سی اے اے مظاہرین کے خلاف وصولی نوٹس واپس لے یوپی حکومت یا ہم انہیں رد کر دیں گے: عدالت

08:33 PM Feb 13, 2022 | دی وائر اسٹاف

سپریم کورٹ نے دسمبر 2019 میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو وصولی  نوٹس بھیجے جانے پر اتر پردیش حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیے  گئے قانون کے خلاف ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

 نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مبینہ طور پر احتجاج کرنے والے لوگوں کو وصولی کے نوٹس بھیجے جانے پر جمعہ کو اتر پردیش حکومت کو پھٹکار لگائی، اور اسے کارروائی واپس لینے کا آخری موقع دیا اور کہا کہ ورنہ عدالت قانون کی خلاف ورزی کرنے والی  اس کارروائی کو رد کر دے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی یہ کارروائی سپریم کورٹ کےبتائے گئے قانون کے خلاف ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنےکی کارروائی  کےلیےخود ہی  ‘شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر’ کی طرح  کام کیا ہے۔

بنچ نے کہا، کارروائی کو واپس لیں یا ہم اس عدالت کے ذریعہ مقررہ قانون کی خلاف ورزی کے لیے اس کو رد کر دیں گے۔

سپریم کورٹ پرویز عارف ٹیٹو کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں اتر پردیش میں سی اے اے ایجی ٹیشن کے دوران عوامی املاک کو ہوئے نقصان کی تلافی کے لیے ضلع انتظامیہ کی طرف سے مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹس کو رد کرنے کی گزارش  کی گئی ہے اور  ریاست سے جواب طلب کیا گیا ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس طرح کے نوٹس ‘من مانی طریقے سے’  بھیجے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کو بھی بھیجا گیا ہے جو چھ سال قبل 94 سال کی عمر میں فوت ہو گیا تھا اور اس طرح کے نوٹس  90 سال سے زیادہ عمر کے دو افراد سمیت کئی دیگر افراد کو بھی بھیجے گئے تھے۔

اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئےایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد کہا کہ ریاست میں 833 فسادیوں کے خلاف  106 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور ان کے خلاف  274 وصولی  نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ،  274 نوٹس میں سے  236 میں وصولی کےآرڈر پاس کیے گئے تھے ، جبکہ 38معاملے  بند کر دیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2020 میں نوٹیفائیڈ نئے قانون کے تحت، کلیمز ٹریبونل کا قیام عمل میں آیا ہے، جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج کررہے ہیں اور اس سے قبل اس کی سربراہی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم ) کررہے تھے۔

بنچ نے کہا، سپریم کورٹ نے 2009 اور 2018 میں دو فیصلوں میں کہا ہے کہ کلیمز ٹریبونل میں عدالتی افسران کی تقرری کی جانی چاہئے لیکن اس کے بجائے آپ نے اے ڈی ایم کی تقرری کی۔

پرساد نے کہا کہ سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران 451 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور متوازی مجرمانہ کارروائی اور بازیابی کی کارروائی کی گئی۔

بنچ نے کہا، آپ کو قانون کے تحت طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔اس کی جانچ کریں، ہم 18 فروری تک موقع دے رہے ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہا، میڈم پرساد، یہ صرف ایک تجویز ہے۔ یہ پٹیشن صرف ایک طرح  کی تحریک یا احتجاج کے حوالے سےدسمبر 2019 میں بھیجے گئے نوٹس سے متعلق ہے۔ آپ انہیں ایک جھٹکے میں واپس لے سکتے ہیں۔ اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں 236 نوٹس کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر آپ نہیں مانتے تو انجام بھگتنے  کے لیے تیار رہیں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیسے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کیاجانا چاہیے۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ جب اس عدالت نے ہدایت دی تھی کہ فیصلہ جوڈیشل افسر کو لینا ہے تو پھر اے ڈی ایم کیسے کارروائی  کر رہے ہیں۔

