یو پی اے حکومت کے دوران اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے پر کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کرنے والی بی جے پی کی حکومت میں وہی کمپنی اب لیونارڈو نام سے اڈانی ڈیفنس کی شراکت دار بن کر ہندوستان کے دفاعی شعبے میں لوٹ آئی ہے۔ اسی ہفتے، اڈانی ڈیفنس نے اس کمپنی کے ساتھ ہندوستان میں ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ کا ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے، مودی حکومت کے نمائندوں کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کیا ہے۔
نئی دہلی: جس اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کافی وقت تک کانگریس پر حملہ آور رہے، وہی کمپنی اب نئے نام لیونارڈو کے ساتھ اڈانی ڈیفنس اور ایرو اسپیس کا شراکت دار بن کر اب ہندوستان کے دفاعی شعبے میں
دوبارہ انٹری کر چکی ہے ۔
ہندوستان میں وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر ڈیل گھوٹالے کی وجہ سے ہندوستان میں طویل عرصے تک پابندی کا سامنے کرنےوالی اطالوی دفاعی کمپنی لیونارڈو (سابقہ اگستا ویسٹ لینڈ) اور اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس نے ہندوستان میں ایک مربوط ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ(ایم او یو) پر دستخط کیا ہے۔
ہندوستان-یورپی یونین کے درمیان تجارت اور دفاعی معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد منگل (3 فروری) کو دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور ڈائریکٹر جنرل، محکمہ حصول، وزارت دفاع اے انبراسوکی موجودگی دونوں کمپنیوں نے ایم او یو پر دستخط کیے۔
تصویر بہ شکریہ: لیونارڈو ویب سائٹ
اس موقع پر سکریٹری دفاع نے اسے ‘دو باوقار صنعتی یونٹس کے انضمام’ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی شعبے میں 100 فیصد خود انحصاری ممکن نہیں ہے اور اس کا مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا ہونا چاہیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت کئی سالوں سے دفاعی شعبے میں ‘خود کفیل’ ہونےکے سیاسی دعوے کرتی رہی ہے۔
اس مجوزہ ایکو سسٹم کے ذریعے ہندوستانی مسلح افواج اور سویلین سیکٹر کے لیے ہیلی کاپٹر بنائے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس میں مرحلہ وار سودیشی کرن، مینٹیننس-ریپیئر-اوور ہال سہولیات اور پائلٹ کی تربیت شامل ہوگی۔ تاہم، یہ ابھی تک عوامی طور پر واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ٹکنالوجی کی منتقلی کس حد تک ہوگی اور کن کلیدی نظاموں پر ہندوستان کی حقیقی گرفت بنے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہفتے میں یہ اڈانی ڈیفنس کی دوسری ڈیل ہے۔
27 جنوری 2026 کو اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس نے برازیل کے ایمبریئر کے ساتھ ایم او یو پردستخط کیے، جس کے تحت ہندوستان کی پہلی فکسڈ ونگ کمرشل ایئر کرافٹ فائنل اسمبلی لائن قائم کی جائے گی ۔
نام بدلا ،پہچان وہی؟
اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودا 2010 میں یو پی اے حکومت کے دوران ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی حکومت نے صدر، وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ آئینی عہدیداروں کے لیے 12 اے ڈبلیو101 ہیلی کاپٹر خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی قیمت تقریباً3,600 کروڑ روپے تھی ۔
سال2013میں اٹلی میں ہونے والی تحقیقات کے بعد یہ الزامات سامنے آئے کہ کمپنی نے اس سودے کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستان میں دلالوں اور اہلکاروں کو رشوت دی تھی۔ اس کے بعد ہندوستانی حکومت نے اس معاہدے کو رد کر دیا، اگستا ویسٹ لینڈ اور اس کی پیرنٹ کمپنی فن میکانیکا کو بلیک لسٹ کر دیا اور سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے تحقیقات کرائی گئی۔
سال2014میں کمپنی پرمستقبل کے ہندوستانی ٹینڈرز میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی۔
سال 2016 میں اس نے اپنا نام تبدیل کر کے لیونارڈو ایس پی اےکر دیا اور اگستا ویسٹ لینڈ کو اپنے ہیلی کاپٹر ڈویژن میں ضم کر دیا۔ 2021 میں مودی حکومت نے کچھ شرائط کے ساتھ لیونارڈو پر
پابندی کو ہٹا دیا، حالانکہ اس کیس سے متعلق قانونی سوال پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
مارچ 2023 میں اس پابندی کو ہٹانے پر تنقید کرتے ہوئے
کانگریس نے ایک سوال پوچھا تھا، جس کا جواب اب مل گیا ہے۔
کانگریس کا سوال تھا – کیا اب ہم اڈانی گروپ کو اطالوی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ سودا کرتے ہوئے دیکھیں گے؟
قابل ذکر ہے کہ اس پریس ریلیز اور پابندی ہٹانے سے کچھ سال قبل اپریل 2016 میں سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے مودی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ بلیک لسٹ کمپنی کو ‘پچھلے دروازے سے’ دوبارہ داخلہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انٹونی نے
کہا تھا ،’وزیر اعظم مودی اور بی جے پی حکومت اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے اور اس کی پیرنٹ کمپنی فن میکانیکا کے حوالے سے جھوٹ کا جال بُننے کی کوشش کر رہی ہے۔ مودی حکومت سچائی کو چھپانے اور ممنوعہ کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ اور اس کی پیرنٹ کمپنی کو مدد فراہم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔’
بتادیں کہ جب مبینہ گھوٹالہ سامنے آیا تھا اس وقت انٹونی وزیر دفاع تھے۔
سال2021 میں کمپنی پر سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد کانگریس نے حکومت پر پابندی ہٹانے اور لیونارڈو کو ایک فعال دفاعی پارٹنر کے طور پر شامل کرنے کے پیچھے خفیہ معاہدے کا
الزام لگایا تھا ۔ اس وقت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر
لکھا تھا ،’پہلےاگستاکرپٹ تھا، اب بی جے پی لانڈری میں دھل کرصاف ہو گیا !’
