سپریم کورٹ نے اپنے شوہر کو کھوچکی خاتون کو سسر کی طرف سے دیے جانے والے گزارہ بھتہ سے متعلق ایک کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے منو اسمرتی کے اس اشلوک کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ماں، باپ، بیوی اور بیٹے کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو بھی ایسا کرتاہے اسے سزا ملنی چاہیے۔
تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل (13 جنوری) کو ایک خاتون کی کفالت سے متعلق ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے منواسمرتی کا حوالہ دیا۔
عدالت نے کہا کہ منواسمرتی میں کہا گیاہے کہ ماں، باپ، بیوی اور بیٹے کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو ایسا کرتا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے۔
لائیو لا کے مطابق، سپریم کورٹ نے اس کے لیے منواسمرتی کےاشلوک کا بھی حوالہ دیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں اصل تنازعہ یہ تھا کہ اگر کسی شادی شدہ خاتون کا شوہر اس کے سسر کی زندگی میں فوت ہو جائے تو اسے کفالت مل سکتی ہے، لیکن اگر اس کا شوہر اس کے سسر کے انتقال کے بعد فوت ہو جائے تو کیا اسے یہ حق ملے گا؟
درخواست گزار نے دلیل دی کہ ایک خاتون جو اپنے شوہر کو کھو چکی ہے اسے اپنے سسر کی موت کے بعد کفالت حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تاہم جسٹس پنکج متل اور جسٹس ایس وی این بھٹی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے اس دلیل کو مسترد کردیا۔
عدالت نے منواسمرتی کے اصولوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ہندو آڈپٹیشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ یعنی ہندو قانون تبنیت و پرورش ایکٹ 1956 کے تحت بہو کا اپنے سسر کی جائیداد پر حق بتایا اور ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
عدالت نے کہا کہ شوہر کی موت کے وقت کی بنیاد پر بیوہ بہوؤں کے درمیان امتیازی سلوک کرنا بالکلیہ غیر معقول، من مانی اور غیر آئینی ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں – خواہ ایک بہو نے اپنے سسر کی زندگی میں اپنی شریک حیات کو کھو دیا ہو یا اس کی موت کے بعد – اسے کفالت کا پورا حق حاصل ہے۔
ہندو آڈپٹیشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ، 1956 کی دفعہ 22 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ یہ شق ایک متوفی ہندو کے زیر کفالت افراد کی دیکھ بھال کا انتظام کرتی ہے۔
عدالت نے کہا، ‘یہ متوفی کے تمام ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوہ بہو سمیت اس کے زیر کفالت افراد کو کفالت فراہم کریں۔’
بنچ نے کہا کہ بیٹا یا قانونی وارث قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہے کہ وہ جائیداد سے ان تمام زیر کفالت افراد کو مددد فراہم کرے جن کی مدد کرنا متوفی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا، بیٹے کی موت پر، باپ پر اپنی بہو کی کفالت کرنا مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، الا یہ کہ وہ (بیوہ بہو) خود یا بیٹے کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے اپنا یا کفالت کرنے سے قاصر ہو۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ اپنی بیوہ بہو کی کفالت برقرار رکھنے کے لیے سسر کی ذمہ داری کو ختم کرنے کا بندوبست نہیں کرتا، چاہے اس کے شوہر کی موت سسر کی موت سے پہلے ہوئی ہو یا بعد میں۔ قانون کی تنگ یا تکنیکی تشریح کی بنیاد پر بیوہ بہو کی کفالت سے انکار کرنا اسے غربت اور سماجی تنہائی میں دھکیل دے گا۔