رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، بلکہ اسے خود سے ملوایا ۔ اس رات ان کا جسم چلاگیا، لیکن ان کی نظرابھی بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی لرزتی انگلیوں میں۔

جنوری 1992 کی ایک صبح، پرانی دہلی کی فتح پوری مسجد کے قریب ایک منظر کو قید کرتے ہوئے رگھو رائے۔ (تصویر: پی ٹی آئی فائل/گُریندر اوسان)
رات کے تین بجے جب مجھے معلوم ہوا کہ عظیم فوٹوگرافر رگھو رائے چلے گئے، تو میرے لیے صبح ویسی نہیں ہوئی جیسی عام طور پر ہوتی ہے۔ صبح نے جیسے روشنی دی، مگر بصیرت نہیں دی۔ وہ روشنی، جو کھڑکی سے اندر آتی ہے، دیوار پر سرکتی ہے، میز پر رکھے کیمرے کے سرد جسم کو چھوتی ہے اور پھر بھی کچھ ان کہی سی چھوڑ جاتی ہے۔ ہندوستان کے عظیم ترین فوٹوگرافروں میں شمار ہونے والے رگھو رائے کا 26 اپریل 2026 کو دہلی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا، وہ 83 برس کے تھے۔
وہ کینسر سے لڑ رہے تھے۔ لیکن کسی فنکار کی موت صرف میڈیکل بلیٹن میں نہیں ہوتی۔ وہ اُن فریموں میں آہستہ آہستہ پھیلتی ہے جو اُس نے کبھی تخلیق کیے تھے، ان چہروں میں جو اُس نے دنیا کے سامنے پہلی بار اس طرح پیش کیے کہ وہ اپنے زمانے سے بڑے محسوس ہونے لگے۔
میرے لیے رگھو رائے محض ایک عوامی شخصیت نہیں تھے۔ وہ میرے استاد تھے۔ اور یہاں ’استاد‘کا لفظ کسی رسمی، پیتل کی تختی جیسی عقیدت نہیں، بلکہ اس ملائم، ہنستی ہوئی، ڈانٹتی، کندھے پر ہاتھ رکھتی موجودگی میں ہے، جس کے اندر آپ اپنے پیشے سے پہلے انسان ہونا سیکھتے ہیں۔ مجھے ان کے بارے میں پہلی بار میرے والد نے بتایا تھا۔ والد نے کہا تھا کہ یہ آدمی صرف تصویریں نہیں کھینچتا؛ یہ ان لوگوں کے اندر پہنچ جاتا ہے جن کے سامنے لوگ یا تو بہت جھک جاتے ہیں یا بہت دور کھڑے رہتے ہیں۔ اس وقت مجھے لگا تھا کہ یہ تعریف ہے۔ بعد میں سمجھ آیا-یہ ان کی فطرت تھی۔
رگھو رائے کیمرہ اٹھانے سے پہلے ہی اپنی شخصیت کے ذریعے فاصلوں کو مٹا دیتے تھے۔ جب وہ کسی کمرے میں داخل ہوتے، تو وہاں کی رسمی فضا خود بخود ختم ہو جاتی تھی۔کوئی لیڈر ہو، سنت ہو، سپاہی ہو، فنکار ہو یا کوئی گمنام بچہ-ان کی نگاہ سب کو برابری کی جگہ پر رکھتی تھی۔ شاید اسی برابری سے عظیم تصویریں جنم لیتی ہیں۔
ان سے میری پہلی ملاقات رگھو رائے سینٹر فار فوٹوگرافی میں ہوئی، جہاں میں نے پی جی ڈپلومہ کے لیے داخلہ لیا تھا۔ آج بھی وہ منظر اتنا واضح ہے جیسے کسی پرانے نیگیٹو کو دھوپ میں اٹھا کر دیکھ رہا ہوں-لمبا قد، کشمیری پھیرن، لال مفلر، ٹوپی، ہاتھ میں کیمرہ، چہرے پر مستقل مسکراہٹ اور ہر کسی کو ’بچے…‘ کہہ کر پکارنے والی اپنائیت۔ اس میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ وہ واقعی ہمیں بچوں کی طرح دیکھتے تھے۔ادھورے، متجسس، جلدی غلطی کرنے والے، جلدی حیران ہو جانے والے اور شاید اسی لیے ابھی بھی بچائے جا سکنے والے۔
