سال 2014 سے 2019 کے درمیان 114 کمپنیاں بند، تقریباً 16000 لوگ متاثر

01:37 PM Dec 03, 2019 | دی وائر اسٹاف

بی ایس پی  رکن پارلیامان دانش علی کے سوال پر مزدور اور روزگار کے ریاستی وزیرسنتوش گنگوار نے گزشتہ25 نومبر 2019 کو لوک سبھا میں یہ جانکاری دی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

نئی دہلی: سال 2014 سے لےکر 2019 کے درمیان ملک بھر میں کمپنیوں کی کل 114 اکائیاں بند ہو گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے تقریباً16000ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔ مزدور اورروزگارکے ریاستی وزیر سنتوش گنگوار نے گزشتہ25 نومبر 2019 کو لوک سبھامیں یہ جانکاری دی۔بی ایس پی  رکن پارلیامان دانش علی نے ایوان میں پوچھا تھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ گزشتہ  پانچ سال میں بڑی تعداد میں کمپنیاں بند ہوئی ہیں اور اگر ایسا ہوا ہے تو اس کی وجہ اور تفصیل دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ ان کمپنیوں کے بند ہونے کی وجہ سے کل کتنےلوگ بےروزگار ہوئے اور حکومت کی طرف سے ان کے ذریعہ معاش کے لئے کیا اقدامات کئےگئے ہیں۔دانش علی کے سوال کے جواب میں سنتوش گنگوار نے سال 2014 سے 2019 کے درمیان کی تفصیل دی جس میں بند ہوئی اکائیوں کی تعداد، بند ہونے کی وجہ اور متاثر ہوئے لوگوں کی تعداد کے بارے میں جانکاری شامل ہے۔

بند ہوئی اکائیاں اور متاثرین کی تعداد(ماخذ : لوک سبھا)

مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2014 میں 34، سال 2015 میں 22،سال 2016 میں 27،سال 2017 میں 22،سال 2018 میں آٹھ اور سال 2019 میں ستمبر تک کل 114 اکائیاں بند ہو چکی ہیں۔ ان اکائیوں کے بند ہونے کی وجہ سے سال 2014 میں 4726،سال 2015 میں 1852، سال 2016 میں 6037، سال 2017 میں 2740،سال 2018 میں 537 اور سال 2019 میں ستمبر تک کل 45 ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔

 حالانکہ ابھی یہ اعداد و شمار پروویزنل ہیں۔گنگوار نے کہا کہ ایسے متاثرمزدوروں کے مفادات کی حفاظت صنعتی تنازعہ ایکٹ، 1947 کے تحت معاوضہ دےکر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این ایس ڈی سی) کے تحت کاؤنسلنگ، ری ٹیننگ اینڈ ری ڈپلائمنٹ(سی آر آر)نام کی ایک اسکیم نافذ کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد اسکل ڈیولپمنٹ کی ٹریننگ کے ذریعے وی آر ایس/وی ایس ایس لینے والوں کو نئے ماحول میں ایڈجسٹ کرنا اور ان کو قابل بنانا ہے۔