دہلی تشدد کے چھ سال: حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی

سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔

سال 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے چھ سال بعد اگر پیچھے مڑ کر دیکھا جائے، تو یہ فرقہ وارانہ قتل عام سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کر لیا۔

فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں پیش آیاتشدد۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

سال2020میں دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی چھٹی برسی پر میں دکھ اور غصے کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ حکومت نے تشدد کے متاثرین کی کن کن طریقوں سے مدد نہیں کی۔

افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے بعد 1961 میں جبل پور میں ہوئے پہلے بڑے دنگے کے بعد سے  ہی چند استثنیٰ کو چھوڑ کر، بڑے پیمانے پر ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف اور معاوضہ دلانے میں ہندوستانی حکومت کا ریکارڈ انتہائی خراب رہا ہے۔

لیکن اس شرمناک ریکارڈ کے باوجود 2020 کا شمال-مشرقی دہلی کا فرقہ وارانہ قتل عام سب سے الگ ہے۔ حکومت نے اپنے شہریوں کو تشدد سے بچانے، ان کی زندگی کو دوبارپٹری پر لانے  اور انصاف دلانے کی اپنی ذمہ داری سے خود کو الگ کر لیا۔ اس طرح دہلی میں حکمرانی کرنے والی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے تنزلی کی ایک نئی مثال قائم کی۔ یہ مودی کے دور اقتدار کے سب سے شرمناک ابواب میں سے ایک ہے۔

شہریت ترمیمی قانون 2019 کے خلاف ملک بھر میں ہوئے پُرامن احتجاج کے بعد قومی دارالحکومت کے اس علاقے میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکی۔

قابل ذکر ہے کہ2019-20کی سردیوں میں پورے ہندوستان  میں اس قانون کے خلاف عوام کا خود رو احتجاج شروع ہوا کیونکہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ قانون مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنا کر ان کے ساتھ امتیاز کرتا ہے۔

اسے ہندوستان کے آئین پر براہ راست حملہ سمجھا گیا۔ یہ تیزی سے ہندوستانی جمہوریہ کی تاریخ کا سب سے بڑا پُرامن احتجاج بن گیا، جو 1970 کی دہائی کے وسط میں ایمرجنسی کے خلاف عوامی بغاوت سے بھی بڑا تھا، جسے میں نے اپنی جوانی  کے ایام میں دیکھا تھا۔

آزادی کی جدوجہد کے نظریات کی جھلک اور تمام مذاہب، ذاتوں اور نسلوں کے لوگوں کی یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کرنے والی ایسی تحریک پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی جس نے خصوصی طور پر ہندوستانی آئین کو اپنا آئیکون منتخب کیا۔

تاہم 1.4 ارب آبادی والے ملک میں اتحاد کی یہ منفرد تحریک اچانک ختم ہو گئی۔ پہلا جھٹکا 23 فروری 2020 کو شمال-مشرقی دہلی ضلع میں اچانک بھڑکنے والے فرقہ وارانہ تشدد سے لگا، جہاں زیادہ تر محنت کش اور مزدور طبقہ آباد ہے۔

ایک طرف اکثریتی ہندو برادری تھی جن کی مدد کے لیے پولیس ان کے ساتھ تھی اور دوسری طرف ان کے مسلم پڑوسی تھے، جن کے درمیان چار دنوں تک لڑائی جاری رہی۔ اس میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہو گئے، املاک کو شدید نقصان پہنچا اور الگ الگ محلوں میں دونوں مذاہب کے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔

نئے شہریت قانون کے خلاف عوامی بغاوت کو دوسرا بڑا جھٹکا اس فرقہ وارانہ تشدد کے ایک ماہ بعد لگا، جب مرکزی حکومت نے سخت ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا، جس سے 1.4 ارب لوگ کئی مہینوں تک گھروں کے اندر رہنے کو مجبورہو گئے۔

جب تین کروڑ بھوکے اور مایوس مہاجر مزدور پولیس کی لاٹھیوں اور گرفتاریوں کی پروا کیے بغیر ہائی وے پر نکل آئے،ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والے شہریت قانون کے خلاف بڑھتی ہوئی اجتماعی مزاحمت جلد ہی ماضی کا قصہ بن گئی۔

سال2020میں جعفرآباد میں ہوئی آتش زنی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

