نربھیا گینگ ریپ اور قتل معاملہ: چاروں مجرموں کو 22 جنوری کو دی جائے گی پھانسی

دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نربھیا کے سبھی مجرموں کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیا ہے۔ مجرموں کو آگے کی قانونی کارروائی کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نربھیا کے سبھی مجرموں کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیا ہے۔ مجرموں کو آگے کی قانونی کارروائی کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: دہلی کی ایک مقامی  عدالت نے نربھیا گینگ ریپ  اور قتل  معاملے میں چاروں مجرموں  کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کیا ہے۔ اس گھناؤنے جرم  کے چاروں مجرموں اکشے ٹھاکر سنگھ، مکیش، پون گپتا اور ونئے شرما کو 22 جنوری کو صبح سات بجے تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

دہلی کے پٹیالہ کورٹ کے ایڈیشنل سیشن کے  جج ستیش کمار اروڑہ نے کہا کہ مجرموں  کو آگے کی قانونی کارروائی کے لیے 14 دنوں کا وقت  دیا گیا ہے۔نربھیا کے والدین  کے ذریعے چاروں مجرموں کی پھانسی کی سزا کے لیے قانونی پروسیس  میں تیزی لانے اور ان کے لیے ڈیتھ وارنٹ کی مانگ کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرنے کے بعد یہ فیصلہ آیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد نربھیا کی ماں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو آخرکار انصاف مل گیا۔ انہوں نے کہا، ‘میری بیٹی کو انصاف  مل گیا۔ چاروں مجرموں کی پھانسی سے ملک  کی خواتین  کو طاقت ملے گی۔ اس فیصلے سے عدلیہ  میں ملک  کے لوگوں کا بھروسہ  بڑھے گا۔’اس بیچ مجرموں  کے وکیل اے پی سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیوریٹو عرضی  داخل کی جائے گی۔

اس سے پہلے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج نے ویڈیو کانفرنسنگ  کے ذریعے چاروں مجرموں  سے بات کی۔ اس دوران میڈیا کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا۔شنوائی کے دوران، پراسیکیوٹر  نے کہا کہ کسی بھی مجرم  کی عرضی  کسی بھی عدالت یا صدر جمہوریہ  کے سامنے زیر التوا نہیں ہے اور سبھی مجرموں  کی ریویو پٹیشن  کو سپریم کورٹ خارج کر چکا ہے۔

دہلی وومین کمیشن  چیف  سواتی مالیوال نے اس فیصلے کا خیر مقدم  کرتے ہوئے کہا، ‘میں اس فیصلے کا خیر مقدم  کرتی ہوں۔ اس ملک  میں رہ رہی سبھی نربھیا کی یہ جیت ہے۔ میں اس لڑائی کو گزشتہ  سات سال تک لڑنے کے لیے نربھیا کے والدین  کو سلام کرتی ہوں۔ ان لوگوں کو سزا دینے میں سات سال کیوں لگے؟ یہ وقت  کم کیوں نہیں ہو سکتا تھا؟’

گزشتہ سال 9 جولائی کو عدالت نے تین دوسرے مجرموں مکیش (30), پون گپتا (23)اور ونے شرما (24) کی ریویو کی عرضیاں  یہ کہتے ہوئے خارج کر دی تھی کہ 2017 کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی کوئی بنیاد  نہیں بنائی گئی ہے۔غور طلب ہے کہ 16 دسمبر، 2012 کی رات کو ساؤتھ دہلی میں ایک چلتی بس میں 23 سال کی پیرامیڈیکل اسٹوڈنٹ کے ساتھ چھ لوگوں نے گینگ ریپ کیا اور اس پر بے رحمی سے حملہ کیا تھا اور اس کو چلتی بس سے باہر پھینک دیا تھا۔

29 دسمبر، 2012 کو سنگاپور کے ایک ہاسپٹل میں اس کی موت ہو گئی تھی۔ معاملے کے ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں مبینہ طورپر خودکشی کر لی تھی۔ ایک دوسرا ملزم نابالغ تھا اور اسے جووینائل جسٹس بورڈ نے مجرم  ٹھہرایا تھا۔ اس کو تین سال کی مخصوص سزا کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے 2017 میں اس معاملے کے باقی چار مجرموں کو نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ کے سنائے گئے سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