’جو صحیح لگے، وہ کرو‘ کے علاوہ آرمی چیف کی سنسرکی گئی کتاب سے اٹھتے چار اہم سوال

11:15 AM Feb 05, 2026 | دی وائر اسٹاف

سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی سنسر کی گئی کتاب میں ایک فون کال کے ذکر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کتاب کے مطابق، اس کال میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوج کو سیاسی ہدایت محض یہ تھی کہ ‘جو صحیح لگے، وہ کرو’۔ حالاں کہ اس کے علاوہ بھی کتاب ایسے کئی سوال اٹھاتی ہے، جن کا جواب  دیا جانا ضروری ہے۔

جنرل ایم ایم نرونے کی فائل فوٹو۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونےکی جانب سے اپنی کتاب میں ذکر کیے گئے ایک فون کال کے ارد گرد پارلیامنٹ کے بجٹ اجلاس میں تنازعہ کھڑا ہو گیاہے ۔ کتاب کے مطابق، اس کال میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوج کو سیاسی ہدایات محض’جو صحیح لگے، وہ  کرو’  تک محدود تھی ۔

اس کو لے کر اپوزیشن مودی حکومت پر اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگا رہی ہے اور کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔

دی کارواں میں شائع سابق آرمی چیف کی اب تک سنسر کی گئی  خود نوشت فور اسٹارز آف ڈیسٹینی کی تفصیلات میں اس سے بھی سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔

مئی کے دوسرے ہفتے میں گلوان میں ہوئی بریگیڈ کمانڈروں کی میٹنگ کے بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی(پی ایل اے)نے وہاں ٹینٹ لگا دیے تھے۔اسی گلوان میں  2020 میں میں 20 ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے۔ ہندوستانی فوج کی ناردن کمانڈ اور 14 کارپس نے اسے کوئی بڑا مسئلہ نہیں مانا، لیکن 15 جون 2020 کو انہیں وہاں جا کر اپنے ٹینٹ لگانے کا حکم دیا گیا۔ جنرل نرونے اپنی سنسرکی گئی خود نوشت میں اس پیش رفت سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ وہ اس سے’پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔’ سوال یہ ہے کہ دہلی سے یہ آرڈر کس نے دیے؟

جنرل نرونے یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگست 2020 میں، گلوان میں 20 فوجیوں کی ہلاکت  کے صرف 11 ہفتے بعد، سیاسی قیادت نے ‘پروٹوکول’ کا حوالہ دیتے ہوئے فوج کو پی ایل اے پر فائرنگ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ فوج کے اصرار پر اجازت دی گئی، لیکن سخت پابندیوں کے ساتھ۔ تاہم مودی حکومت نے مسلسل دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مسلح افواج کو سرحدی کارروائیوں کے لیے ’ فری ہینڈ ‘ دیا  ہواہے۔ تو،آخر سچ کیا ہے؟

جب ہندوستان اور چین کے درمیان کارپس کمانڈروں کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وزارت خارجہ نے ملاقاتوں کے منٹس ریکارڈ کرنے کی فوج کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔ اس سے ہندوستان کو چین کو جوابدہ ٹھہرانے کا موقع مل سکتا تھا اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے تھے۔ جنرل نرونے کے اس بیان سے سوال اٹھتا ہے کہ اس وقت سیاسی قیادت کہاں تھی؟

سب سے اہم سوال ڈس- انگیجمنٹ (پیچھے ہٹنے ) کے حوالے سےہے۔ ہندوستان اور چین  کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ نرونے لکھتے ہیں کہ انہوں نے اور ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) نے ایک حل تلاش کیا۔ دونوں فریق  اپنے اپنے حوالہ جات کا تعین کریں اور وہاں سے مساوی دوری تک پیچھے ہٹیں۔ اس سے کسی ایک متنازعہ لائن کو طے کرنے سے بچا جا سکے۔ تاہم، بفر زون قائم کرتے وقت، ہندوستانی فریق نے چینی دعووں کو ترجیح دی، کیونکہ ہندوستان نے ان پوائنٹس سے مساوی دوری تک پیچھے ہٹنے پر اتفاق کیا جہاں تک پی اے ایل  نے مئی 2020 میں دخل اندازی کی تھی۔ اس کے نتیجے میں، زیادہ تر بفر زون ہندوستان کی طرف ہی بنے۔ یہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک معیار بن گیا ہے۔

ہندوستان اور چین سرحد پر جھڑپ کے دوران15 جون 2020 کو 20 ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’نہ  کوئی گھسا تھا،نہ کوئی گھسا ہے‘۔ اس کے بعد گزشتہ برسوں میں ہندوستان کو جن تنازعات کا سامنا رہا  ہے، اس کے برعکس نہ توکوئی پریس کانفرنس ہوئی اور نہ ہی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

قومی سلامتی کے نام پر پارلیامنٹ میں سوالات اور بحثوں کو بھی دبا دیا گیا۔ جبکہ 1962 کی ہندوستان- چین جنگ کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو خود پارلیامنٹ میں سوالوں کے جواب دیتے نظر آتے ہیں ۔

پارلیامنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا۔ حکمران جماعت (بشمول تین وزراء اور سپیکر) نے ہندوستان-چین سرحدی تنازعہ کے دوران سیاسی قیادت کے کردار اور سرحد سے متعلق معاہدوں پر بحث کی اجازت نہیں دی۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن کے آٹھ ارکان کو ایوان سے معطل کر دیا گیا۔ لوک سبھا کے رول 349 کا حوالہ دیتے ہوئے دو دن تک کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا۔

دریں اثنا، 3 فروری کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا ، جس میں کہا گیا کہ انہیں صدر کے خطاب کے دوران ایک ‘غیرمعمولی صورتحال’ میں بولنے سے روکا گیا، جو کہ’پارلیامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار’ ہوا ہے۔ انہوں نے اسے ‘جمہوریت پر ایک دھبہ’قرار دیا۔

گاندھی نے اپنے خط میں لکھا کہ اسپیکر کو حکومت کے دباؤ میں انہیں بولنے سے روکنا پڑا اور قومی سلامتی سے متعلق مسائل پر انہیں بولنے سے روکنے کی ‘جان بوجھ کر کوشش’ کی جا رہی ہے۔