تشدد کو قابو کرنے اور جان بچانے میں ناکامی

سب سے پہلے، یہ دہرانا ضروری ہے کہ جہاں یہ تشدد ہوا وہ ہندوستانی جمہوریہ کا قومی دارالحکومت تھا۔ یہاں مرکز اور دہلی کی ریاستی حکومت دونوں کی حکمرانی ہے۔ دہلی میں تینوں افواج اور بیشتر نیم فوجی دستوں کا صدر دفتر بھی موجود ہے۔ اگر ارادہ ہوتا تو چند ہی گھنٹوں میں اس تشدد کو قابو کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس کی شروعات دارالحکومت کے ایک محنت کش علاقے میں ایک چھوٹے سے تصادم سے ہوئی تھی۔ بغیر کسی رکاوٹ کے چار دن تک تشدد جاری رہا، جو صرف حکومت کی  ناکامی ہی نہیں دکھاتا۔

یہ حکومت کی ملی بھگت کا واضح ثبوت ہے۔ میں نے ایک سول سروس افسر کی حیثیت سے فرقہ وارانہ جھگڑوں کی روک تھام اور نگرانی پر کافی عرصہ کام کیا ہے اور میں سمجھ پایا ہوں کہ فرقہ وارانہ تشدد چند گھنٹوں سے زیادہ تبھی جاری رہ سکتا ہے جب حکومت خود اسے جاری رہنے دے۔


دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی شروعات کسی حد تک بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر سے ہوئی، جن میں کھلے عام تشدد کو ہوا دی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں راقم الحروف بھی شامل تھا، اور جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ نفرت انگیز تشدد بھڑکانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اور ایکٹنگ چیف جسٹس ایس مرلی دھر کی سخت سرزنش کے باوجود پولیس نے ان میں سے کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔


’دیش کے غداروں‘ اور ہندوستانی مسلمانوں کو گولی مارنے کی اپیل کرنے والوں میں سے ایک کو مرکزی کابینہ میں وزیر بنا دیا گیا۔ دوسرا آج دہلی حکومت کی کابینہ میں قانون و انصاف کا وزیر ہے۔ اس عرضی کا کیا حشر ہوا، اس پر مضمون کے اگلے حصے میں بات کی جائے گی۔

ریاست کا پہلا فرض تشدد کو روکنا اور قابو کرنا تھا۔ وہ اس میں بری طرح ناکام رہی۔ وہ اپنا اگلا اہم فرض بھی پورا نہ کر سکی، یعنی ان لوگوں کو بچانا جن کی جان، گھر اور املاک کو فسادی ہجوم سے خطرہ تھا۔ اس کے برعکس پولیس نے ان 13 ہزار سے زائد فون کال پر توجہ نہیں دی جو پریشان حال لوگوں نے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے کی تھیں۔

جب حکومت کو جھنجھوڑنے کی میری اپنی کوشش ناکام ہو گئی، تو میں نے کاروانِ محبت کی جانب سے ایک سٹیزن کنٹرول روم قائم کرنے کے لیے رضاکاروں سے عوامی اپیل کی۔ میری اپیل کے چند ہی گھنٹوں میں 40 سے زائد نوجوان میرے دفتر میں جمع ہو گئے اور پانچ دن تک وہیں ڈٹے رہے۔

میں نے ششی کانت سینتھل، جنہوں نے حال ہی میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس سے استعفیٰ دیا تھا اور اب لوک سبھا ایم پی ہیں، اور کنن گوپی ناتھ سے سٹیزنز کنٹرول روم کی قیادت سنبھالنے کی درخواست کی۔ وہ دونوں دہلی آئے اور سٹیزنز کنٹرول روم کی ذمہ داری سنبھال لی۔

جیسے ہی ہمارا کنٹرول روم شروع ہوا، پریشان حال لوگوں کی بڑی تعداد میں فون کال آنے لگیں۔ ایک خاص فون کال کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو اس علاقے کی ایک کلینک سے آئی تھی جو فرقہ وارانہ تشدد میں تباہ ہو گئی تھی۔ کلینک کے ڈاکٹر نے ان لڑکوں اور مردوں کی نہایت خراب حالت کے بارے میں بتایا جنہیں گولیاں لگی تھیں اور جنہیں ہسپتال لے جایا جا سکتا تھا۔ لیکن ہجوم اور پولیس نے ایمبولینس کو بھی آگے بڑھنے نہیں دیا۔

