امریکی وزیر خارجہ نے کہا-مذہبی آزادی سے سمجھوتہ ہوا تو بدتر ہو جائے‌گی دنیا

گزشتہ 21 جون کو امریکی وزارت خارجہ کے ذریعے جاری بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں گائے کے کاروبار یا گئو کشی کی افواہ پر اقلیتی کمیونٹی،بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ہندو گروپوں نے تشدد کیا ہے۔

گزشتہ 21 جون کو امریکی وزارت خارجہ کے ذریعے جاری بین الاقوامی  مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں گائے کے کاروبار یا گئو کشی کی افواہ پر اقلیتی کمیونٹی،بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ہندو گروپوں نے تشدد کیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو(فوٹو بہ شکریہ : اے این آئی)

امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو(فوٹو بہ شکریہ : اے این آئی)

نئی دہلی: امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے مذہبی آزادی کے اختیار کے حق میں’مضبوطی’سے آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے بدھ کو کہا کہ اگر اس کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا تو دنیا بدتر ہو جائے‌گی۔پومپیو کے تبصرہ کی اہمیت اس لئے ہے، کیونکہ 21 جون کو امریکی وزارت خارجہ نے 2018 کی سالانہ بین الاقوامی  مذہبی آزادی رپورٹ جاری کی تھی۔

اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہندوستان میں 2018 میں گائے کے کاروبار یا گئو کشی کی افواہ پر اقلیتی کمیونٹی، بالخصوص  مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند ہندو گروپوں نے تشدد کیا ہے۔پومپیو نے یہاں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں’ہندوستان کی پالیسی’پر اپنی تقریر میں کہا، ‘ ہندوستان چار بڑے مذاہب کی جائے پیدائش ہے۔ سبھی کے لئے مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں متحد ہو جانا چاہیے۔ ہمیں ان حقوق کے حق میں مضبوطی سے ایک ساتھ آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ جب بھی ان حقوق کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے‌گا تو دنیا بدتر ہو جائے‌گی۔ ‘

امریکی رپورٹ میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے ذکر کے علاوہ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بی جے پی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے ‘ اقلیتی کمیونٹی کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کئے۔ ‘رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے بی جے پی کے میڈیا محکمہ کے انچارج اور راجیہ سبھا کے ممبر انل بلونی نے ایک بیان میں کہا کہ اس رپورٹ میں بنیادی تصوریہ ہے کہ اقلیت مخالف تشدد کے پیچھے بڑی سازش ہے جو جھوٹ ہے۔ اس کے برعکس، ایسے زیادہ تر معاملوں میں،یہ واقعہ مقامی تنازعات کا نتیجہ تھا، ان کو مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں نے انجام دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت ہوئی وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں نے اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقے کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔اپنی 15 منٹ کی مختصر تقریر میں پومپیو نے کہا کہ جیش محمد کے چیف مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی دہشت گرد اعلان کئے جانے سے امریکہ خوش ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے فلسطین کے این جی او کے خلاف حال میں اقوام متحدہ میں رائے دہندگی کی اور یہ دکھایا کہ دہشت گردی کو انعام دینا غلط ہے۔ پومپیو نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کے اس حوصلہ کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے رہنما ہیں جو خطرات  سے نہیں ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘ہندوستان-امریکہ کی دوستی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ قانون کی حکومت، انسانی وقار کے متعلق احترام، شہری سماج کی اہمیت-ان خیالات پر ہندوستانیوں اور امریکیوں کا اعتماد ہے۔ ‘انہوں نے کہا کہ دونوں ملک بھلےہی 10000 میل دور ہوں مگر ان کی جمہوریت ان کو قریب لاتی ہیں۔ ہندوستانی قیادت کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف دو طرفہ مدعوں پر بات چیت نہیں ہوئی ہے بلکہ ہم نے اہم موضوعات پر بہت وقت دیا۔

پومپیو نے کہا، ‘یہ غلط فہمی ہے کہ ہمارے ملک مکمل ساجھےدار نہیں ہو سکتے ہیں لیکن یہ سچ نہیں ہے، اس پر نظر ڈالیے جو پہلے ہوا ہے۔ آپ نے ایران سے تیل در آمد بند کرنے کا سخت فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے وینزویلا سے تیل خریدنا بند کیا ہے۔ ان فیصلوں کی قیمتیں چکانی ہوتی ہیں۔ ‘انہوں نے کہا، ‘ ہم یہ یقینی بنانے کے لئے سب کچھ کر رہے ہیں کہ آپ کو کچےتیل کی در آمد ہوتی رہے۔ ہم عام ممالک کی طرح سلوک کرنے کے لئے ان ممالک پر دباؤ ڈالنے کی آپ کی کوشش کی تعریف کرتے ہیں۔ ‘

انہوں نے کہا کہ بحر الکاہل  سے آج 60 فیصد عالمی سمندری کاروبار گزرتا ہے۔ پچھلے ہفتوں میں ایران نے جاپان، ناروے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ٹینکروں پر ‘ حملہ ‘ کیا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)