ایلگار پریشد: گرفتاری کے تقریباً ساڑھے پانچ سال بعد ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کو ملی ضمانت

03:15 PM Jan 24, 2026 | سکنیا شانتا

بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیے گئے کلچرل ایکٹوسٹ ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کو ضمانت دے دی۔ دونوں 2020 سے ممبئی کی تلوجا جیل میں ہیں۔ اس رہائی کے حکم کے بعد اب گرفتار کیے گئے 16 لوگوں میں سے صرف انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ ہی جیل میں رہ گئے ہیں۔

فائل فوٹو: ساگر گورکھے اور رمیش گائچور۔ (تصویر: جاوید اقبال)

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ (23 جنوری) کوکلچرل ایکٹوسٹ ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کو ضمانت دے دی، جنہیں 2018 کے ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گورکھے اور گائچور دونوں کو 2 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت  سے وہ جیل میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس ایس سی چندک کی ڈویژن بنچ نے ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت کے فروری 2022 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی درخواستوں پر ضمانت منظور کی۔

ایلگار پریشد معاملے میں مختلف اوقات میں گرفتار کیے گئے 16 لوگوں میں گورکھے اور گائچور شامل ہیں۔ ان میں سے جھارکھنڈ کے 84 سالہ پادری اور قبائلی حقوق کے کارکن فادر اسٹین سوامی کی جولائی 2021 میں حراست میں  موت ہو گئی۔ ان کے وکلاء اور حامیوں نے جیل حکام پر طبی غفلت کا الزام لگایا ہے۔

گرفتار ہونے والے دیگر افراد میں ممتاز وکیل، کارکن اور ماہرین تعلیم شامل تھے، جنہیں ریاستی پولیس اور بعد میں این آئی اےنے ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کا ممبر بتایا ہے۔

ان میں 10 ملزمین – ورورا راؤ، سدھا بھاردواج، آنند تیلتمبڑے، ورن گونسالویس، ارون فریرا، شوما سین، گوتم نولکھا، سدھیر دھاولے اور رونا ولسن کو ضمانت مل  چکی  ہے اور وہ رہا ہو چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے نومبر 2025 میں جیوتی جگتاپ کو عبوری ضمانت دی۔ ملزم مہیش راوت کو بھی سپریم کورٹ نے چھ ہفتوں کی میڈیکل ضمانت پر رہا کیا تھا، جسے بعد میں بڑھا دیا گیا تھا۔

معلوم ہوکہ دونوں کلچرل ایکٹوسٹ کی رہائی کےفیصلے بعداب گرفتار کیے گئے 16 افراد میں صرف انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ ہی جیل میں رہ گئے ہیں۔ اس معاملے میں گاڈلنگ کو جون 2018 میں سب سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ جیل میں ہیں۔

معلوم ہو کہ دہلی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہینی بابو کو گزشتہ ماہ ہی ضمانت ملی تھی۔

ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کی ضمانت کے احکامات سے متعلق تفصیلی دستاویز عدالت نے ابھی دستیاب نہیں کرائے ہیں۔ان دونوں کارکنوں کی نمائندگی سینئر وکیل مہر دیسائی نے کی تھی۔

تاہم، دونوں کو ایک ایک لاکھ روپے کا ضمانتی بانڈ جمع کرانا ہوگا اور ہر ماہ کے پہلے سوموار کو ضمانت دارکے ساتھ این آئی اے کے ممبئی دفتر میں حاضر ہونا ہوگا۔

ایف آئی آر میں ملزم کے طور پر نامزد ہونے کے باوجود گورکھے اور گائچور کو دیگر ملزمان کے دو سال بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں مہاراشٹر میں ذات پات کے خلاف مہم میں شامل ایک ثقافتی گروپ کبیر کلا منچ سے وابستہ رہے ہیں۔

سال2011میں اس وقت کی کانگریس کی قیادت والی حکومت نے اس تنظیم پر ریاست میں ممنوعہ نکسلی تحریک کا مکھوٹا ہونے کا الزام لگایا تھا۔ تب سے کبیر کلا منچ سے کسی بھی تعلق کو قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی مانتے ہیں۔

گورکھے اور گائچور دونوں پہلے بھی جیل جا چکے ہیں اور ان کے خلاف ایک پرانا مقدمہ ابھی تک زیر التوا ہے۔

ایلگار پریشد کیس میں، جسے ابتدائی طور پر پونے کی مقامی پولیس  سنبھال رہی تھی اور بعد میں این آئی اے نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ، ان دونوں اور دیگر پر ‘اربن نکسل’ ہونے کا الزام لگایا ۔

قبل ازیں، ان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت نے ایلگار پریشد تقریب میں ملزمین کے مبینہ کردار اور ممنوعہ تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں این آئی اے کے دعووں کو قبول کر لیا تھا۔ ان پر سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں۔

غورطلب ہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو غیر منصفانہ طریقے سے گرفتار کرنے اور طویل عرصے تک جیل میں رکھنے کے لیے عالمی تنقید کا سامنا  کرنا پڑاہے۔

حالاں کہ، این آئی اےنے اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے، لیکن ابھی تک مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی ہے – یہ اس ملک میں یو اے پی اےکے معاملوں کی سست رفتاری کی ایک اور مثال ہے۔ ایسے معاملات میں قانونی عمل کا مطلب ہمیشہ سزا ہی ہوتا ہے۔

اس معاملے میں این آئی اے نے ابھی تک الکٹرانک ثبوت بھی ملزمین کے حوالے نہیں کیا ہے،، جنہیں وہ  اہم بتا رہی ہے۔ ابھی تک الزامات طے نہیں کیے گئے ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