ان کے کلینک میں دو افراد دم توڑ چکے تھے اور کم از کم بیس افراد کی حالت ایسی تھی کہ اگر انہیں فوری طور پر ہسپتال نہ پہنچایا جاتا تو ان کی جان جا سکتی تھی۔ جنگ کے زمانے کے اصول بھی زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن دہلی کے اس میدان جنگ میں ایسی کوئی آزادی نہیں تھی۔

کاروان محبت کے رضاکار وکیلوں — سرور مندر اور چرایو — نے ایک بار پھر آدھی رات کو دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلی دھر سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی، تب جا کر عدالت نے پولیس کو ایمبولینس کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اس حکم نے نہ صرف ان بیس افراد بلکہ سینکڑوں دیگر زخمی اور خطرے میں گھرے لوگوں کی جان بچائی، کیونکہ اس کے بعد پولیس نے سٹیزنز کنٹرول روم سے ہماری فون کال کا جواب دیا تاکہ تشدد سے متاثرہ علاقوں میں ایمبولینس اور ریسکیو وین کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

لیکن یہ شرمناک بات ہے کہ اس کے لیے ہائی کورٹ کو پولیس کو یہ ہدایت دینا پڑی کہ وہ فرقہ وارانہ نفرت کی آگ کے درمیان لوگوں کی جان بچانے کی اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرے۔

شمال-مشرقی دہلی فسادات کے دوران آگ بجھاتے پولیس اہلکار ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

امدادی کارروائیوں میں ناکامی

ریاستی حکومت نے ابتدا میں ریلیف کیمپ قائم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اس معاملے میں اس نے 2002 میں گجرات حکومت کی کارروائی کی پیروی کی۔ 2002 میں مجھے لگا تھا کہ کوئی بھی حکومت ریلیف اور بازآبادکاری کی اپنی ذمہ داریوں سے اس قدر شرمناک طریقے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی جیسا کہ نریندر مودی کی گجرات حکومت نے کیا تھا، لیکن دہلی حکومت نے مجھے غلط ثابت کر دیا – اس نے تو انتہا ہی کر دی۔

جب ریلیف کیمپ قائم کرنے  سے منع کرنے پر سخت تنقید ہوئی تو دہلی حکومت نے نو بے گھر افراد کے شیلٹر ہومز کو ریلیف کیمپ میں تبدیل کر دیا۔ اس اقدام سے فرقہ وارانہ تشدد میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو مزید ذلت اور تکلیف کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

بے گھر افراد کے شیلٹر ہوم عام طور پر ٹین کے شیڈز پر مشتمل ہوتے ہیں، جہاں خاص طور پر سردیوں میں بے گھر لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔ گندگی اور بے عزتی کی حالت میں لوگوں کو کسی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے یہ جگہیں تحفظ اور سکون کا ذریعہ کیسے بن سکتی تھیں؟

انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس میں، جہاں میں نے خدمات انجام دیں، افسران کو قدرتی اور انسانی آفات کے فوراً بعد، حتیٰ کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی جہاں زیادہ تباہی ہوتی ہے، ریلیف کیمپ قائم کرنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔


دہلی، جو ملک کا دارالحکومت ہے، وہاں اسٹیڈیم، کالجوں کی عمارتیں، سول رضاکار گروپ، این سی سی، این ایس ایس اور متعدد پیشہ ور گروپ جیسے بے شمار وسائل موجود تھے۔ حکومت آسانی سے بہتر ریلیف کیمپ قائم کر سکتی تھی، مگر اس نے فرقہ وارانہ تشدد میں مارے گئے لوگوں کو راحت دینے کے لیے کچھ نہیں کیا۔


معاوضے سے انکار

معاوضے کی کہانی تو اور بھی زیادہ افسوسناک رہی۔ جس کے بارے میں کاروان محبت کی رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے معاوضے کی کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا۔ تشدد کو چھ سال گزر چکے ہیں، مگر متاثرین کو ایک روپیہ نہیں دیا گیا۔

ریاستی حکومت نے اچھی شروعات کی، مگر ایکس گریشیا اور ہلاکتوں کے معاوضے کی رقم کی ادائیگی چند ہفتوں تک ہی جاری رہ سکی۔ ریاستی حکومت  نے کم سے کم ایک معاوضہ اسکیم کا اعلان  توکیا، حالاں کہ اس کا دائرہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے مقابلے میں بہت محدود تھا، جو اسی قومی دارالحکومت میں ہوئے تھے۔

