جے این یو تشدد معاملہ: دہلی پولیس نے کی وہاٹس ایپ گروپ کے ممبروں کی پہچان، 10 باہری لوگ شامل

جے این یو تشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی  ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام کے ایک وہاٹس ایپ گروپ کی پہچان کی ہے۔ نئی دہلی :جے این یوتشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام […]

جے این یو تشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی  ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام کے ایک وہاٹس ایپ گروپ کی پہچان کی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی :جے این یوتشدد معاملے میں دہلی پولیس کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے ‘یونٹی اگینسٹ لیفٹ’ نام کے ایک وہاٹس ایپ گروپ کی پہچان کی ہے۔ اس گروپ میں کل 60 ممبر شامل تھے۔ اس گروپ کے 37 لوگوں کی پہچان کی جا چکی ہے۔ این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں کہا ہے کہ ، اس گروپ میں تقریباً10 ایسے لوگ شامل تھے، جو باہری ہیں۔تشدد میں شامل یہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق کیمپس سےنہیں  ہے۔ جانچ میں  سامنے آیا ہے کہ دونوں گروپ یعنی لیفٹ اور رائٹ نے تشدد میں باہری لوگوں کی مدد لی۔

جن ستا کی ایک خبر کے مطابق، 60 لوگوں کے ممبر والے اس وہاٹس ایپ گروپ کا ایڈمن مبینہ طور پر اے بی وی پی کارکن یوگیندر بھاردواج ہے ۔دہلی پولیس کے مطابق، یہ مانا جارہا ہے کہ یونٹی اگینسٹ لیفٹ نامی وہاٹس ایپ گروپ جے این یو میں تشدد کے دوران ہی بنایا گیا تھا اور تشدد میں اس گروپ کے لوگوں کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ فی الحال پولیس اس کی جانچ کر رہی ہے ۔ اس سے پہلے جمعہ کو پولیس نے پریس کانفرنس میں 9 لوگوں کے نام بتائے تھے ۔

دہلی پولیس کے مطابق،ان لوگوں میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کی صدرآئشی گھوش سمیت لیفٹ تنظیموں سے وابستہ طلبا بھی شامل ہیں ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 5 جنوری کو یونیورسٹی میں ہوئے تشدد میں پہلے سرور میں توڑ پھوڑ کی تھی ۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں تشدد ہوا۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران کچھ وہاٹس ایپ گروپ بنائے گئے تھے ۔ اتوار کی شام 7 بجے یونٹی اگینسٹ لیفٹ نامی وہاٹس ایپ گروپ بنایا گیا تھا۔دہلی پولیس کے مطابق،جے این یو کے طلبہ و طالبات  نے ہی باہری شر پسند عناصروں  کو کیمپس میں داخل کروایا تھا۔ اب اس پورے معاملے میں جے این یو کا سیکورٹی گارڈ بھی شک کے دائرے میں ہے۔ وائرل ویڈیو میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین  کی صدرآئشی گھوش سمیت کل9 لوگوں کی پہچان کی گئی ہے۔ ان کے خلاف الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور فارنسک شواہد  جمع کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی پوچھ تاچھ کے لیے بلایا جائےگا۔

حالانکہ ان لوگوں نے اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہلی پولیس کی  جانچ میں تعاون کریں گے۔ وہیں فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر رمیش پوکھریال نشنک نے جے این یو طلبا کے تشدد میں شامل ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ جے این یو کے طلبا ہی اس پورے معاملے میں شامل ہیں، یہ جان کر مایوس ہوں۔

بتادیں کہ  جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو)میں اتواردیر رات ہوئے تشدد کے بعد دہلی پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ فساد کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات  کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔دریں اثنا دہلی کے جواہر لال  نہرو یونیورسٹی  میں گزشتہ رات ہوئی توڑ پھوڑ اور تشدد کے بعد سابرمتی ہاسٹل کے وارڈن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نا معلوم حملہ آوروں کے ذریعے  سب سے زیادہ اسی ہاسٹل میں توڑ پھوڑ کی گئی اور طلبا  کو بے رحمی  سے پیٹا گیا۔

اسٹوڈنٹس  کو تحفظ  مہیا نہ کرا پانے پر افسوس کا اظہار کرتے  ہوئے سابرمتی ہاسٹل کے سینئر وارڈن آر مینا نے استعفیٰ  دے دیا ہے۔ ڈین آف اسٹوڈنٹس کو خط  لکھ کر انہوں نے کہا، ‘میں سینئر وارڈن کے عہدے  سے استعفیٰ  دیتا ہوں کیونکہ ہم نے کوشش کی لیکن ہاسٹل کو تحفظ  نہیں دے پائے۔’