سوئس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈروں پر سختی بڑھی، تقریباً50 ہندوستانیوں کو دی جا رہی ہے نوٹس

03:14 PM Jun 17, 2019 | دی وائر اسٹاف

سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کر کےان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں غیراعلانیہ اکاؤنٹ رکھنے والے ہندوستانیوں کے خلاف دونوں ممالک کی حکومتوں نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے افسر اس سلسلے میں کم سے کم 50 ہندوستانیوں کی بینک سے متعلق اطلاعات ہندوستانی افسروں کو سونپنے کی کارروائی  کر رہے  ہیں۔ایسے لوگوں میں زیادہ تر زمین-جائیداد، مالی خدمات، ٹکنالوجی، مواصلات، پینٹ، گھریلو آلات آرائش، کپڑا، انجینئرنگ کے سامان اور جواہرات و زیورات کے کاروبار سے جڑے کاروباری اور کمپنیاں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈمی کمپنیاں بھی ہو سکتی ہیں۔یہ جانکاری دونوں ممالک کے درمیان باہمی ایڈمنسٹریٹو مددکے پروسس میں شامل افسروں نے یہ جانکاری دی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ٹیکس چوروں کی پناہ گاہ کے اپنے ملک کی امیج کو بدلنے کے لئے کچھ سالوں سے کئی اصلاحات کئے ہیں۔ وہ اس سے متعلق سمجھوتہ کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ مشتبہ افراد کی  بینکنگ اطلاعات کو شیئر کرنے کی کارروائی  میں جڑ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے حال میں کچھ ممالک کے ساتھ اطلاعات شیئر کرنے کے  عمل کوتیز کر دیا ہے۔پچھلے کچھ ہفتے کے دوران ہندوستان سے متعلق معاملات میں اطلاعات کے لین دین کے عمل میں زیادہ تیزی آئی ہے۔ ہندوستان میں بلیک منی کا معاملہ سیاسی طور پر حساس ہے۔سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کرکے ان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ اس کے بینکوں میں اکاؤنٹ رکھنے والے گراہکوں کی پرائیویسی برقرار رکھنے کو لےکر ایک بڑے عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ لیکن محصول چوری کے معاملے میں عالمی سطح پر سمجھوتہ کے بعد پرائیویسی  کی یہ دیوار اب نہیں رہی۔ اکاؤنٹ ہولڈروں کی اطلاعات شیئر کرنے کو لےکر حکومت ہند کے ساتھ اس نے سمجھوتہ کیا ہے۔ دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے سمجھوتہ کئے گئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ حکومت نے گزٹ کے ذریعے عام کی گئی جانکاریوں میں صارفین کا پورا نام نہ بتاکر صرف نام کے شروعاتی حرف بتائے ہیں۔ اس کے علاوہ صارف کی قومیت اور تاریخ پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔ گزٹ کے مطابق، صرف 21 مئی کو 11 ہندوستانیوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔اس سے پہلے سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے 28 مئی کو پوتلوری راجا موہن راؤ کے نام ایک عوامی نوٹس جاری کی تھی۔ ان کو اپیل کرنے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جن دو ہندوستانیوں کا پورا نام بتایا گیا تھا ان میں مئی 1949 میں پیدا ہوئے کرشن بھگوان رام چند اور ستمبر 1972 میں پیدا ہوئے کلپیش ہرشد کناریوالا شامل ہیں۔ حالانکہ، ان کے بارے میں دیگر معلومات کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔دیگر ناموں میں جن کے شروعاتی حرف بتائے گئے ہیں ان میں 24 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے ایس بی کے، 9 جولائی 1944 کو پیدا ہوئے اے بی کے آئی، دو نومبر 1983 کو پیدا ہوئی محترمہ پی اے ایس، 22 نومبر 1973 کو پیدا ہوئی محترمہ آر اے ایس، 27 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے پی ایس، 14 اگست 1949 کو پیدا ہوئی محترمہ اے ڈی ایس، 20 مئی 1935 کو پیدا ہوئے ایم ایل اے، 21 فروری 1968 کو پیدا ہوئے این ایم اے اور 27 جون 1973 کو پیدا ہوئے ایم ایم اے شامل ہیں۔ان نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ صارف یا ان کا کوئی مستند نمائندہ ضروری دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ 30 دنوں کے اندر اپیل کرنے کے لئے حاضر ہوں۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)