سال2020میں  دہلی کی ریاستی حکومت کے افسران نے قتل عام کے فوراً بعد  کے دنوں میں ایکس گریشیااور اموات  اور چوٹ کے معاوضے کو مؤثر انداز میں تقسیم کیا تھا۔ لیکن پھر حیران کن طور پر اسے بند کر دیا گیا۔

مارچ میں ہی قتل عام  کے بہ مشکل ایک ماہ بعد، ایسے وقت میں جب متاثرین فسادات اور کووڈ لاک ڈاؤن کے ہولناک اثرات سے بیک وقت نبرد آزما تھے، دہلی حکومت نے بغیر کسی عوامی وضاحت کے قتل عام کے متاثرین کی مدد کی اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس سرکاری امدا سے وہ اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کر سکتے تھے، وہ انہیں نہیں ملی۔ اس کے بجائے دہلی حکومت نے معاوضے کے تعین اور تقسیم کے لیے ایک علیحدہ ایجنسی قائم کرنے کی اجازت لینے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

یہ ناقابل تصور اور ناقابل معافی تھا۔ نہ صرف انسانی حکمرانی کی بنیادی اخلاقیات کے اعتبار سے یہ غلط تھا، بلکہ قانون کی نظر میں بھی غلط تھا۔ فرقہ وارانہ اور نسلی بنیاد پر ہوئے تشدد سے متاثرہ افراد کو تحفظ دینا، ریلیف فراہم کرنا، معاوضہ دینا اور ان کی بازآبادکاری کرنا ریاست کا بنیادی فرض ہے۔ یہ فرض براہ راست متاثرین کے جینے کے آئینی بنیادی حق سے جڑا ہوا ہے۔

مصطفیٰ باد میں متاثرین لیے بنا ریلیف کیمپ (فوٹو؛ پی ٹی آئی)

 اپنے  فرض کو کسی بیرونی ادارے کے حوالے کرنے کی درخواست کی کوئی منطق نہیں تھی، بلکہ یہ بذاتِ خود ایک سنگین بات تھی۔ اس ایجنسی کی وجہ سے ریاستی حکومت کے لیے اپنے آئینی فرض سے پیچھے ہٹنا مزید آسان ہو گیا، جسے ہائی کورٹ نے اس مقصد کے لیے مقرر کیا تھا۔

یہ ایک ایسا کمیشن تھا جو دراصل فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کی مدد کے لیے نہیں بلکہ اس کے برعکس ایک الگ مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانا تھا، جس کے اخراجات فسادیوں سے وصول کیے جانے تھے۔ اس مقصد کا فرقہ وارانہ تشدد میں بچ جانے والے افراد کے نقصان کی بھرپائی  کرنے کے مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو صحیح معاوضہ دینے کی اس بھاری اور مکمل طور پر الگ ذمہ داری کے ساتھ، کمیشن نے سب سے پہلے  تو اپنا کام شروع کرنے میں ہی سات ماہ لگا دیے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے ان متاثرین کی خراب حالت کا کوئی اندازہ ہی نہیں تھا جو فسادات اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بغیر کسی سرکاری مدد کے شدید تکلیف میں تھے اور اپنی روزی روٹی کے مسئلے سے نبرد آزما تھے۔ اس کے بعد کمیشن نے متاثرین کو ہوئے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے پرائیویٹ ایویلیویٹر مقرر کیا۔


یہ واضح طور پر حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ان پرائیویٹ ایویلیویٹر کی جانب سے اپنائے گئے طریقۂ کار اور اصولوں کو عوامی نہیں کیا گیا۔ نہ تو ایویلیویٹر نے اور نہ ہی کمیشن نے ان لوگوں کی بات سنی جنہیں نقصان پہنچا تھا۔ وہ عموماً اپنے اندازوں کی کوئی وجہ نہیں بتاتے تھے، اور کمیشن نے ان جائزوں کے خلاف اپیل کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا۔

تشدد کے متاثرین کے بنیادی حقوق پر حملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ جن چند درخواستوں پر کمیشن نے حکم جاری کیا، ان میں معاوضے کی رقم اتنی کم طے کی گئی کہ وہ اصل نقصان کا بہت ہی چھوٹا حصہ تھی۔ یہ سب کچھ قدرتی انصاف کے تمام اصولوں کے خلاف تھا۔

