اتر پردیش: مبینہ طو رپر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے پر سات افراد کے خلاف مقدمہ درج

یہ الہ آباد ضلع کے ہنڈیا اسمبلی حلقہ کا معاملہ ہے۔ پولیس نے کہا کہ جھنڈوں وغیرہ کی بنیاد پر ویڈیو سے پہلی نظر میں یہ سماج وادی پارٹی کااجلاس معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، ہنڈیا سیٹ سے ایس پی کے امیدوار حاکم لال بند نے اس کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس ویڈیو کو بی جے پی کے لوگوں نے ایڈٹ کرکے جاری کیاہے، جس کا مقصد اس الیکشن کو 'ہندو بنام مسلم' بنانا تھا۔

یہ الہ آباد ضلع کے ہنڈیا اسمبلی حلقہ کا معاملہ ہے۔ پولیس نے کہا کہ جھنڈوں وغیرہ کی بنیاد پر ویڈیو سے پہلی نظر میں یہ سماج وادی پارٹی کااجلاس معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، ہنڈیا سیٹ سے ایس پی کے امیدوار حاکم لال بند نے اس کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس ویڈیو کو بی جے پی کے لوگوں نے ایڈٹ کرکے جاری کیاہے، جس کا مقصد اس الیکشن کو ‘ہندو بنام مسلم’ بنانا تھا۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش کے الہ آباد ضلع کے ہنڈیا اسمبلی حلقے میں ایک انتخابی اجلاس کے دوران مبینہ طور پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانےپرپولیس نے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

ہنڈیا کے پولیس افسر ڈاکٹر بھیم کمار گوتم نےبتایا، پولیس کے نوٹس میں ایک ویڈیو آیا ہے، جس میں کچھ لوگ اجلاس کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ویڈیو کی بنیاد پر ان لوگوں کی شناخت کے بعد سات افراد کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نےبتایا، جھنڈے وغیرہ کی بنیاد پرپہلی نظر میں یہ سماج وادی پارٹی کی میٹنگ لگتی ہے۔ تاہم ویڈیو میں پارٹی کا امیدوار نظر نہیں آ رہا ہے۔

گوتم نے بتایا کہ اتوار کو ووٹنگ ہونے کی وجہ سے نامزد لوگوں کی گرفتاری نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ان لوگوں کو جلد از جلد گرفتار کرے گی۔

حالاں کہ، سماج وادی پارٹی کی ضلع یونٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پارٹی کارکنوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ہنڈیا) کیشو داس ورما نے کہا، شروعاتی تحقیقات کے دوران یہ ہمارے نوٹس میں آیا ہے کہ ویڈیو الہ آباد کے برہوٹ قصبےمیں شوٹ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں سات افراد کی شناخت ہوئی ہے۔ پولیس ویڈیو میں ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگاتے ہوئے دیگر افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایس ایچ او نے کہا، شروعاتی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد لوگ سماج وادی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (مذہب، ذات، جائے پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 188 (سرکاری ملازم کی طرف سے جاری حکم کی نافرمانی) اور 295 (زخمی کرنایا کسی طبقے کے مذہب کی توہین کے ارادے سے عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنا) کے تحت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ایس پی کی الہ آباد ضلع یونٹ کے صدر یوگیش یادو نے پولیس پر پارٹی کارکنوں کو پھنسانے کی جھوٹی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ، ہماری پارٹی کے کارکنوں نے کوئی قابل اعتراض نعرہ نہیں لگایا۔ پولیس ہماری پارٹی کے کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہنڈیا اسمبلی سیٹ سے ایس پی امیدوار حاکم لال بند نے اس ویڈیو کی مکمل طور پرتردید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے ،اس ویڈیو کو بی جے پی کے لوگوں نے ‘ڈاکٹرڈ’ کیا ہے، جس کا مقصد اس الیکشن کو ہندو بنام مسلم بنانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو نامزد مقدمہ درج کرنے سے پہلے ویڈیو کی صداقت کی جانچ کرنی چاہیے تھی۔ پارٹی اپنی سطح پر اس ویڈیو کی جانچ کرا رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ،میری کسی بھی میٹنگ میں کہیں بھی ایسے نعرے نہیں لگائے گئے۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)