یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات اور واقعات کے توسط سے’اکھنڈ بھارت‘ کے تصور کو از سر نو عام کیا جا رہا ہے۔ مؤرخین اسے ایک بے بنیاد اور سیاسی نعرہ قرار دیتے ہیں، جو ہندوتوا کے نظریاتی منصوبے، تاریخ کی از سر نو تشریح اور مذہبی قوم پرستی سے شدید تعلق رکھتا ہے۔
’اکھنڈ بھارت‘ کا تصور قدیم تاریخ سے نہیں ہے بلکہ یہ 20 ویں صدی کے ہندوتوا کے نظریہ سازوں کی ایجاد ہے۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)
نئی دہلی: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 8 جنوری 2025 کو لکھنؤ میں’پرارمبھک اتر بھارت اور اس کے سکے‘ نامی کتاب کی رسم رونمائی کے اسٹیج سے جو کہا، وہ کوئی عام ثقافتی تبصرہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت ورش‘میں موجودہ ہندوستان ہی نہیں ،بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، اور یہی’عظیم تر یا گریٹربھارت ‘ہے۔ یہ نہ تو واحدبیان ہے اورنہ ہی اتفاقی یا غیر متوقع واقعہ۔
یہ اس نظریاتی دھارے کا حصہ ہے، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کئی دہائیوں سے’اکھنڈبھارت ‘کے نام پر فروغ دیتے رہے ہیں – ایک ایسا تصور، جو نہ صرف آزاد اور خودمختار پڑوسی ممالک کو ہندوستان کا حصہ مانتا ہے، بلکہ اس مبینہ جیو-پولیٹی کو ایک ہندو راشٹر کے طور پر بیان کرتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے کچھ ہی دنوں بعد، 11 جنوری 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ’سومناتھ سوابھیمان پرو‘کے تحت منعقد
’شوریہ یاترا‘کی قیادت کی۔ اس یاترا کی بصری اور علامتی دنیا اسی سیاست کی عکاس ہے، جس کے بارے میں پارٹی بہت کچھ کہہ کربھی نہیں کہتی۔
مندر کی طرف جانے والی سڑک پر’ترشول‘، ’اوم‘ اور ’ڈمرو‘ کی شکل والی لائٹ، پھولوں سےبنے شیولنگ اور بڑے بڑے بینروں پر لکھے نعرے -’اکھنڈسومناتھ، اکھنڈ بھارت‘آویزاں تھے۔ وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئے ڈرون شو میں بھی ترشول کے ساتھ یہی (اکھنڈ سومناتھ، اکھنڈ بھارت) نظر آیا۔
ان علامتوں کی نمائش کے بعد یہ محض ایک مذہبی تقریب نہیں رہ گئی تھی۔ یہ اس نظریے کا عوامی مظاہرہ خیال کیا جائے گا، جس میں مذہبی علامتوں، قوم پرستی اور تاریخ کی ازسرنو تشریح کو ایک ساتھ شامل کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اکھنڈ بھارت کے خیال کو عوامی سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
’اکھنڈ بھارت ایک سیاسی نعرہ ہے‘
معروف تاریخ دان ڈاکٹر روچیکا شرما نے سی ایم یوگی کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ تاریخ کے خلاف بھی ہے۔
