتخاب کا سب سے بڑا حاصل یہ ہے کہ آسام میں بی جے پی کی جیت اب صرف نریندر مودی یا مرکزی قیادت کی مقبولیت پر منحصر نہیں رہی۔ ریاست میں پارٹی کا چہرہ اور اقتدار کا مرکز اب واضح طور پر ہمنتا بسوا شرما ہیں۔ 2021 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یہ پہلا انتخاب تھا جس میں وہ خود دوبارہ انتخاب کے لیے عوام کے سامنے گئے۔
انہوں نے جارحانہ انتخابی مہم چلائی، انتظامی کنٹرول برقرار رکھا اور اپنے حامیوں کے درمیان ایک ایسے رہنما کی شبیہ بنائی جو فیصلے لینے سے گریز نہیں کرتا انہیں نافذ کرتا ہے اور سیاسی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ جالکباڑی نشست سے وہ مسلسل چھٹی بار جیتے اور تقریباً 89 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
شرما کی سیاست دو متوازی دھاراؤں پر چلتی نظر آئی، ایک طرف سخت قوم پرستانہ اور شناخت پر مبنی بیانیہ، اور دوسری طرف فلاحی اسکیمیں، نقد امداد، خواتین کے لیے براہ راست منتقلی اور ترقیاتی منصوبوں کا بھرپور پروپیگنڈہ۔ اسی امتزاج نے انہیں بی جے پی کے اندر منفرد بنایا ہے۔
کانگریس سے بی جے پی تک: ایک رہنما کا نیا جنم
ہمنتا بسوا کبھی کانگریس کے اندر سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ دو دہائیوں تک پارٹی تنظیم اور حکومت دونوں میں فعال رہنے کے بعد انہوں نے 2015 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ اگلے ہی سال بی جے پی نے پہلی بار آسام میں اقتدار حاصل کیا۔
اس کے بعد شرما صرف آسام تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے شمال-مشرق میں بی جے پی کے پھیلاؤ میں اسٹریٹجک رول ادا کیا۔ منی پور، اروناچل پردیش، تریپورہ اور میگھالیہ تک اتحاد کی سیاست کو مضبوط کیا۔ بی جے پی کے اندر انہیں اکثر ’کام نکالنے والے رہنما‘کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مرکزی قیادت، خاص طور پر امت شاہ، کے ساتھ ان کی قربت ہمیشہ سرخیوں میں رہی ہے۔
اس انتخابی جیت نے انہیں صرف ایک علاقائی وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ قومی سطح کے ایک اہم سیاسی منتظم کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
بی جے پی کی سماجی جیت: کون ساتھ آیا؟
انتخابی نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے ریاست کے ان علاقوں میں تقریباً مکمل برتری قائم کی ،جہاں ا سامیا بولنے والے ہندو، قبائلی برادریاں اور بنگالی ہندو ووٹر فیصلہ کن تعداد میں موجود ہیں۔ ان طبقات میں بی جے پی کی حمایت مضبوط ہو کر سامنے آئی۔
ریاست کے مختلف علاقوں-لوئر آسام، سینٹرل آسام، اپر آسام، براک ویلی اور شمالی آسام-میں بی جے پی نے مختلف سماجی گروہوں کے ساتھ اپنے اتحاد کو برقرار رکھا۔
ہندوستان ٹائمز میں شائع ایک تجزیے کے مطابق، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا مشترکہ ووٹ شیئر تقریباً 48 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2016 اور 2021 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی صرف نشستیں نہیں جیت رہی بلکہ ووٹ فیصد کے لحاظ سے بھی اپنی بنیاد کو وسیع کر رہی ہے۔
انتخابی بیانیہ: دراندازی، شناخت اور ترقی
اس انتخاب میں بی جے پی نے تین بڑے ایشوز کو بیک وقت ہدف بنایا۔ پہلا،’غیر قانونی دراندازی‘کا سوال، خصوصی طور پر بنگلہ دیش کی سرحد سے متعلق علاقوں میں۔ دوسرا، ثقافتی اور شناخت پر مبنی سیاست، جس میں’میاں مسلمان‘جیسے متنازعہ لفظوں کے ذریعے بنگالی نژاد مسلمانوں کو سیاسی ڈسکورس میں نشانہ بنایا گیا۔ تیسرا، ترقی—سڑکیں، پل، شرمایہ کاری، صنعت اور فلاحی اسکیمیں۔
یہ سب بی جے پی کے لیے مؤثر ثابت ہوا۔ شناخت کی سیاست نے بنیادی ووٹ بینک کو جوڑے رکھا، جبکہ فلاحی منصوبوں نے نئے سماجی طبقات، خصوصی طور پر خواتین تک رسائی کو ممکن بنایا۔
کانگریس کی سب سے بڑی شکست
ان انتخابات میں کانگریس صرف ہاری نہیں، بلکہ محدود ہو گئی۔ کبھی آسام کی غیرمتنازعہ حکمراں رہی یہ جماعت 19 نشستوں پر محدود ہو گئی، جو اس کی اب تک کی بدترین کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔
