سپریم کورٹ نے رام نومی اور ہنومان جینتی پر ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی جوڈیشل انکوائری کی مانگ ٹھکرائی

جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے ایڈوکیٹ وشال تیواری کی طرف سے دائر پی آئی ایل کو خارج کرتے ہوئے کہا، آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات کی سربراہی سابق چیف جسٹس کریں؟ کیاکوئی فری ہے؟ پتہ  کیجیے، یہ کیسی راحت ہے۔ ایسی […]

جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے ایڈوکیٹ وشال تیواری کی طرف سے دائر پی آئی ایل کو خارج کرتے ہوئے کہا، آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات کی سربراہی سابق چیف جسٹس کریں؟ کیاکوئی فری ہے؟ پتہ  کیجیے، یہ کیسی راحت ہے۔ ایسی راحت  طلب مت  کیجیے جو یہ عدالت نہ دے سکے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے رام نومی اور ہنومان جینتی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرنے والی ایک پی آئی ایل کو خارج کر دیا ہے۔

جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور بی آر گوئی کی بنچ نے ایڈوکیٹ وشال تیواری کی طرف سے دائر پی آئی ایل کو خارج کرتے ہوئے کہا، آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات کی سربراہی سابق چیف جسٹس کریں؟ کیاکوئی فری ہے؟ پتہ  کیجیے، یہ کیسی راحت ہے۔ ایسی راحت  طلب مت  کیجیے جو یہ عدالت نہ دے سکے۔

اپنی درخواست میں وکیل نے راجستھان، دہلی، مدھیہ پردیش اور گجرات میں رام نومی کے موقع پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔

اس پی آئی ایل میں مدھیہ پردیش، گجرات اور اتر پردیش میں ‘بلڈوزر جسٹس’ کی من مانی کارروائی کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ،اس طرح کی کارروائی پورے طور پر امتیازی ہے اور جمہوریت اور قانون کے تصور سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

بتادیں کہ دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد بی جے پی مقتدرہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن نے ‘غیر قانونی تعمیرات’ پر انسداد تجاوزات مہم کے تحت  20 اپریل کو ایک مسجد کے قریب کئی عمارتوں کو منہدم کردیا تھا۔

معلوم ہو کہ رام نومی کے جلوس کے دوران ملک کی چھ ریاستوں میں فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی تھی۔ گجرات، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں شوبھا یاترا پر شرپسندوں نے پتھراؤ کیا تھا، جس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات رونماہوئے۔ گجرات میں ایک شخص کی ہلاکت کی خبر بھی موصول ہوئی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)