دی وائرسے بات چیت میں وہ کہتی ہیں کہ پورے برصغیر کاسب سے پہلا نام ’بھارت‘نہیں، بلکہ’ہند ‘تھا۔ مہابھارت کے جس اشلوک -’درلھم بھارتے جنم ‘-کا حوالہ یوگی آدتیہ ناتھ دیتے ہیں، اس کا مطلب جدید معنوں میں ’بھارت بھومی‘سےمتعلق نہیں ہے۔ روچیکا شرما بتاتی ہیں کہ مہابھارت میں ’بھارت‘ ایک قبیلہ تھا، اور یہ’اشلوک بھارت قبیلے میں پیدا ہونا مشکل ہے‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس کا پورے برصغیر یا کسی متحدہ قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) کے سینٹر فار ہسٹاریکل اسٹڈیز میں قرون وسطیٰ کی تاریخ کے سابق پروفیسر ہربنس مکھیا بھی کہتے ہیں کہ ’اس کا دھرتی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘
روچیکا کے مطابق، دستیاب تاریخی ذرائع میں اس بات کا کوئی دعویٰ نہیں ہے کہ عربوں کی آمد سے قبل برصغیر پاک و ہند کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ’بھارت ورش‘کی اصطلاح کا ذکر کھارویلا/کھاربیلاکے ہاتھیگومپھا نوشتہ میں ملتا ہے۔ یہ نوشتہ اڑیسہ کے کلنگا علاقے کےراجا کھارویلا نے تیارکروایا تھا اور اس میں کہا گیا ہے کہ کھارویلا نے ’بھارت ورش کے خلاف‘ جنگ کی تھی۔ اگر وہ بھارت ورش سے لڑ رہے تھے تو واضح طور پر، بھارت ورش اس وقت پورے برصغیرکے مترادف نہیں تھا اور نہ ہی یہ کھارویلا کے کلنگا کا حصہ تھا۔ تو صاف ہے کہ بھارت ورش اس وقت پورے برصغیر کا مترادف نہیں تھا، بلکہ ممکنہ طور پرگنگا کے میدانی علاقوں تک محدود تھا۔
شرما مزید وضاحت کرتی ہیں کہ پورے برصغیر کو سب سے پہلے عربوں نے ایک جغرافیائی وجود کے طور پر تسلیم کیا، جنہوں نے اسے ’ہند‘کہا، جس کی حدود کوہ ہندوکش سے لے کر بحر ہند اور بنگال تک مانی۔اس سے پہلے ’جمبودیپ‘ جیسےنام بھی پائے جاتے ہیں، لیکن وہ بھی اسی سلطنت یا ریاست کے کے لیے مستعمل تھے، جس پر حکمراں کا کنٹرول ہوتا تھا، پورے برصغیر کے لیے نہیں۔
اسی طرح کے حقائق مؤرخ ہربنس مکھیا کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی سامنے آئے۔ وہ ’اکھنڈ بھارت‘کو ایک سیاسی نعرہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا کوئی تاریخی تعلق نہیں ہے۔
ہندو مہاسبھا اور اکھنڈ بھارت
ماہرین بتاتے ہیں کہ ’اکھنڈ بھارت‘کا تصور قدیم تاریخ سے نہیں بلکہ یہ 20ویں صدی کے ہندوتوا کےنظریہ سازوں کی ایجادہے۔ ونائک دامودر ساورکر نےاس تصورکو تشکیل دیا،جنہوں نے’ہندوتوا‘پر مبنی متحدہ ہندوستان کا تصور کیا تھا۔ ساورکر کی ’ہندو‘کی تعریف انتہائی مخصوص تھی؛ انہوں نےمسلمانوں اور عیسائیوں کو ’ہندوستانی تہذیب کےموافق‘نہیں مانا،کیونکہ ان کے مذہبی مقامات ہندوستان سے باہر تھے۔
ساورکر نے 1937 میں واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان ’دو متضاد قومیں تھیں‘، حالاں کہ اس کے بعد بھی وہ’اکھنڈ بھارت ‘کی بات کرتے رہے۔ یہ تضاد دلچسپ ہے؛ اگر ہندوستان کبھی ایک متحد ادارہ تھا تو تقسیم کی ضرورت کیوں پڑی؟
اس بات کے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ ابتدا میں ہندوتوا لیڈروں نے ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘بنانے کے لیے اس کی تقسیم کی حمایت کی، لیکن بعد میں اکھنڈ بھارت کے خیال کو فروغ دینےلگے۔
دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور معروف مؤرخ ڈاکٹر شمس الاسلام برما (موجودہ میانمار) کی تقسیم کے دوران کاایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ’یہ 1935 کی بات ہے۔ مہاتما اوٹامہ ہندو مہاسبھا کے صدر تھے۔ اسی دوران انگریزوں نے برما کو الگ ملک بنانے کے لیے مذاکرات شروع کیے، مہاتما اوٹاما نے اس کی مخالفت کی، ان کی دلیل تھی کہ ہندو اور بدھ مت ایک ہوتےہیں۔ اس کے بعد اوٹامہ کو صدارت سے ہٹا دیا گیا، اور ہندو مہاسبھا نے ساور کی سربراہی میں اس تقسیم کو قبول کر لیا۔‘
بعد کے برسوں میں ہندو مہاسبھا سے وابستہ آریہ سماج کے ایک اعلیٰ عہدیدار بھائی پرمانند نے اپنی
سوانح میں لکھا ہے کہ 1905 میں وہ اور لالہ لاجپت رائے خطوط کے ذریعے ہندوستان کے مستقبل پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ لالہ لاجپت رائے کے نام اپنے خط میں بھائی پرمانند نے کہا،’اس وقت میرے لیے موجودہ اتحاد (ہندو مسلم) کا تصور کرنا ناممکن تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ سندھ سے آگے کا علاقہ افغانستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے ساتھ مل کر ایک بڑی مسلم ریاست میں شامل ہونا چاہیے۔ اس خطے کے ہندوؤں کووہاں سے ہٹ جانا چاہیے، جبکہ ہندوستان کے باقی حصوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اس خطے میں جاکر آباد ہوجانا چاہیے۔ ‘
پروفیسر اسلام کہتے ہیں کہ ’ 20ویں صدی کے آغاز میں لالہ لاجپت رائے نے بھی مسلمانوں کو الگ ملک دینے کی وکالت کی تھی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں،’بدھوں کو الگ اور مسلمانوں کو الگ کرنے کا آئیڈیا ہندو قوم پرستوں نے دیا اور اب وہ اکھنڈ بھارت بنانے کی بات کرتے ہیں۔‘
غور طلب ہے کہ لالہ لاجپت رائے ہندو مہاسبھا سے وابستہ تھے اور اس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی طرح اس وقت اکھنڈ بھارت کی وکالت کرنے والے یوگی آدتیہ ناتھ کے گرو اویدھ ناتھ بھی ہندو مہاسبھا سے وابستہ تھے۔
آر ایس ایس اور اکھنڈ بھارت
’اکھنڈ بھارت‘ کا تصور ہندوتوا کےنظریے کا بنیادی ستون رہا ہے۔ آر ایس ایس کے دستاویزوں، تقریروں اور تربیتی مواد میں یہ خیال بار بار ظاہر ہوتا ہے۔ آر ایس ایس کی نصابی کتابوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور تبت کبھی ہندوستان کا حصہ ہوا کرتےتھے۔ ’اکھنڈ بھارت‘کا نقشہ اکثر آر ایس ایس کے سویم سیوکوں کے یہاں دیکھنے کو ملتاہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسی طرح کا ایک نقشہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈکے ہاتھ میں بھی تھا،جب اسے
پھانسی کےتختے تک لے جایا جا رہا تھا۔ اپنی پھانسی سے پہلے گوڈسے نے نعرہ لگایا تھا،’اکھنڈ بھارت امر رہے۔ ‘
گوڈسے کی بھتیجی ہمانی ساورکر نے
بی بی سی ہندی سے بات چیت میں اپنے چچا کی آخری خواہش کے بارے میں بات کی تھی،’انہوں نے لکھ کر دیا تھا کہ میرے جسم کے کچھ حصے محفوظ رکھے جائیں، اور جب دریائے سندھ آزاد ہندوستان میں دوبارہ شامل ہو جائے اور اکھنڈ بھارت دوبارہ تشکیل پائے تو میری راکھ کو اس میں بہا دیا جائے، اس میں دو چار نسلیں بھی لگ جائیں، توکوئی بات نہیں۔‘