گروگرام کے بلیاواس گاؤں میں ان کا وسیع و خوبصورت فارم ہاؤس، جہاں ادارہ چلتا تھا، میرے لیے صرف کلاس روم نہیں تھا؛ وہ ایک زندہ البم تھا۔ وہاں ہوا بھی جیسے فریم بناتی تھی۔ درختوں کے سائے، مٹی کی خوشبو، دور سے آتی آوازیں، اور بیچ میں بیٹھے رگھو رائے، جو کبھی دلائی لاما کی بات کرتے، کبھی سیم مانیک شا کی، کبھی اندرا گاندھی کی، کبھی جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی،کبھی ستیہ جیت رے کی۔ اُن کے لیے یہ ’سیلیبرٹی‘ نہیں تھے۔یہ انسان تھے، اپنی بے چینیوں، خاموشیوں، اقتدار، عدم تحفظ، ہمدردی اور وقار کے ساتھ۔ وہ قصہ سناتے ہوئے بھی فوٹوگرافی سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تصویر لینے سے پہلے انسان کو پڑھنا پڑتا ہے؛ اور انسان کو پڑھنے سے پہلے خود کو تھوڑا خالی کرنا پڑتا ہے۔
رگھو رائے ان کمیاب ہندوستانی فوٹوگرافروں میں تھے جنہیں میگنم فوٹوز جیسی عالمی شہرت یافتہ تنظیم سے وابستہ ہونے کا موقع ملا۔ انہیں ہنری کارٹیئر -بریسن نے نامزد کیا تھا-یہ بات بذات خود ایک تاریخ ہے۔ لیکن رگھو سر کی عظمت اس میں نہیں تھی کہ وہ میگنم تک پہنچے؛ عظمت اس بات میں تھی کہ میگنم ان کے اندر پہلے سے تھا؛ وہ فیصلہ کن لمحہ، وہ بے چین انتظار، وہ آنکھ جو منظر کو محض قید نہیں کرتی بلکہ اسے اس کی تقدیر تک پہنچاتی ہے۔
وہ عمر کے اس پڑاؤ پر بھی نہیں رکے جہاں اکثر لوگ اپنے اعزازات کی الماری صاف کرتے ہیں اور یادوں کی دھوپ سینکتے ہیں۔ اُن کے ہاتھ میں ہمیشہ کیمرہ رہتا۔ کوئی فریم انہیں پسند آتا تو وہ اسے قید کرنے میں ہچکچاتے نہیں تھے۔ وہ اتنے بڑے تھے کہ آرام کر سکتے تھے اور اتنے بے چین کہ آرام انہیں زیب نہیں دیتا تھا۔ یہی بے چینی ان کی خوبصورت تھی۔
وہ ہمیں سکھاتے تھے کہ فوٹوگرافی کیمرہ رکھنے کا نہیں، مسلسل موجود رہنے کا نام ہے۔ اس لمحے کے لیے موجود ہونا، جو اچانک آئے گا اور بغیر معافی مانگے چلا جائے گا۔ وہ لمحہ جو پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اسی لمحے میں فوٹوگرافی کا وہ عہد ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ بھوپال گیس سانحہ کی ان کی تصویریں محض دستاویز نہیں ہیں؛ وہ تاریخ کی آنکھ میں چبھتے ہوئے شیشے ہیں۔ اس نامعلوم بچے کی تدفین، وہ چہرہ، وہ مٹی، وہ بے بس انسانیت،وہاں فوٹو جرنلزم اپنے سب سے سخت اور سب سے دردناک روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔
رگھو رائے نے ہندوستان کو صرف سجایا نہیں؛ انہوں نے ہندوستان کو اُس کے زخموں سمیت دیکھا۔ انہوں نے سیاست کو دیکھا، روحانیت کو دیکھا، سڑک کو دیکھا، غم کو دیکھا، جشن کو دیکھا۔ اور سب سے بڑی بات، انہوں نے دیکھنے کو کبھی تماشا نہیں بننے دیا۔
