کو رونابحران کا استعمال سماج کو بانٹنے کے لیے کیا جا رہا: اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تجویز میں کہا گیا کہ یہ شرمناک ہے کہ جو لوگ اسلاموفوبیا پھیلا رہے ہیں، ان پر کارروائی کرنے کے بجائے پولیس ان پر کارروائی کر رہی ہے، جو اس طرح کی نفرت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تجویز میں کہا گیا کہ یہ شرمناک  ہے کہ جو لوگ اسلاموفوبیا پھیلا رہے ہیں، ان پر کارروائی کرنے کے بجائے پولیس ان پر کارروائی کر رہی ہے، جو اس طرح کی نفرت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) ٹیچرس ایسوسی ایشن نے ایک تجویز پاس  کرکے کہا کہ کووڈ 19بحران کا استعمال ایک خاص کمیونٹی  کے لیے نفرت پھیلانے اور سماج کو بانٹنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ایسوسی ایشن نے اپنی ایک خاص میٹنگ  میں اس تجویز کو پاس کیا اور اس کو صدر جمہوریہ  کے پاس بھیجا ہے۔تجوزیز میں وبا سے نپٹنے کے طور طریقوں پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔

اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے عام آدمی، بالخصوص یومیہ مزدوروں کے لیےمکمل اتحادکا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، ‘جو مزدور بڑے شہروں سے اپنے گاؤں اور قصبے لوٹ رہے ہیں، ان لوگوں کی کوئی غلطی نہیں ہے۔’تجویز میں کہا گیا ہے، ‘یہ ہم سب کے لیے بہت تکلیف کی بات ہے کہ کووڈ 19 وبا کا استعمال ایک خاص کمیونٹی  کے لیے نفرت پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔’

اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سکریٹری  پروفیسر نجم الاسلام نے صحافیوں  سے کہا، ‘ہمارا ماننا ہے کہ ملک میں کووڈ 19 کے خلاف لڑائی میں جیت تبھی حاصل ہوگی، جب ہم سب متحد ہوکر اس کا سامنا کریں گے۔’خبررساں  ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایسوسی ایشن نے الزام لگایا کہ دی  وائر کے مدیرسدھارتھ وردراجن، چائلڈ اسپیشلسٹ اور انسانی حقوق کے کارکن کفیل خان اور عمر خالدسمیت درجنوں دوسرے کارکنوں  کے خلاف جھوٹے معاملے درج کئے گئے، کیونکہ انہوں نے پولیس کی زیادتی اورناانصافی  کے خلاف آواز بلند کی ۔

تجویز میں کہا گیا کہ یہ شرمناک  ہے کہ جو لوگ اسلاموفوبیا پھیلا رہے ہیں اور تقسیم کرنے والے نظریے کو کو مضبوط کر رہے ہیں، انہیں پھٹکارنے کے بجائے پولیس ان پر کارروائی کر رہی ہے، جو اس طرح کی نفرت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔پروفیسر نجم الاسلام نے کہا، ‘ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے ملک میں کووڈ 19 کے خلاف لڑائی تبھی کامیاب  ہو سکتی ہے جب ہم متحد ہوں گے۔ ہمیں ذات پات  اور مذہبی تعصب  سے اوپر اٹھ کر سماج کے ہر طبقے کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔’

امر اجالا کے مطابق نجم الاسلام نے کہا کہ یہ بے حد تشویش کی بات  ہے کہ آج وبا کو بھی ایک کمیونٹی  سے جوڑنے کے لیےدلیل پیش کی  جا رہی ہے اور بنیاد تیار کیا جا رہا ہے۔ اے ایم یو اس پر شدید تشویش کا اظہارکرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سماج میں اسلاموفوبیا پھیلایا جا رہا ہے۔صدر جمہوریہ  سے مانگ کی گئی ہے کہ وہ ان سب باتوں کو اپنی جانکاری  میں لےکر ان پر پر روک لگائیں۔

پروفیسر نجم الاسلام نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے وقت جو مزدور تکلیف برداشت کرکے سفر کرنے کو مجبور ہیں، ہماری تمام ہمدردی  ان کے ساتھ ہے۔ سرکار نے اچانک لاک ڈاؤن کا فیصلہ لےکر اپنی جلد بازی کا ثبوت دیاہے۔بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی سو سے زیادہ  سابق نوکرشاہوں نے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ  کوخط لکھ کر ملک کے کچھ حصوں میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک  کے  معاملوں پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔

 (خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)