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی کئی مواقع پر
’اکھنڈ بھارت‘ اور’ ہندو راشٹر‘کی بات کی ہے ۔ 2022 میں بھاگوت نے اعلان کیا تھاکہ ’اکھنڈ بھارت‘10-15 سالوں میں حقیقت بن جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس عمل میں’بریک نہیں ہیں ، صرف ایکسلریٹرہیں‘اور یہ کہ ’جو اسے روکنے کی کوشش کریں گے وہ ختم ہو جائیں گے۔‘
اس زبان کی غیر معمولی طور پر جارحانہ نوعیت کے بارے میں سوال کے بعد آر ایس ایس کے شریک جنرل سکریٹری منموہن ویدھ نے بھاگوت کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھاکہ،’اکھنڈ بھارت‘کا خیال جیو-پولیٹکل نہیں بلکہ جیو-کلچرل ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی2012 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اکھنڈ بھارت‘کا مطلب ثقافتی اتحاد ہے۔
ہربنس مکھیا سوال اٹھاتے ہیں کہ،’اگر یہ صرف ثقافتی نقطہ نظر ہے، تو جنوب مشرقی ایشیا کو بھی متحدہ ہندوستان میں شامل کیا جانا چاہیے۔ وہاں بھی ہندو ثقافت کا اثر تھا،اب بھی ہے۔ لہٰذا، متحدہ ہندوستان کو افغانستان اور میانمار تک محدود نہ کیجیے؛ آگے بھی لے چلیے، انڈونیشیا کو بھی شامل کیجیے۔ ‘ہنستے ہوئے مکھیا کہتے ہیں۔
سینئر صحافی سشانت سنگھ
فارن پالیسی میں لکھتے ہیں،’اکھنڈ بھارت کا تصور آر ایس ایس کے بنیادی اصولوں – سنگٹھن (منظم اتحاد) اور شدھی (ذات پات کی پاکیزگی) سے جڑا ہوا ہے۔‘آر ایس ایس کے نظریے کے مطابق، ہندوستان صرف ایک جدید قومی ریاست نہیں ہے، بلکہ ایک قدیم، ثقافتی-مذہبی تہذیب ہے، جس کی سرحدیں آج کے سیاسی نقشوں سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
سیاسی مذہبی منصوبہ
ماہرین کا خیال ہے کہ ’اکھنڈ بھارت‘کا تصورمحض ثقافتی حافظہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی- مذہبی منصوبہ ہے۔ یہ ایک ایسے جنوبی ایشیاء کا تصور کرتا ہے جو اسلام کی آمد سے پہلے موجود تھا، اور اس وجہ سے یہ خیال ممکنہ طور پرتکثیریت، سیکولرازم، اور جدید قومی ریاست کے تصورات سے متصادم ہے۔
جب بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنما پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے خودمختار ممالک کو’بھارت ورش‘کا حصہ بتاتے ہیں، تو یہ صرف تاریخ کی بحث نہیں رہ جاتی۔ یہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات، ہندوستان کے آئین میں درج سیکولر اقدار اور ملک کے اندر اقلیتوں کی حیثیت سے وابستہ ہوجا تی ہے۔
سومناتھ سے لکھنؤ تک،اسٹیج اور علامتیں بدل جاتی ہیں، لیکن پیغام ایک ہی رہتا ہے- ایک ایسا بھارت جو تاریخ کو اپنی نظریاتی ضروریات کے مطابق ڈھالتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ماضی کو کیسے یاد کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس ماضی کی ایک فرضی تشریح کوموجودہ اور مستقبل کی سیاست کے لیےبنیاد بنایا جانا چاہیے۔