وہ مدر ٹریساکے ساتھ طویل عرصے تک وابستہ رہے اور ان کے آفیشیل فوٹوگرافر بھی رہے۔ لیکن انہوں نے ہمدردی کے جذبے کو مذہبی پوسٹر میں تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے ہمدردی کو اُس کی محنت، تھکن، ہاتھوں، جھریوں اور خاموشی میں قید کیا۔ یہی رگھو رائے کا جادو تھا؛ وہ کسی بڑے استعارے کو بھی دوبارہ انسان میں بدل دیتے تھے۔

وہ ہمیں سکھاتے تھے کہ فوٹوگرافی کیمرہ رکھنے کا نہیں، مسلسل موجود رہنے کا نام ہے۔ اُس لمحے کے لیے موجود ہونا، جو اچانک آئے گا اور بغیر معافی مانگے چلا جائے گا۔(فوٹو : مردل ویبھو)
اُن سے سوال پوچھنا آسان تھا۔ یہ بات سننے میں معمولی لگ سکتی ہے، لیکن عظیم لوگوں کی دنیا میں یہ ایک غیر معمولی صفت ہے۔ اُن سے کچھ بھی پوچھیے—فریم، روشنی، کیپشن، فاصلہ، رفتار، ایڈیٹنگ، رنگ، بلیک اینڈ وہائٹ—وہ جواب ایسے دیتے جیسے اُس وقت دنیا میں صرف آپ ہی ہوں۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں نے اُن سے پوچھا تھا: ’کیپشن کیوں ضروری ہے؟‘ انہوں نےایم ایف حسین کی ایک کہانی سنائی-ایک خالی کینوس، ایک سرخ لکیر، اور پھر ایک کیپشن جس نے پوری پینٹنگ کا مفہوم بدل دیا۔ اُس دن سمجھ آیا کہ امیج صرف منظر نہیں ہوتا؛ وہ ایک کائنات ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی اُس کائنات کا در کھولنے کے لیے ایک لفظ، ایک جملہ، ایک عنوان ہی کافی ہوتا ہے۔
وہ ہمیں اوپر سے نہیں دیکھتے تھے۔ وہ گلے ملتے تھے، ہنستے تھے، کبھی ٹوکتے تھے، کبھی کہتے:’بچے، تھوڑا اور دیکھو۔‘ یہ’تھوڑا اور دیکھو‘اُن کے درس وتدریس کی سب سے بڑی کلید تھی۔
ہم اکثر عجلت میں فوٹو لے لیتے ہیں، لیکن وہ ہمیں ٹھہرنا سکھاتے تھے۔ وہ کہتے نہیں تھے، مگر اُن کی پوری شخصیت یہ کہتی تھی۔ پہلے دیکھو، پھر دیکھو، پھر اس دیکھنے کو بھول جاؤ، اور پھر اچانک وہ تصویر آئے گی جو تمہاری نہیں، بلکہ منظر کی اپنی ہوگی۔
ان کی دوستی دنیا کے بڑے فوٹوگرافروں سے تھی۔ سباستیاؤ سالگادو، اینسل ایڈمز، اسٹیو میک کری جیسے ناموں کا ذکر وہ ایسے کرتے تھے جیسے کسی پرانے ساتھی کی بات کر رہے ہوں، نہ کہ کسی عجائب گھر کی مورتی کی۔ وہ ہمیں سمجھاتے تھے کہ عظمت ناموں میں نہیں، مشق میں ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں ان کا کام نمائش کے لیے پیش ہوا؛ فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، امریکہ؛ مگر وہ نئی ٹکنالوجی، نئے کیمرے، نئی نسل اور نئے تجربات کے لیے ہمیشہ کھلے رہے۔ فلم کیمرے کے دور سے آنے والے شخص کا ڈیجیٹل دنیا کو اس آسانی سے قبول کرنا ہمیں بتاتا تھا کہ وہ ماضی پرست نہیں تھے؛ وہ صاحب بصیرت فن کار تھے۔

پاکستان کے ایک دورے پر رگھو رائے۔ (فوٹو: سعید نقوی)