لیکن انکار یہیں تک محدود نہیں رہا۔ یہ تھوڑی سی رقم بھی درحقیقت متاثرین تک نہیں پہنچی۔ کمیشن نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے اسے معاوضے کی طے کی گئی چھوٹی رقم  ادا کرنے کے لیے بھی کوئی فنڈ نہیں دیا ہے۔ ریاستی حکومت کے بجٹ کی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2020 اور اس کے بعد کے تمام برسوں میں بھی معاوضے کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

اگر ریاستی حکومت نے متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے سرکاری بجٹ میں الگ سے رقم مختص ہی نہیں کی، تو وہ یہ توقع کیسے کر سکتی ہے کہ جس کمیشن کو اس نے اپنی ذمہ داری سونپی ہے وہ متاثرین کو ان کی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے مقررہ رقم ادا کر سکے گا؟

دہلی حکومت کے تقریباً 75,000 کروڑ روپے کے کل بجٹ میں، معاوضے کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم بھی کل بجٹ کا صرف 1–2 فیصد ہی ہوتی۔ واضح ہے کہ 2020 کے دہلی فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے انکار کوئی معمولی کوتاہی نہیں تھی جو فنڈ کی کمی کے باعث ہوئی ہو، بلکہ اس کے مضمرات کچھ اور ہی تھے۔


میرے پاس اس نتیجے پر پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ تشدد کے چھ برس بعد بھی متاثرین کو معاوضہ دینے سے انکار ایک دانستہ انکار ہے، جو ایک جمہوری حکومت کے لیے غلط ہے جس نے آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا وعدہ کیا ہے۔

تشدد کو روکنے کی کوشش کرنا، فسادی ہجوم سے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا، اور بے گھر ہونے والوں کو راحت فراہم کرنا بھی ایسی ذمہ داری کا کام تھا، جس میں یہ حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔


فائل فوٹو: پی ٹی آئی

انصاف نہیں مل سکا

دہلی پولیس کی طرف سے انصاف کے عمل میں مکمل مداخلت بھی کم حیران کن نہیں ہے۔ جو کچھ ہوا اسے محض مداخلت کہنا کافی نہیں۔ دراصل یہ تشدد سے بچ جانے والوں کو انصاف ملنے کی ہر ممکنہ امید کو دانستہ طور پر ختم کرنا ہے۔

متعدد آزاد میڈیا اور سٹیزن رپورٹس اورحتیٰ کہ عدالتی فیصلوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی پولیس مسلسل غلط سمت میں کوشش کرتی رہی ہے۔ وہ تشدد کرنے والوں کو بچانے اور بے گناہ متاثرین کو مجرم بنانے میں مصروف رہی۔ 2020 کے دہلی فرقہ وارانہ تشدد کے بعد، پولیس نے 758 ایف آئی آر درج کیں، جن میں سے ایک میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 کے خلاف احتجاج کرنے والے اور امدادی کاموں میں مصروف افراد دراصل سازش کار تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ تشدد کی منصوبہ بندی کی تھی۔

جسے ‘دہلی فسادات سازش کیس’ کے نام سے جانا گیا، اس میں دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے دراصل حکومت بدلنے کے لیے دہشت گردانہ کارروائی کے طور پر فسادات کی سازش رچی تھی۔ اس الزام کے تحت 18 اسٹوڈنٹ لیڈر، ایکٹوسٹ اور ایک سیاسی رہنما کئی برس جیل میں رہے، اور فرقہ وارانہ تشدد کے چھ سال بعد بھی ان کےکیس کی کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوئی۔ ان میں سے پانچ اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

سال2025میں بی بی سی ہندی کی ایک ضروری تفتیش میں بتایا گیا کہ خطرناک فرقہ وارانہ فسادات کے پانچ سال بعد بھی اس میں ملوث افراد کو قانونی سزا ملتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ بی بی سی ہندی نے فائل کیے گئے تمام 758 کیس کا اسٹیٹس چیک کیا اور ان 126 مقدمات کا تجزیہ کیا جن پر دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے فیصلے سنائے تھے۔