اس وقت مودی اور بی جے پی نے کیا کہا تھا؟
سال2013 اور 2014 کے درمیان بی جے پی نے اگستا ویسٹ لینڈ ڈیل کو ‘یو پی اے حکومت کا سب سے بڑا گھوٹالہ’ قرار دیتے ہوئے کانگریس پر سخت حملہ کیا تھا۔ اس وقت بی جے پی کے رہنما اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے انتخابی ریلیوں میں کہا تھا کہ اس معاہدے نے ‘کرپشن کے کانگریس کلچر’ کی مثال پیش کی ہے۔
سال 2016میں وزیر اعظم نریندر مودی نے
کہا تھا کہ ان کی حکومت بدعنوانی کے معاملات میں ‘زیرو ٹالرینس’ کی پالیسی اپنا رہی ہے اور اگستا ویسٹ لینڈ جیسے معاملات میں مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔
بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے باربار یہ سوال اٹھایا تھا کہ جب ہندوستانی کمپنیاں ہیلی کاپٹر بنا سکتی ہیں تو پھر غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ کیوں پہنچایا گیا۔
لیونارڈو اور اڈانی ڈیفنس کے درمیان ہوئے ڈیل میں کیا ہے؟
ہندوستان میں اطالوی سفیر انتونیو اینریکو بارٹولی نے لیونارڈو اور اڈانی دفاعی شراکت داری کو دفاعی صنعت کے ‘دو عالمی چیمپئن’ کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا اور ہندوستان کو اٹلی کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اٹلی میں ہندوستانی سرمایہ کاری بڑھے گی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان اور یورپی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے سیاسی اور اسٹریٹجک اثرات پر عوامی بحث محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس کے ڈائریکٹر جیت اڈانی نے اس معاہدے کو ہندوستان کو’
عالمی ایرو اسپیس پاور ہاؤس‘ بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس سے اعلیٰ ہنر مند ملازمتیں پیدا ہوں گی اور خود کفیل ہندوستان کے مقصد کو تقویت ملے گی۔ تاہم، ملازمتوں کی اصل تعداد، ان کی نوعیت، اور طویل مدتی پائیداری کے حوالے سے کوئی ٹھوس تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔
کمپنی کے سی ای او آشیش راج ونشی کے مطابق، ہندوستانی مسلح افواج کو اگلے دس سالوں میں
ایک ہزار سے زیادہ ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہوگی ۔ فوج، فضائیہ، بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے لیے مختلف زمروں—لائٹ یوٹیلیٹی، میڈیم لفٹ، انٹرمیڈیٹ، اور میری ٹائم ملٹی رول ہیلی کاپٹروں کی مانگ کی بات کہی جا رہی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے طویل عرصے تک غیر ملکی ٹکنالوجی اور نجی کارپوریٹ شراکت داری پر منحصر رہے گا۔
لیونارڈو، جو پہلے اگستا ویسٹ لینڈ کے نام سے معروف تھا، ماضی میں بھارت میں تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ لہذا، یہ نئی شراکت داری فطری طور پر شفافیت، احتساب اور پارلیامانی نگرانی کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔
دفاعی سودوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘میک ان انڈیا’ اور ‘آتم نربھرتا’ کے دعووں سے آگے بڑھ کر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ملک حقیقت میں کتنی تکنیکی خودمختاری حاصل کرے گا اور کس قیمت پر۔
سوال صرف خود انحصاری کا نہیں ہے، بلکہ شفافیت اور عوامی احتساب کا بھی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ جیسی پبلک سیکٹر کی کمپنی کے پاس ہیلی کاپٹر کی تیاری کا تجربہ ہے، بڑے دفاعی سودوں میں نجی کمپنیوں کو ترجیح دینا پالیسی اور ارادے دونوں پر سوال اٹھاتا ہے۔