’آپ نے تو اس ملک کے شہریوں کےتحفظ کا حلف اٹھایا تھا۔ پھر آپ ہی ان کا خون بہانے لگے؟ توڑ دیا آپ نے اپنا حلف اور ہمارابھروسہ! ‘

گزشتہ20جولائی 2026 کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین کو طاقت کا استعمال کرتے حراست میں لیا گیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
دہلی کے جنترمنتر پر 20 جولائی 2026 کو طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ پرتشدد کارروائی کے بعد 1,802 سے زیادہ فکرمند شہریوں کے ایک گروپ نے وہاں تعینات پولیس اور سکیورٹی فورسز کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔
اس خط میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور افسران سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن مظاہرین پر حملہ کرنے کے احکامات پر عمل نہ کریں اور ایسے احکامات کی مخالفت کریں۔
یہ کھلا خط انگریزی کے علاوہ ہندوستان کی 15 زبانوں — بنگالی، گڑھوالی، ہندی، کنڑ، کشمیری، خاصی، میتھلی، ملیالم، مراٹھی، نیپالی، پنجابی، راجستھانی، تمل، تیلگو اور اردو – میں بھی جاری کیا گیا ہے۔
پورا خط ملاحظہ کریں-
ہمیں سکھایا گیا ہے کہ خط ہمیشہ ’محترم‘یا’پیارے‘جیسے القاب سے شروع کرنا چاہیے۔ لیکن جنترمنتر میں طلبہ پر ہوئے جان لیوا حملوں کے ویڈیو دیکھنے کے بعد ہم آپ کو’محترم‘یا’پیارے‘کیسے کہیں؟
اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کی ہڈیاں ٹوٹ رہی تھیں، رگیں پھٹ رہی تھیں، خون بہہ رہا تھا، کپڑے پھٹ رہے تھے، جسم زمین پر گر رہے تھے… آپ کے ہاتھوں میں موجود لاٹھیاں اس قدر بے رحمی سے برس رہی تھیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ آپ ہوش میں تھے یا نہیں۔ اگر آپ ہوش میں تھے تو کیا آپ کو ان نوجوانوں میں اپنے بھائی، بہن یا بچوں کے چہرے نظر نہیں آئے؟
یہ نوجوان ملک کے دور دراز علاقوں سے دارالحکومت کی سڑکوں پر اکٹھے ہوئے تھے ، اور بدعنوانی سے پاک تعلیمی نظام اور اپنے بہتر مستقبل کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کر رہے تھے۔ بغیرکسی تشدد کے۔
اتنے سارے ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ آپ کے ساتھ سادہ لباس میں ملبوس ایسے افراد تھے جو سرکاری لاٹھیاں چلا رہے تھے، پتھر پھینک رہے تھے اور مظاہرین کو بے رحمی سے مار رہے تھے۔ دس دس سال کے بچے درد سے چیخ رہے تھے۔
آپ نے تو اس ملک کے عام شہریوں کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا۔ پھر آپ ہی ان کا خون بہانے لگے؟ آپ نے وعدہ خلافی کی اور ہماری اعتماد شکنی کی!