پرساد نے 2011 میں کلیمز ٹربیونلز کے قیام کے بارے میں جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے بعد کے احکامات میں اسے منظوری دے دی  تھی۔

اس پر جسٹس کانت نے کہا کہ 2011 میں ہائی کورٹ نے حکومت کے آرڈر کو مسترد کر دیا تھا اور اس وقت ریاست نے ایک قانون لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ریاست کو قانون لانے میں 8-9 سال لگ گئے۔

جسٹس کانت نے کہا، ہم سمجھتے ہیں کہ آپ 2011 میں وہاں نہیں تھے لیکن آپ غلطیوں کو بخوبی ٹھیک کر سکتے تھے۔

پرساد نے کہا کہ جن ملزمان کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے تھے، وہ اب ہائی کورٹ کے سامنے ہیں اور ایک طویل سماعت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں2011 سے چل رہی ہیں اور اگر عدالت ان سی اے اے مخالف کارروائیوں کو رد کر دیتی ہے تو وہ سب آ کر راحت کا مطالبہ کریں گے۔

جسٹس چندر چوڑ نے کہا، ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمیں صرف ان نوٹسوں کی وجہ سے تشویش ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران بھیجے گئے تھے۔ آپ ہمارے احکامات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ آپ اے ڈی ایم کی تقرری کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ ہم نے کہا تھاکہ یہ جوڈیشل افسران کو کرنا چاہیے۔ دسمبر 2019 میں جو بھی کارروائی ہوئی وہ اس عدالت کےذریعہ طے کردہ قانون کے خلاف تھی۔

پرساد نے کہا کہ عدالت نے جو بھی کہاہے  اس پر غور کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال نو  جولائی کو سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت سے کہا تھا کہ وہ  صوبے میں شہریت  قانون (سی اے اے)کے خلاف تحریک  کے دوران سرکاری ملکیت کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لیےمبینہ مظاہرین کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے قبل میں بھیجے گئے نوٹس پر کارروائی نہ کرے۔

عدالت نے حالانکہ کہا کہ صوبہ قانون کے مطابق  اور نئے ضابطے کےتحت کارروائی کر سکتا ہے۔

پرویز عارف ٹیٹو نے دلیل دی تھی کہ یہ نوٹس الہ آباد ہائی کورٹ  کے 2010 کے ایک فیصلے پر مبنی ہے جو 2009 کے ایک فیصلے میں سپریم کورٹ عدالت کے ذریعے طے کیے گئے گائیڈ لائن کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے 2018 میں ایک حکم نامے میں 2009 کے فیصلے کی بھی توثیق کی تھی۔

معلوم ہوکہ اتر پردیش سرکار نے 2019 کےآخر میں ان لوگوں سے ملکیت کے نقصان کی وصولی کرنے کی دھمکی دی تھی، جنہیں 2019 کےآخرمیں سی اےاےمخالف مظاہروں کےدوران دوران قصوروارمظاہرین کے طورپر پہچانا گیا تھا۔

دی وائر نے تب ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کیسےیہ قدم قانونی جانچ کے پیمانے پر کھرا نہیں اترتا ہے۔ دسمبر 2019 کے آخر تک چار ضلعوں کی انتظامیہ نے دنگا کرنے کےملزم 130 سے زیادہ  لوگوں کو نقصان کی بھرپائی  میں لگ بھگ 50 لاکھ روپے کی ادائیگی  کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

اس کے بعد مارچ 2021 میں اتر پردیش اسمبلی نے سرکاری اورنجی املاک کے نقصان  کی بھرپائی کے لیے ایک بل پاس  کیا۔قانون کے تحت،مظاہرین کو سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کےقصوروار پائے جانے پر ایک سال کی قید یا 5000 روپے سے لےکر1 لاکھ روپے تک کے جرما نے کا سامنا کرنا پڑےگا۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)