ریاستی کانگریس صدر گورو گگوئی کی شکست نے پارٹی کی مشکلیں اور بڑھا دی ہیں۔ اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما رہے دیب برت سیکیہ بھی ہار گئے۔ کانگریس کا اثر اب زیادہ تر ان علاقوں تک محدود دکھائی دیا، جہاں اقلیتی ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
بالائی اور شمالی آسام کی 43 نشستوں میں کانگریس صرف ایک نشست جیت سکی۔ قبائلی اکثریت والے علاقوں میں بھی اسے تقریباً مکمل طور پر صاف کر دیا گیا۔ اس سے واضح ہے کہ کانگریس وسیع سماجی اتحاد بنانے میں ناکام رہی۔
اے آئی یو ڈی ایف کا زوال اور مسلم سیاست کا نیا فارمولہ
بدرالدین اجمل کی جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ(اے آئی یو ڈی ایف) اس انتخاب کی سب سے بڑی شکست خوردہ قوتوں میں شامل رہی۔ 2021 میں 16 نشستیں جیتنے والی یہ پارٹی اس بار صرف 2 نشستوں پر محدود ہو گئی۔ حالاں کہ اجمل خود بنناکانڈی سے جیت گئے، لیکن پارٹی کی سیاسی بنیاد کمزور ہوتی نظر آئی۔
یہ اشارہ ہے کہ آسام کے مسلم ووٹروں کا بڑا حصہ اب دوبارہ کانگریس کی طرف لوٹ رہا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا تھا، اس وقت اجمل کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن مسلم ووٹوں کی یہ نئی صف بندی بھی اپوزیشن کو خاطر خواہ فائدہ نہیں دے سکی، کیونکہ یہ ووٹ محدود علاقوں میں مرکوز رہ گیا۔
حد بندی کا شدید اثر
سال2023 کی نئی حد بندی نے اس انتخاب کا پس منظر تبدیل کر دیا۔ اپوزیشن مسلسل یہ الزام لگاتی رہی کہ نئی حد بندی کے عمل نے اقلیتی اثر و رسوخ والی نشستوں کی تعداد کم کر دی۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان عمومی اتفاق یہ رہا کہ جہاں پہلے تقریباً 35 نشستوں پر مسلم ووٹر فیصلہ کن تھے، وہ کم ہو کر تقریباً 23 رہ گئیں۔
اس کے دو اثرات ہوئے۔ پہلا، مسلم ووٹ کم نشستوں میں’مرکوز‘ہو گئے۔ دوسرا، جن نشستوں پر وہ پہلے فیصلہ کن تھے، وہاں ان کا اثر بکھر گیا۔
ہیلکانڈی، دھبری، بارپیٹا، گوآلپاڑا اور سرحدی علاقوں کے کئی حصوں میں بی جے پی نے اپوزیشن سے نشستیں چھین لیں۔ کئی پرانے حلقے ختم ہو گئے یا نئی شکل میں سامنے آئے۔ کچھ مقامات پر کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف اور ترنمول کانگریس کے درمیان ووٹ تقسیم ہو گئے۔
اس طرح حد بندی نے اپوزیشن کے ووٹ کو اسٹرکچرل نقصان پہنچایا، جبکہ بی جے پی کو جغرافیائی فائدہ ملا۔
کیا آسام اب پولرائزیشن والی سیاست کی تجربہ گاہ ہے؟
نتائج سے ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے-ریاست میں ووٹنگ کا پیٹرن تیزی سے پولرائزڈ ہو چکا ہے۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو زیادہ تر غیر مسلم ووٹوں کا بڑا حصہ ملا، جبکہ اپوزیشن کو زیادہ تر اقلیتی علاقوں تک محدود کامیابی ملی۔
یہ تقسیم آسام کی سیاست میں نئی نہیں ہے، لیکن 2026 میں یہ مزید واضح ہو کر سامنے آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن صرف چند منتخب نشستوں پر ہی کامیاب ہو سکی۔
قومی سیاست کے لیے پیغام
آسام کا یہ انتخاب صرف ایک ریاست کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ بی جے پی کے لیے کئی پیغامات لے کر آیا ہے۔ پہلا، پارٹی دس سالہ اقتدار مخالف رجحان کو بھی سنبھال سکتی ہے۔ دوسرا، مضبوط علاقائی قیادت بی جے پی ماڈل کا حصہ بن سکتی ہے۔ تیسرا، شناخت کی سیاست اور فلاحی منصوبوں کا مشترکہ استعمال اب بھی مؤثر ہے۔
ہمنتا بسوا شرما کی جیت نے بی جے پی کے اندر مستقبل کی قیادت کے ڈھانچے پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اگر پہلا دور حکومت انہیں ایک مضبوط علاقائی رہنما بناتا تھا، تو دوسری بڑی جیت انہیں قومی سطح کے رہنماؤں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔
آسام کی سیاست کا نیا باب
آسام میں 2026 کا مینڈیٹ اس لیے اہم ہے کہ اس نے اقتدار کی تبدیلی نہیں، بلکہ اقتدار کے تسلسل کو چنا ہے۔ اور اس تسلسل کے مرکز میں فی الحال ایک ہی نام ہے-ہمنتا بسوا شرما۔
ایک وقت میں کانگریس کا گڑھ رہنے والا آسام اب بی جے پی کی سب سے مستحکم ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے۔ بی جے پی کی مسلسل تیسری جیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ صرف انتخابی لہر نہیں، بلکہ سماجی اتحاد، انتظامی کنٹرول، سیاسی طور پرتنظیم نو اور نظریاتی پولرائزیشن کا مشترکہ نتیجہ ہے۔