گزشتہ16نومبر کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر میں بن بھولپورہ علاقے میں ایک مندر کے پاس سے نومولود بچھڑے کی لاش کے کچھ حصے ملے تھے، جس کے بعد یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کی توہین کے لیے ایسا کیا ہے۔ وہیں،سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آوارہ کتا مندر کے قریب یہ سب چھوڑ گیا تھا۔

ہلدوانی میں ایک مسلم ملکیتی کاروبار پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ (تصویر: ویڈیو سے اسکرین گریب)
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہرمیں 16 نومبر کو اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب مقامی ہندوؤں نے بن بھولپورہ علاقے میں اجالیشور مندر کے قریب ایک نوزائیدہ بچھڑے کے حصے پڑے پائے۔ اگلے ہی دن سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کی توہین کے لیے بچھڑے کو مارا ہے۔
پولیس نے فوراً مقدمہ درج کر تے ہوئے امن برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن چند گھنٹوں کے اندر ہی ہندوتوا تنظیموں اور بی جے پی کے مقامی لیڈر وپن پانڈے نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات پھیلا کر ہندوؤں سے ‘جواب دینے’ کی اپیل کی۔
کیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق پانڈے نے لکھا تھا، ‘تمام سناتنی ایک ہوں، آج رات مت سونا’۔ اسی دوران ایک اور ہندوتوا کارکن یتن پانڈے نے لکھا،’وہ شہر جلا سکتے ہیں، گائے کاٹ سکتے ہیں، لیکن اگر ہندو بولے تو ماحول بگڑ جاتا ہے۔ جاگو ہندوؤں۔’
وپن پانڈے کو اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں 20 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا، لیکن 23 نومبر کو انہیں ضمانت مل گئی۔ اس سے قبل وہ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے کئی الزامات کا سامنا کر چکے ہیں ۔
دریں اثنا، ایک ہندوتواانفلوئنسر نے مبینہ طور پر؛گئو کشی کو مقامی شمع ڈیلکس ہوٹل سے جوڑ دیا، جس کی ملکیت امیر حمزہ نامی ایک مسلمان تاجر کے پاس ہے۔ حمزہ شہر میں نان ویجیٹیرین کھانے کے مشہور ریستوراں شمع کے مالک بھی ہیں ۔
امیر حمزہ نے دی وائر کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر بھڑکانے کے بعد ہندوتوا کے حامیوں نے ان کے نئے ریستوراں پر پتھراؤ کیا اور باہر کھڑی موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچایا۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اب تک سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 50 دیگر پر فساد بھڑکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
حمزہ نے کہا، ‘میں انتظامیہ کا فوری ایکشن لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، لیکن میری املاک کو پہنچنے والے نقصان اور میری ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا کیا ہوگا؟ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔’
دی وائر کو موصولہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ایک آوارہ کتا ایک بچھڑے کی باقیات کو مندر کے قریب چھوڑ گیا تھا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم) جگدیش چندر نے بھی میڈیا کو اس بات کی تصدیق کی ۔ حمزہ نے کہا،’بغیر کسی ثبوت کے، تحقیقات کا انتظار کیے بغیر لوگوں نے مجھ قصوروار بنا دیا۔’
شہری حقوق کی تنظیم اے پی سی آر کے ساتھ وابستہ شاداب عالم نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں گئو رکشاکے نام پر تشدد کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ رام نگر میں ناصر نامی مسلم نوجوان کو گائے کا گوشت لے جانے کے شبہ میں بری طرح پیٹا گیا تھا جو بعد میں بھینس کا گوشت ثابت ہوا۔
عالم نے کہا،’ہم نے عدالت سے رجوع کیا اور گئو رکشکوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے سخت رویہ اختیار کیا اور ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔’
رام نگر میں ناصر پر حملے سے پہلے مقامی بی جے پی لیڈر اور سابق سٹی صدر مدن جوشی نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ گائے کا گوشت اسمگل کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے تشدد کو نہ صرف لائیو اسٹریم کیا بلکہ صورتحال کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش بھی کی۔
دوسری جانب ناصر کے اہل خانہ نے پولیس پر سستی اور جانبداری کا الزام عائد کیا تھا۔
عام طور پر پرامن شہر ہلدوانی گزشتہ دو سالوں سے کشیدگی کی حالت میں ہے، جس کی بنیادی وجہ بن بھولپورہ علاقے میں مسلسل ‘تجاوزات’ کو ہٹانے کے لیے مسمار کیے جانے کا خطرہ ہے۔
جنوری 2024 میں انتظامیہ کی طرف سے مسمار کرنے کی مہم کے خلاف مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں چھ مسلمانوں کی موت ہوگئی تھی۔
عالم نے کہا،’گزشتہ چند ہفتوں میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی شدت میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ دونوں طرف کچھ لوگ ہیں جو اپنی اپنی برادریوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ دوسری کمیونٹی میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں… کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ شہر میں فرقہ وارانہ آگ کو بھڑکا سکتا ہے۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