سی ای سی گیانیش کمار سے ملے ٹی ایم سی لیڈر، کہا – ایس آئی آر اموات کو لے کر ان کے ہاتھ خون سے سنے

02:42 PM Nov 29, 2025 | دی وائر اسٹاف

ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔ انہوں نے انہیں کم از کم 40 افراد کی فہرست پیش کی جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، لیکن الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔

گزشتہ28 نومبر 2025 بروز جمعہ نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے باہر میٹنگ کے بعد ٹی ایم سی کے اراکین پارلیامنٹ ڈیرک اوبرائن، مہوا موئترا، شتابدی رائے اور پارٹی کے دیگر رہنما میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک وفد نے جمعہ (28 نومبر) کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کی اور الزام لگایا کہ ان کے ‘ہاتھ خون سے سنے’ ہیں۔

وفد نے کہا کہ اس نے کم از کم ان  40 افراد کی فہرست سونپی ہے جو ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام اموات ان کی ریاست میں ایس آئی آر کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ایم سی کے رکن پارلیامنٹ ڈیرک اوبرائن نے کہا، ‘ہم نے میٹنگ کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ہاتھ خون سے سنے ہیں۔ ہم نے پانچ سوال اٹھائے۔ اس کے بعد کلیان بنرجی، مہوا موئترا، اور ممتا بالا ٹھاکر نے تقریباً 40 منٹ میں جو کچھ بھی  کہنا تھا وہ  کہا ۔’

انہوں نے کہا، ‘اس کے بعد الیکشن کمشنر نے ایک گھنٹے تک نان اسٹاپ بولتے رہے۔ جب ہم بول رہے تھے، تو ہمیں ٹوکا بھی نہیں گیا، لیکن ہمارے پانچ سوالوں میں سے کسی کا جواب نہیں دیا گیا’۔

اوبرائن نے کہا کہ ٹی ایم سی ایس آئی آر کے آئیڈیاکے خلاف نہیں ہے، لیکن جس ‘غیر منصوبہ بند طریقے’سے اسے کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف ہے۔

ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے کہا کہ جب وفد نے مرنے والوں کی فہرست پیش کی تو الیکشن کمشنر حیران رہ گئے اور کہا کہ یہ ‘محض الزامات’ ہیں۔ موئترا نے کہا،’یہ ایسا ہے جیسے الیکشن کمشنر کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی موت ایس آئی آر کی وجہ سے ہوئی ہے۔’

موئترا نے کہا،’40 میں سے 18 بی ایل او (بوتھ لیول آفیسر) تھے جن کی موت پور ی طرح سے ایس آئی آر کے عمل سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم الیکشن کمشنر سے پوری طرح حیران رہ گئے، جنہوں نے کہا کہ یہ محض الزامات ہیں۔’

انہوں نے الزام لگایا کہ بہار ایس آئی آر ایک ٹرائل تھا، جبکہ بنگال اصلی تصویر ہے۔

وفد میں شامل لوک سبھا ارکان میں شتابدی رائے، کلیان بنرجی، پرتیما منڈل، سجادہ احمد اور مہوا موئترا اور راجیہ سبھا کے ارکان میں ڈیرک اوبرائن، ڈولا سین، ممتا ٹھاکر، ساکیت گوکھلے اور پرکاش چک برائیک شامل تھے۔

یہ میٹنگ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آرمشق کے خلاف احتجاج کے درمیان ہورہی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگال میں ایس آئی آر شروع ہونے کے بعد سے اب تک 40 اموات ہوچکی ہیں، لیکن انتخابی عہدیداروں نے ان اموات اور ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے درمیان تعلق پر سوال اٹھایا ہے۔

معلوم ہو کہ ایس آئی آر کا عمل اس وقت مغربی بنگال سمیت 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے۔

ایس آئی آر کی مشق شروع ہونے کے بعد سے  ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے  مبینہ طور پر کام کے دباؤ کی وجہ سے کئی بی ایل او کی خودکشی کی اور ہارٹ اٹیک سے موت کی خبریں آئی ہیں ۔ کچھ ریاستوں میں ، کئی بی ایل او کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں  ، اور کئی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال اورگجرات کے احمد آباد میں بی ایل اونے ‘ناقابل برداشت کام کے بوجھ’ کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