اس میں چونکا دینے والی بات یہ سامنے آئی کہ 126 کیس میں سے 80 فیصد سے زائد میں گواہوں کے منحرف ہو جانے یا استغاثہ کی جانب سے مقدمہ مضبوطی سے پیش نہ کرنے کے باعث ملزمان بری ہو گئے۔ ان میں سے صرف 20 کیس میں ہی سزا سنائی گئی۔ کئی معاملات میں عدالت نے یہ کہتے ہوئے پولیس کی تفتیش کی دیانت داری پرتشویش  کااظہار کیا کہ انہوں نے بے گناہ افراد کو پھنسایا اور اصل مجرموں کو بری کر دیا ۔ جن پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر انصاف میں رکاوٹ ڈالی، انہیں بھی شاید ہی کبھی سزا ملی۔


ان 126 فیصلوں کے تفصیلی جائزے سے یہ بھی پتہ چلا کہ ان مین سے متعدد کیس میں تفتیشی خامیوں کی وجہ سے عدالت نے دہلی پولیس پر سخت تنقید کی۔ بعض معاملات میں، پولیس نے ملزمان کو ‘غلط طریقے سے پھنسانے’ کے لیے ‘پہلے سے طے چارج شیٹ’ فائل کی تھیں۔ ان 126 معاملوں میں سے زیادہ تر میں پولیس اہلکاروں کو گواہ  کے طور پرپیش کیا گیا تھا، لیکن عدالت نے ان کی گواہی کو قابل اعتماد نہیں سمجھا۔

پولیس کے بیانات میں نمایاں تضادات تھے، پولیس نے ملزمان کی شناخت میں تاخیر کی، اور بعض معاملات میں تو اس بات پر شک تھا کہ تشدد شروع ہونے کے وقت پولیس اہلکار موقع پر موجود بھی تھے یا نہیں۔


جن معاملوں میں ٹرائل ہوا، ان میں قتل سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح سب سے خراب تھی۔ فائل کیے گئے758 معاملوں میں سے ایسے 62 معاملے تھے۔ ان میں سے صرف ایک میں سزا سنائی گئی جبکہ چار میں بری ہوئے۔

دی انڈین ایکسپریس کے اسی نوع کے ایک تجزیے میں، رپورٹروں نے فسادات کے اُن 116 مقدمات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جن میں فیصلے سنائے جا چکے تھے۔ ان تمام 116 مقدمات میں سے 97 میں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک مقدمے میں ججوں نے دہلی پولیس کی سنگین کوتاہیوں پر سخت تنقید کی، جیسے ’گھڑے ہوئے‘ شواہد، ’فرضی‘ گواہ، اور ’تھوپے ہوئے‘ مقدمات۔ 12 فیصلوں میں عدالت نے پایا کہ پولیس ’نقلی‘ گواہ لائی تھی اور مختلف قسم کے ’من گھڑت‘ شواہد پیش کیے تھے۔

دو معاملوں میں گواہوں نے خود بیان دیا کہ پولیس افسران نے اُن کے بیان خود سے لکھوائے تھے۔ ایک بری کیے گئے معاملے میں جج نے کہا، ’تفتیشی افسر (آئی او) نے شواہد میں بہت زیادہ ہیرا پھیری کی ہے۔ ایسے معاملات سے تفتیشی عمل اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتمادکمزور ہوتا ہے۔‘

دی انڈین ایکسپریس نے پایا کہ کئی عدالتی احکامات میں استغاثہ کے بنائے گئے مقدمات میں خامیاں نکالی گئی ہیں۔ ایک جج نے کہا کہ ایک اہم گواہ کی موجودگی ’شکوک کے دائرے میں ہے، اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص درحقیقت موجود ہی نہ ہو۔‘ تقریباً ایک جیسے دو احکامات میں ایک عدالت نے یہاں تک مان لیا کہ پولیس جانتی تھی کہ اُن کا مقدمہ ’فرضی‘ ہے کیونکہ وہ شناخت کے لیے ملزمان کی پریڈ نہیں کرا سکی۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

ایک اور عدالت کے ریمارکس، جو پولیس کو دانستہ طور پر انصاف کے خلاف کام کرنے کا بڑا قصوروار ٹھہراتے ہیں، اُن میں ’کیس ڈائری میں ممکنہ رد و بدل‘ اور ایک پولیس کانسٹبل کا ’من گھڑت دعویٰ‘ شامل ہے۔