میری اپنی زندگی میں ان کا اثر فیصلہ کن رہا۔ میں وائلڈ لائف کی فوٹوگرافی تک محدود تھا۔ جنگل، پرندے، جانور، حرکت، انتظار— یہی میری دنیا تھی۔ رگھو سر اور نتن رائے نے مجھے سمجھایا کہ بہتر فوٹوگرافر بننے کے لیے ہر اسلوب کو سمجھنا ضروری ہے۔ انسان کو دیکھے بغیر فطرت بھی ادھوری ہے۔ سڑک کو دیکھے بغیر جنگل بھی تنہا ہو جاتا ہے۔
پورٹریٹ، لینڈ اسکیپ، ڈاکیومنٹری، اسٹریٹ— سب ایک دوسرے کے اندر بہتے ہیں۔ فوٹوگرافی اصناف کا عجائب گھر نہیں، بصیرت کا بہاؤ ہے۔
پھر کھجیار کا سفر آیا۔ وہاں میں نے پہلی بار ان کی طرح دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش مضحکہ خیز بھی ہو سکتی تھی؛ کون رگھو رائے کی طرح دیکھ سکتا ہے؟ لیکن استاد کی نقل کرنے کا مطلب ان جیسا بننا نہیں ہوتا؛ ان کے بتائے ہوئے راستے پر اپنی آنکھوں کی چال پہچاننا ہوتا ہے۔ جب واپس آ کر انہوں نے میری تصویروں کو سراہا اور ان میں سے ایک فریم اس سال کا بہترین فریم بنا تو وہ میرے لیے انعام نہیں تھا۔ وہ ان کے اعتماد کی مہر تھی۔
شاگرد کی زندگی میں کچھ جملے ڈگری سے بڑے ہوتے ہیں۔ اے آئی آئی ایف اے سی ایس، دہلی میں ہماری آخری نمائش لگی تھی۔ رگھو سر نے میرے ہاتھ میں ڈگری تھماتے ہوئے کہا، ’یہ لڑکا جب آیا تھا تو بہت آہستہ چلتا تھا… پھر تیز چلنے لگا، پھر دوڑا… اور اب اڑان بھرنے لگا ہے۔‘
آج بھی یہ جملہ میرے اندر کسی دیے کی طرح جلتا ہے۔ انہوں نے صرف میری تصویر نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے میری رفتار دیکھی تھی۔ شاید یہی استاد ہوتا ہے— جو آپ کے فریم سے پہلے آپ کی رفتار پہچان لے۔ آج جب وہ نہیں ہیں، تو یہ کہنا آسان ہے کہ ایک عظیم شخصیت چلی گئی۔ مگر سچ یہ ہے کہ عظیم لوگ جاتے نہیں؛ وہ ہماری دیکھنے کی عادتوں میں بس جاتے ہیں۔ اب جب بھی کیمرا اٹھے گا، جب بھی کوئی چہرہ سامنے آئے گا، جب بھی روشنی کسی چیز پر چند سیکنڈ کے لیے ٹھہرے گی، جب بھی کوئی منظر کہے گا کہ ابھی مت جاؤ؛ وہاں کہیں رگھو رائے ہوں گے۔ ان کی مسکراہٹ ہوگی، ان کا’بچے…‘ ہوگا، ان کا لال مفلر ہوگا، اور وہ ان کہی ہدایت ہوگی—’تھوڑا اور دیکھو۔‘
رگھو رائے صرف ایک نام نہیں تھے۔ وہ ایک بصیرت تھے۔ ایک احساس تھے۔ ایک دبستان تھے۔ ایک ایسی آنکھ تھے جس نے ہندوستان کو صرف دیکھا نہیں، ہندوستان کو خود سے ملوایا۔ اس رات تین بجے ان کا جسم چلا گیا، مگر ان کی نظر اب بھی اس ملک کی صبحوں میں گھوم رہی ہے۔ کیمروں کے سرد سیاہ بدن میں، پرانی کانٹیکٹ شیٹس میں، نمائش کی دیواروں پر، اور ہم جیسے شاگردوں کی کانپتی ہوئی انگلیوں میں۔
ایک عظیم شخصیت چلی گئی ہے۔ مگر اس نے جو دنیا کو دیکھنے کا ہنر ہمیں دیا، وہ نہیں جائے گا۔ کیونکہ کچھ لوگ مرنے کے بعد یاد بن جاتے ہیں؛ رگھو رائے مرنے کے بعد بھی ایک فریم بنے رہیں گے— ادھورے نہیں، لافانی۔
(مردل ویبھووائلڈ لائف فوٹوگرافر ہیں اور رگھو رائے کے شاگرد رہے ہیں۔)