انیس سو نوے بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سبرت گپتا کو بنگال میں نئے وزیراعلیٰ کے حلف لینے کے فوراً بعد سی ایم کا صلاح کار بنایا گیا ہے۔ گپتا دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال میں کرائے گئے متنازعہ ایس آئی آر عمل میں اسپیشل رول آبزرور کے طور پر تعینات تھے۔
سبرت گپتا (دائیں) اور انہیں وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیے جانے سے متعلق نوٹیفکیشن۔
نئی دہلی: بنگال میں نئے وزیراعلیٰ کے حلف کے فوراً بعد ریٹائرڈ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر سبرت گپتا کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیے جانے پر
سوال اٹھنے لگے ہیں۔ گپتا دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مغربی بنگال میں کرائے گئے متنازعہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) عمل میں اسپیشل رول آبزرور تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ایس آئی آر عمل پر شدید تنازعہ ہوا تھا۔ الزامات لگے تھے کہ اس مہم نے انتخابی عمل کو مکمل طور پر متاثر کیا ہے، کیونکہ تقریباً 91 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے تھے، جبکہ کم از کم 27 لاکھ ووٹر اپنے ووٹنگ حقوق کے فیصلے کے انتظار میں غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے اور اس بار ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہے۔
ریاست کے نئے وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سوویندو ادھیکاری کے مشیر بنائے گئے اس بیوروکریٹ کو کبھی بائیں محاذ کی حکومت میں طویل عرصے تک صنعت کے وزیر رہے نروپم سین کا قریبی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی اہم عہدوں پر کام کیا، جن میں
سنگور میں ٹاٹا موٹرز منصوبے سے متعلق تحریک کے دوران ویسٹ بنگال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ڈبلیو بی آئی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ بھی شامل تھا۔ ان کے کئی ساتھی انہیں ایک اہل منتظم سمجھتے تھے اور اس وقت انہیں ایسے افسر کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو آگے چل کر بڑے انتظامی عہدوں اور ممکنہ طور پر چیف سکریٹری بن سکتے تھے۔
ان کے بیچ میٹس انہیں ’ انتہائی ذہین طالبعلم‘ قرار دیتے ہیں، جنہوں نے پی ایچ ڈی تھیسس پر کام کرتے ہوئے پہلے ہی موقع پر یو پی ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا۔ اس دور کے ساتھیوں کے مطابق گپتا کی شبیہ ایک ایماندار افسر کی تھی۔
گپتا نے سنگور منصوبے سے متعلق انتظامی امور میں اہم کردار ادا کیا، جو بعد میں بائیں محاذ حکومت کے لیے سب سے بڑے سیاسی تنازعات میں سے ایک بن گیا۔ وہ پہلے ڈبلیو بی آئی ڈی سی میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر شامل ہوئے تھے اور ٹاٹا موٹرز کے ریاست چھوڑنے کے بعد منیجنگ ڈائریکٹر بن گئے تھے۔
اس وقت موجود افسران کے مطابق گپتا سنگور سے جڑے کئی اہم واقعات کے قریب رہے، جن میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ اور اس وقت کی اپوزیشن رہنما ممتا بنرجی کے درمیان ملاقات بھی شامل تھی۔
ٹاٹا موٹرز کے مغربی بنگال چھوڑنے کے بعد گپتا کو کولکاتہ ایسٹ ویسٹ میٹرو منصوبے کا سربراہ بنایا گیا، جسے بعد میں ریاستی حکومت کے عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے جوٹ کمشنر کے طور پر کام کیا اور 2012 سے 2017 کے درمیان مرکزی حکومت میں ڈیپوٹیشن پر رہے۔ ریاست میں واپسی کے بعد انہیں ایسے محکموں کی ذمہ داری دی گئی جنہیں عام طور پر کم اہم سمجھا جاتا تھا۔
سال 2020 میں اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کے طور پر گپتا نے مبینہ طور پر کولکاتہ میونسپل کمشنر کی تقرری پر اعتراض کیا تھا، جس سے ممتا بنرجی حکومت ناراض ہو گئی تھی۔ اس کے فوراً بعد ان کا تبادلہ کر کے انہیں فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری اور ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کا ایڈیشنل چیف سکریٹری بنا دیا گیا۔ 2024 میں انہیں دوبارہ ڈیپوٹیشن پر بھیج دیا گیا۔ انتظامی حلقوں میں اسے منوج پنت کے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری بننے کی راہ ہموار کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔
ان کے بعض سابق ساتھیوں کا کہنا ہے کہ گپتا ان قابل افسران میں سے ایک تھے جو آخرکار چیف سکریٹری نہیں بن سکے۔
ڈبلیو بی آئی ڈی سی میں اپنے دور کے دوران گپتا کے نندنی چکرورتی کے ساتھ پیشہ ورانہ اختلافات بھی بتائے جاتے ہیں۔ چکرورتی کو ممتا بنرجی کی قریبی افسر سمجھا جاتا ہے۔ جنوری 2026 میں انہیں چیف سکریٹری مقرر کیا گیا تھا، لیکن انتخابات کے اعلان والے دن ہی الیکشن کمیشن نے انہیں ہٹا دیا تھا۔