پولیس کے شرمناک کردار پر عدالت کی جانب سے بار بار عائد کیے جانے والے یہ الزامات فوجداری نظام انصاف میں گہری ادارہ جاتی سڑانڈ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے برسراقتدار جماعت کے غیر آئینی اور غیر قانونی سیاسی منصوبے کے آگے مکمل طور پر سرینڈر کر دیا ہے، اور نفرت پر مبنی ہلاکتوں، زخموں ، لوٹ مار اور آتش زنی کے ذمہ دار اکثریتی ہندو برادری کے افراد کو بچانے کے باعث خود کو بدنام بھی کیا ہے۔


کپل مشرا کو سزا سے بری کر دینا

میں انصاف کی ناکامیوں کی اس داستان کو کپل مشرا پر واپس لا کر ختم کر رہا ہوں، جس کے بارے میں میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اُن کی نفرت انگیز تقریر وہ چنگاری تھی جس نے فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکایا۔ فروری 2023 میں، ایک سینئر پولیس افسر کی موجودگی میں، اس ایم ایل اے نے دہلی پولیس کو سڑکوں سے سی اے اے مخالف مظاہرین کو ہٹانے کا الٹی میٹم دیا اور دھمکی دی کہ اگر پولیس نے ایسا نہ کیا تو وہ اور اس کے حامی خود معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے  لیں گے۔

جب تشدد ابھی بھی بھڑک رہا تھا، جسٹس ایس مرلی دھر اور تلونت سنگھ پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے تین دن بعد میری ارجنٹ پٹیشن پر سماعت کی، جس میں مشرا اور دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جن کی ہیٹ اسپیچ کی وجہ سے تشدد بھڑکا تھا۔ جسٹس ایس مرلی دھر نے عدالت میں مشرا اور بی جے پی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے ہیٹ اسپیچ والے ویڈیو چلانے کا حکم دیا۔

دو رکنی بنچ نے پایا کہ اُن کے بیان ’ہیٹ اسپیچ‘ سے بھرے ہوئے تھے اور دہلی پولیس سے اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی زور دار اپیل کی۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ’مناسب وقت‘ کا تعین کرے گی۔


جسٹس مرلی دھر نے کپل مشرا کے بیان کے سلسلے میں اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر دہلی پولیس کو 24 گھنٹوں میں فیصلہ لینے کی ہدایت دی۔ لیکن اسی رات جسٹس مرلی دھر کو فوراً اپنا چارج کسی اور کو سونپنے کی ہدایت دی گئی۔


سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے کہا کہ کپل مشرا کے معاملے میں پولیس کی جانب سے کیس درج نہ کرنا سلیکٹو ایمنسٹی یعنی’منتخب معافی‘ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ کسی سنگین جرم کی اطلاع ملنے پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔ جئے سنگھ نے کہا، ’یہ ایسے ہے جیسے آپ نے تفتیش شروع بھی نہ کی ہو اور کسی کو معافی دے دی جائے۔ آپ اسے منتخب معافی یا سزا سے چھوٹ کہہ سکتے ہیں۔‘

شمال-مشرقی دہلی سے تعلق رکھنے والے محمد الیاس نے بھی فسادات میں کپل مشرا کے کردار کی جانچ کے لیے مجسٹریٹ سے رجوع کیا۔ دہلی پولیس نے عدالت میں مشرا کا مضبوطی سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بڑی سازش کے مقدمے میں اُن کی پہلے ہی ’تحقیقات‘ ہو چکی ہیں اور فسادات بھڑکانے میں اُن کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا۔ پولیس یہیں نہیں رکی بلکہ مزید الزام لگایا کہ مشرا کا نام لینے کی کوششیں اُنہیں بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی ’جھوٹی پروپیگنڈا‘ مہم کا حصہ  تھیں۔

عدالتی آزادی کی غیر معمولی مثال قائم کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے ان دونوں دعووں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران مشرا کی زبان میں فرقہ وارانہ رنگ دیکھا۔ مشرا مسلمانوں کو ’وہ‘ اور ’اس طرف‘ کہہ رہے تھے، جو فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں، مشرا نے خود عدالت میں تسلیم کیا کہ جب انہوں نے اپنی متنازعہ تقریر کی، توان کے ساتھ  مظاہرے کی جگہ پر اُن کے ساتھ 50-60 حامیوں کا ایک گروپ موجود تھا، اور یہ ایک سنگین جرم تھا۔

