چودہ مہینے سے اڈانی کے پاس امریکی سمن نہیں پہنچنے دے رہی مودی حکومت، اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کو تیار ایجنسی

04:40 PM Jan 22, 2026 | دیوی روپا مترا

یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن(ایس ای سی)نے ہندوستان کی جانب سے سمن جاری کرنے کے اس کے اختیار کو چیلنج کیے جانے کے بعد ایک  وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ کمیشن نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کونظرانداز کرتے ہوئے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کو ان کے امریکی وکیلوں اور ای میل کے ذریعے نوٹس کی تعمیل کرانے کی اجازت دے۔

ایس ای سی نے بدھ (21 جنوری) کو نیو یارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں کہا، ایس ای سی کو توقع نہیں ہے کہ ہیگ کنونشن کے تحت نوٹس کی تعمیل ممکن ہو پائے گی ‘۔ اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے فروری 2025 سے جس معاہدے پر مبنی عمل کی پیروی کی جا رہی تھی، اس کو مؤثر طریقے سے ترک کر دیا ہے۔

یہ اقدام ایجنسی کی 14 ماہ کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کے تحت ہندوستانی ارب پتیوں کو باضابطہ طور پران الزامات کے بارے میں مطلع کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جو   75 کروڑ ڈالر کے بانڈ ایشو سے متعلق ہیں۔ اس بانڈ پیش کش (آفرنگ)کے ذریعے امریکی سرمایہ کاروں سے تقریباً 17.5 کروڑ ملین ڈالر اکٹھا  کیے گئے تھے۔

اس اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی وزارت قانون و انصاف کے ساتھ تقریباً ایک سال تک جاری خط و کتابت اور بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی ہے۔

عدالت میں داخل کردہ اپنے میمورنڈم میں ایس ای سی نے کہا،’وزارت کے موقف اور ہیگ کنونشن کے تحت پہلی بار نوٹس تعمیل کرانے کی کوشش کیے جانے کے بعد گزرے ہوئے وقت کو دیکھتے ہوئےایس ای سی کو توقع نہیں ہے کہ ہیگ کنونشن کے ذریعے نوٹس کی تعمیل ممکن ہوپائے گی۔’ ایجنسی نے یہ بھی کہا،’ایس ای سی  کوہندوستانی یا بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دہندگان کو نوٹس  تعمیل کرانے کے کسی متبادل طریقے سے واقفیت نہیں ہے۔’

ایسا لگا جیسے ایس ای سی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔

گزشتہ 14دسمبر 2025 کوایس ای سی کو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے خطوط موصول ہوئے، جن کی تاریخ 4 نومبرتھی ۔ ان خطوط میں ایک نیا اور غیر متوقع اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ ان  خطوط کو ایس ای سی کی پٹیشن کے ساتھ بطور ثبوت بھی منسلک کیا گیا ہے۔

ان خطوط میں امریکہ کے ایک ضابطہ کا حوالہ دیا گیا تھا ،ایس ای سی کے داخلی طریقہ کار کے ضابطہ 5(بی)، جو یہ طے کرتا ہے کہ ایجنسی کس طرح نفاذ کی کارروائیاں شروع کرتی ہے یا مقدمات کو محکمہ انصاف اور سیلف-ریگولیٹری اداروں کو بھیجتی ہے۔

وزارت نے کہا،’دستاویزوں کی جانچ کی گئی ہے اورسکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی)کے غیر رسمی اور دیگر طریقہ کار کے ضابطہ 5(بی)،17 سی ایف آر202.5§  (بی)کے مدنظر یہ پایاگیا ہے کہ مذکورہ بالا سمن ان زمروں میں شامل نہیں ہے۔’

ایس ای سی نے 21 جنوری کو دائر اپنی درخواست میں اس اعتراض کو بے بنیاد قرار دیا۔

ایجنسی نے لکھا،’اس اعتراض کا ہیگ کنونشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیوں کہ ہیگ کنونشن نوٹس سروس کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے، نہ کہ ایس ای سی کے نفاذ کی کارروائی شروع کرنے کے اختیار کو۔’ایس ای سی نے یہ بھی کہا کہ وزارت کا موقف ‘ایسا لگتا ہے گویا ایس ای سی کے پاس ہیگ کنونشن لاگو کرنے یا یا سمن کی تعمیل کرانے کااختیار ہی نہیں ہے،’ جبکہ متعلقہ ضابطے کا’ہیگ کنونشن کے طریقہ کار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔’

یہ دوسرا موقع ہے جب ہندوستان کی وزارت قانون و انصاف نے دستاویزوں کی تعمیل سے انکار کیا ہے۔پہلی بار اپریل 2025 میں انکار کیا گیا تھا۔ اس وقت، وزارت نے دستاویزوں پر مہر اور دستخط نہ ہونے  کا حوالہ دیا تھا، جبکہ ایس ای سی کا کہنا ہے کہ ہیگ کنونشن کے تحت اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