ہم جانتے ہیں کہ آپ کہیں گے کہ یہ اوپر سے حکم تھا۔ آپ صرف اپنی نوکری، اپنا کام کر رہے تھے۔ لیکن آپ بھی جانتے ہوں گے کہ ہر حکم ماننا اور اپنی نوکری کرنا ہمیشہ ایک ہی بات نہیں ہوتی۔ دنیا میں کئی مواقع پر سرکاری سکیورٹی فورسز نے عوام پر ہتھیار اٹھانے سے انکار کیا ہے۔ اگر مثال کی ضرورت ہو تو رومانیہ کو یاد کیجیے۔ 1989 میں جب آمر نکولائے چاؤشیسکو نے اپنے وزیر دفاع واسیلے میلیا کو بخارسٹ کے مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دیا تو وزیر دفاع نے صاف انکار کر دیا۔ 2011 میں عرب بہار کے دوران تیونس اور مصر میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
سن2014 میں جب یوکرین میں یورومیدان احتجاج جاری تھا، اس وقت وہاں کی علاقائی پولیس نے مظاہرین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور ان پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیمڈن اور اٹلانٹا میں 2020 کے جارج فلائیڈ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں نے اپنے تمام ہتھیار زمین پر رکھ دیے تھے۔ ہمارے اپنے ہی ملک کی تاریخ یاد کیجیے۔ 1930 کے نمک ستیہ گرہ کے دوران گڑھوال رائفلز نے برطانوی حکومت کے حکم کو ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ حکم یہ تھا کہ خان عبدالغفار خان کی قیادت میں پشاور کے پرامن مظاہرین کو گولیوں سے بھون دیا جائے۔ لیکن گڑھوال رائفلز نہیں مانے۔ یہی ہماری اور آپ کی تاریخ اور ورثہ ہے۔ جب مظاہرین انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، تو آپ بھی ایسے احکامات ماننے سے انکار کر سکتے ہیں جو آپ کو اپنے اصل فرض، یعنی اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت، سے روکتے ہوں۔
جو لوگ آپ کو یہ احکامات دے رہے ہیں، کیا انہیں آپ کے بچوں اور ان کی تعلیم کی ذرہ برابر بھی فکر ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ ان کے اپنے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور ان میں سے بہت سے واپس بھی نہیں آئیں گے؟ کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ ایک ایسی حکومت کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں جو اپنے ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی آواز کو دبانا چاہتی ہے؟
ذرا یاد کیجیے، 2024 میں اتر پردیش پولیس میں کانسٹبل کی بھرتی کے امتحان کا پرچہ بھی لیک ہو گیا تھا، اور آپ ہی جیسے پولیس کی ملازمت کے خواہش مند نوجوان بھی اس کا شکار ہوئے تھے۔ آپ بھی ہماری ہی طرح ایک محرومیوں بھرے گھر سے نکل کر آئے ہوں گے۔ آپ نے سخت محنت کی ہے، نوکری حاصل کی ہے، اور آج بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہوں گے۔ ہماری ہی طرح آپ کے پاس بھی پیسوں کا پیڑ تو نہیں، جیسے ان لوگوں کے پاس ہے جو آپ کو حکم دیتے ہیں۔ آپ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ یہ سب دیکھ کر ہمیں غصہ آئے گا، ہمارا دل ٹوٹے گااور ہمیں تکلیف ہوگی۔ آپ اپنی ہی عوام پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں، جو ہم سب کے بچوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ آپ کے بچوں کو بھی اس تلخ حقیقت کے ساتھ جینا پڑے گا کہ ان کے والدین نے انہی جیسے بچوں پر تشدد کیا، جو اس ملک کے شہری تھے اور اپنے حقوق مانگنے آئے تھے ہم ان کے لیے بھی ہمدردی رکھتے ہیں۔
ہم یہ خط اس لیے لکھ رہے ہیں کہ ہماری آواز آپ کے دل اور آپ کے ضمیر تک پہنچے۔ اگلی بار اگر ایسا کوئی حکم آئے جو آپ کو معصوم اور پرامن مظاہرین پر بے رحمی سے تشدد کرنے پر مجبور کرے، تو ایک لمحے کے لیے رکیے، سوچیے… اور پھر اپنی لاٹھی نیچے کر دیجیے۔ صاف کہہ دیجیے نہیں! اگر آپ یہ کر پائے، آپ جیسے سینکڑوں -ہزاروں اہلکار جو تعنیات ہوئے ہیں، تو اس حکومت کو پیغام چلا جائے گا۔ انہیں پتہ چلا جائے گا کہ جب وہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض ادا نہیں کرتی، تو وہ آپ کو ڈھال بنا کر عوام کے سامنے کھڑا نہیں کر سکتی۔ کیونکہ جب وہ شہریوں کو مایوس کرتی ہے تو وہ آپ کو بھی مایوس کرتی ہے، آخر آپ بھی تو اسی ملک کے شہری ہیں۔ اور پھر وہ ہمارے اور آپ کے بچوں کو مایوس کر کے ان کے مستقبل کو بھی برباد کر رہے ہیں۔
چلیے،اگر آپ ہمارے ساتھ مل کر ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے، تو کم از کم ہمارے آواز اٹھانے کے حق کا تحفظ کیجیے۔
فکرمند شہری