بی جے پی رہنما کپل مشرا 23 فروری 2020 کو جعفرآباد میں حامیوں سے خطاب کر تے ہوئے۔ (فوٹو بہ شکریہ: ایکس)

انہوں نے اعتراف کیا کہ اپنی تقریر میں انہوں نے ’جگہ خالی کروانے‘ کی عوامی اپیل کی تھی۔ جج نے یہ بھی کہا کہ جب مشرا نے تقریر کی، تو ڈی سی پی وید پرکاش سوریہ موقع پر موجود تھے، لیکن اُن کی جانچ نہیں کی گئی۔

تاہم، اپنےضمیر کی آواز سننے والے جج کے شاندار فیصلے کے باوجود قانون کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا تھا۔ دہلی پولیس نے ایڈیشنل سیشنز جج کاویری باویجا کی عدالت میں اس حکم کو چیلنج کیا، جنہوں نے مزید تفتیش پر روک لگا دی۔ قانونی ماہرین نے فرنٹ لائن کو بتایا کہ جج باویجا کا یہ حکم بہت ہی عجیب تھا، شاید غیر قانونی بھی، کیونکہ عدالتیں شاذ و نادر ہی جاری تفتیش پر پابندی عائد کرتی ہیں۔


چھ برس گزر جانے کے باوجود کپل مشرا کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ایف آئی آر درج کرنے کا ’مناسب وقت‘ اب تک نہیں آیا۔ دہلی ہائی کورٹ میں مشرا کے خلاف ایف آئی آر کے مطالبے پر مبنی میری درخواست کی سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے بھی اسی ’مناسب وقت‘ کا حوالہ دیا تھا۔

اس کے برعکس دہلی پولیس نے انسدادِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا، جس میں 18 کارکنوں اور طلبہ رہنماؤں پر سازش رچنے کا الزام لگایا گیا، جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔ جس کے بارے میں میں نے اوپر ذکر کیا تھا کہ اس ایف آئی آر کا مقصد شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والی پُرامن تحریک کو حکومت گرانے کی سازش کے طور پر پیش کرنا تھا۔


یہ لوگ ایک ایسے قانون کے خلاف تقاریر کر رہے تھے جسے ملک بھر میں بہت سے لوگ آئین کی دفعات کی خلاف ورزی سمجھتے تھے۔ وہ نفرت انگیز تقاریر نہیں تھیں۔ اسی دوران کپل مشرا 2025 میں دہلی انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے، اور انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا۔ وہ بھی قانون و انصاف کے وزیر کے طور پر۔

جب تاریخ دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کو دیکھے گی

سپریم کورٹ کے ایک معروف ریٹائرڈ جج مدن لوکور نے بی بی سی ہندی سے کہا، ‘اگر استغاثہ (بے گناہ) لوگوں کو صرف اس لیے جیل میں ڈالتا ہے کہ اس کے پاس ایسا کرنے کی طاقت ہے، تو اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر جیل بھیجنا غلط یا غیر ضروری پایا جاتا ہے — لوگ ضمانت ملنے سے پہلے کئی سال جیل میں رہتے ہیں — تو انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔’

اتنے سارے لوگوں کے بری ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ استغاثہ اور پولیس کو ‘بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ انہوں نے پانچ سال میں کیا حاصل کیا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘اگر گرفتاری غیر قانونی یا غیر ضروری پائی جاتی ہے تو استغاثہ کی بھی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔’

جج کو یہ کہنا ضروری لگا کہ ‘جب تاریخ دہلی کے فسادات کو دیکھے گی تو ایک بات جو (لوگوں کے ضمیر کو) چبھے گی، وہ یہ ہے کہ دہلی پولیس نے فسادات کے جرائم کی صحیح طریقے سے تفتیش نہیں کی۔ یہ ناکامی یقینی طور پر جمہوریت کے محافظوں کو پریشان کرے گی۔’

قومی دارالحکومت میں ہزاروں مزدور خاندانوں کی زندگی، روزی روٹی، گھر، سماجی رشتے اور اعتماد کو تباہ کرنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے چھ سال بعد بھی حکومت واضح طور پر، بے شرمی سے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور کسی طرح  کی کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

(ہرش مندر سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔)

ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