اب یہ فیڈرل رولز آف سول پروسیجر کے ضابطہ 4(ایف)(3)کے تحت عدالت سے اجازت طلب کر رہا ہے، تاکہ اڈانی گروپ کے خلاف سمن اور شکایت ان کے امریکہ میں مقیم وکیلوں کے ذریعے اور ان کے کاروباری ای میل ایڈریس پر ای میل کے ذریعے بھیجی جا سکے۔ ایجنسی کا استدلال ہے کہ یہ مدعا علیہان کو ‘مؤثر نوٹس’ فراہم کرے گا کیونکہ وہ ‘اس معاملے سے آگاہ ہیں اور فعال طور پر اپنے ردعمل  کومنظم کررہے ہیں۔’

دھوکہ دہی

قابل ذکر ہے کہ 20نومبر 2024 کوایس ای سی نے اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی، جو کمپنی کے ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کے خلاف  سول شکایت دائر کی۔اس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ہندوستانی حکومت کے اہلکاروں کو سینکڑوں ملین  ڈالر کی  ادائیگی یا ادائیگی کے وعدوں سے متعلق رشوت خوری  کی  ایک اسکیم کو انجام دیا۔

یہ الزامات ستمبر 2021 میں اڈانی گرین کی طرف سے جاری کردہ بانڈ آفرنگ سے متعلق ہیں، جس کے توسط سے امریکی سرمایہ کاروں سے175 ڈالر سے زیادہ کی رقم  اکٹھی کی گئی تھی۔ ایس ای سی کی شکایت کے مطابق، اس بانڈ آفرنگ سے متعلق دستاویزوں میں اڈانی گرین کے انسداد بدعنوانی اور انسداد رشوت ستانی کے پروگراموں کے حوالے سے کیے گئے دعوے گوتم اور ساگر اڈانی کے مبینہ طرز عمل کے مدنظر’قابل ذکر طور پر غلط یا گمراہ کن’ تھے۔

نیو یارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی اٹارنی کے دفتر نے اسی دن ایک متوازی فوجداری مقدمہ دائر کیا، اس میں اڈانی برادران اور دیگر پر سکیورٹیز فراڈ کی سازش ، وائر فراڈ کی سازش اور سکیورٹیز فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے۔

اڈانی گروپ نے 21 نومبر 2024 کو ایک بیان میں ان الزامات کو ‘بے بنیاد’ قرار دیا اور کہا کہ وہ ‘تمام ممکنہ قانونی اختیارات’ کا سہارا لے گا۔

کوئی مہر نہیں

اڈانی گروپ کو ہیگ کنونشن (سول یا تجارتی معاملات میں عدالتی اور غیر عدالتی دستاویزوں کی بیرون ملک تعمیل سے متعلق  کنونشن) کے تحت نوٹس بھیجنے کی ایس ای سی کی کوششیں 17 فروری 2025 کو شروع ہوئی تھیں۔ اسی دن ایس ای سی نے باضابطہ طور پر ہندوستان کی وزارت قانون و انصاف کو دستاویز بھیجے تھے، جو اس بین الاقوامی اتھارٹی کے تحت ہندوستان کی نامزد’سینٹرل اتھارٹی’ ہے۔

غور طلب ہے کہ 25 فروری 2025 کے خطوط میں – جن کی کاپیاں 21 جنوری کو ایس ای سی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کے ساتھ منسلک تھیں – وزارت نے ان درخواستوں کو احمد آباد کی ضلع اور سیشن عدالت کو بھیج دیا۔ ساتھ ہی  ہدایت کی گئی کہ ‘درخواست اور کیس سے متعلق دستاویزوں کا ایک سیٹ متعلقہ فریق/فریقوں کو تعمیل کرائی جائے اور تعمیل کے ثبوت سے متعلق رپورٹ وزارت کو بھیجی جائے۔’

تاہم، چند ہفتوں بعد، 16 اپریل 2025 کو وزارت نے ان درخواستوں کو بغیر تعمیل کرائے واپس کر دیا۔ ایس ای سی کے اٹارنی کرسٹوفر ایم کولوراڈو کو بھیجے گئے ایک جیسے خطوط میں – جو پٹیشن کے ساتھ منسلک ہیں – وزارت نے لکھا کہ ‘یہ پایاگیا ہے کہ فارورڈنگ لیٹر پر نہ تو کوئی مہر ہے اور نہ ہی دستخط، اور ماڈل فارم پر بھی درخواست کرنے والے اتھارٹی کی کوئی مہر بھی نہیں ہے۔’

اس کے بعدایس ای سی نے 27 مئی 2025 کو درخواست دوبارہ بھیجی ۔ اس کے ساتھ ایک خط بھی منسلک کیاگیا، جس میں کہا گیا  کہ ہیگ کنونشن کے تحت نہ تو کور لیٹر اور نہ ہی ماڈل فارم پر مہر لگانے کی ضرورت ہے۔

خط میں ایس ای سی نے یہ بھی کہا کہ اس کے پاس کئی سابقہ ​​ریکارڈ ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ہیگ سروس کنونشن کے تحت ہندوستان کی سینٹرل اتھارٹی کو بھیجی گئی درخواستیں اسی شکل میں تھیں اور بغیر کسی پریشانی کے تعمیل کر ائی گئی تھیں۔ اس میں دسمبر 2024 تک بھیجی گئی درخواستیں شامل ہیں، جن پر کوئی مہر نہیں تھی اور کور لیٹر  ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ تھے۔

ایس ای سی نے یہ بھی کہا کہ وہ باقاعدگی سے دوسرے ممالک میں سینٹرل اتھارٹی کو اسی طرح درخواستیں بھیجتا ہے — بغیر مہرکے اور ڈیجیٹل دستخط والے فارورڈنگ لیٹروں کے ساتھ — اور عام طور پر ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا ۔

اس کے باوجود، ہندوستانی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جب ایس ای سی کے آفس آف انٹرنیشنل افیئرز(دفتر برائے بین الاقوامی امور) نے 3 اپریل 2025 کو ایک فالو اپ لیٹر بھیجا، جس میں اسٹیٹس طلب کیا گیا، تو اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ 12 ستمبر کو بھیجے گئے دوسرے خط  پربھی  کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ای میل سے نوٹس بھیجنے کی تیاری

اب ایس ای سی نے جج نکولس جی گاروفیس سے درخواست کی ہے کہ وہ اڈانی کو ان کی امریکی قانونی فرموں اور ان کے کاروباری ای میل پتوں کے ذریعے نوٹس بھیجنے کی اجازت دیں۔

ساگر اڈانی نے ہیکر فنک ایل ایل پی کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ اس فرم کے ایک وکیل نے 4 دسمبر 2024 کو اس معاملے میں نمائندگی کی تصدیق کی تھی۔ وہیں گوتم اڈانی نے کرک لینڈ اینڈ ایلس ایل ایل پی اور کوئن ایمانوئل ارکوہارٹ اینڈ سلیوان ایل ایل پی کا تقرر کیا ہے۔ ان فرموں کے وکلاء نے 28 فروری 2025 کو ایس ای سی سے رابطہ کرتے ہوئے خود کو ‘اس معاملے کے سلسلے میں’ گوتم اڈانی کا کاؤنسل بتایا تھا۔

ایس ای سی نے اپنی درخواست میں دلیل دی،’جواب دہندگان کے کاؤنسل کے ذریعے نوٹس دینا جواب دہندگان تک معلومات کی رسائی کو تقریباً یقینی بنانا ہے ۔’

ایس ای سی یہ بھی چاہتا ہے کہ مدعا علیہان کو ان کے کاروباری ای میل پتوں پر ای میل کے ذریعے نوٹس بھیجے جائیں۔ ایجنسی نے کہا کہ شکایت درج کرنے سے پہلےکی تحقیقات کے دوران اسے 100 سے زیادہ دستاویزملے، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ساگر اڈانی نے اڈانی گرین سے متعلق کاروبار کے لیے اپنے کارپوریٹ ای میل کا استعمال کیا تھا۔ ان میں بانڈ آفرنگ سے متعلق دستاویز بھی  شامل ہیں ، اس کے ساتھ ہی مارچ 2024 تک کے حالیہ دستاویز بھی  ہیں۔

اسی طرح، ایس ای سی نے اس بات کی تصدیق کرنے والے دستاویز حاصل کیے ہیں کہ گوتم اڈانی نے بھی اپنے کاروباری ای میل کو کاروباری مواصلات کے لیے استعمال کیا،جن میں اڈانی گرین سے متعلق میٹنگوں کے حوالے سے خط و کتابت بھی شامل ہیں۔ یہی ای میل پتہ ہندوستان کے سکیورٹیز ریگولیٹر کو دی گئی سب-میشن میں ان کے رابطہ ای میل ایڈریس کے طور پر بھی درج ہے۔

ایس ای سی نے لکھا،’اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیادیں ہیں کہ دونوں ای میل پتے ابھی بھی فعال ہیں  اوران پر نگرانی رکھی جاتی ہے۔

ایس ای سی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مدعا علیہان قانونی چارہ جوئی سے پوری طرح واقف ہیں، جیسا کہ ان کے عوامی بیانات، ریگولیٹری فائلنگ اور امریکی اٹارنی کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے۔

ایجنسی نے نومبر 2024 اور جون 2025 کے اڈانی کے عوامی تبصروں کے حوالہ جات بھی منسلک کیے، جن میں کہا گیا تھا کہ ‘اڈانی کی طرف سے کسی پر بھی فارین کرپٹ پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی یا انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔’

ایس ای سی نے لکھا،’مدعا علیہان نے عوامی بیانات، ریگولیٹری فائلنگ اور امریکی کاؤنسل کی تقرری کے ذریعے واضح طور پر اس کارروائی کے بارے میں حقیقی علم کا مظاہرہ کیا ہے۔’ مزید کہا گیا، ‘ان حقائق سےیہ واضح ہے کہ مدعا علیہان قانونی چارہ جوئی سے پوری طرح واقف ہیں اور فعال طور پر اپنے ردعمل کو سنبھال رہے ہیں۔’

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