یوپی: پل گرنے سے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ نے سنائی آپ بیتی — ’پوری رات باڈی دبی رہی‘

02:45 PM Jun 02, 2026 | آکانکشا کمار

گزشتہ ہفتے ہمیر پور میں بیتوا ندی  پر زیر تعمیر پل کے گرنے سے چھ مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ خاندانوں نے سائٹ پر کام کرنے کے حالات پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وارننگ کے باوجود مزدوروں سے نائٹ شفٹ میں کام کرنے کو کیوں کہاگیا۔ اس کے علاوہ واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن میں تاخیر کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

مہلوک تیس سالہ گنگاچرن یادو کے اہل خانہ۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

پریاگ راج: ’ہمارےیہاں کوئی میڈیا والا نہیں آیا… گھر پر بھی کوئی ریکارڈنگ  نہیں ہوئی۔‘

یہ باتیں اتر پردیش کے باندا ضلع کے چلہ گاؤں کے رہائشی رام مورت نے کہیں۔ مورت کے 22 سالہ بھتیجے لوکیندر نشاد، ان چھ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، جن کی لاش 29 مئی کو اتر پردیش کے ہمیر پور ضلع میں بیتوا ندی پر ایک زیر تعمیر پل کے گرنے کے بعد برآمد کی گئی تھی۔

لوکیندر کچھ دن پہلے ہی اس سائٹ پر کنسٹرکشن ورکر کے طور پر کام پر لگے تھے۔ وہ پچھلے پانچ سال سے یومیہ اجرت پر مزدوری کر رہے تھے، اور حالیہ دنوں میں انہیں اتر پردیش اسٹیٹ برج کارپوریشن کے پروجیکٹ کے ذریعے کام کے زیادہ موقع ملے تھے۔

اس واقعہ کے اگلے دن دی وائر سے فون پر بات کرتے ہوئے مورت نے کہا،’یہ معاملہ اٹھنا چاہیے۔ ‘

مورت جس معاملے کا ذکر کر رہے تھے، اس میں مہلوکین کے اہل خانہ کے کئی الزام شامل ہیں۔ یہ الزام کام  کرنے کے حالات سے متعلق ہیں، جیسے کنسٹرکشن مزدوروں کو رات کی شفٹ میں کام جاری رکھنے کے لیے کہنا—جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے نے) پورے صوبے میں طوفان کی وارننگ جاری کی تھی۔ اس کے علاوہ واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن میں تاخیر کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 28 اور 29 مئی کی درمیانی شب کو پل گرنے سے جن لوگوں کی جان گئی، ان میں کلدیپ نشاد (چلہ گاؤں، باندہ)، لوکیندر نشاد (چلہ گاؤں، باندہ)، ساونت یادو عرف گنگاچرن یادو (بھورا گڑھ گاؤں، باندہ)، سبھاجیت یادو (بھورا گڑھ گاؤں، باندہ)، پشپندر سنگھ چوہان (سواسہ خورد گاؤں، ہمیر پور) اور راجیش پال (اچھھ پورا گاؤں، ہمیر پور) شامل تھے۔

دی وائر نے باندہ اور ہمیر پور میں تین متاثرہ خاندانوں سے بات کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ شٹرنگ کے کام کے دوران پل کا ایک ستون گرنے کے بعد اصل میں کیا ہوا تھا۔

یہاں شٹرنگ یا فارم ورک کا مطلب ہے لوہے کی سلاخوں اور لکڑی کے ستونوں سے ایک عارضی ڈھانچہ بنانا ہے، جس میں کنکریٹ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ جم کر چھت یا دیوار کی شکل اختیار کر لے۔

’کیا ہوتا اگر ایسا پل پوری طرح بن  ہو چکا ہوتا ؟‘

گزشتہ29 مئی کی صبح تقریباً 5 بجے مورت کو ہمیر پور کے مورا کندر گاؤں میں پل گرنے کی خبر ملی؛ یہ جگہ باندہ کے ان کے اپنے گاؤں چلہ سے تقریباً 260 کلومیٹر دور ہے۔

مورت نے بتایا،’ہمارے گاؤں کا ایک لڑکا کنسٹرکشن سائٹ پر موجود تھا، جب اسے پتہ چلا کہ ملبے میں پھنسے لوگوں میں لوکیش بھی شامل ہے، تو اس نے ہمیں فون کیا۔‘

چار گھنٹے بعد صبح 9 بجے جب مورت اور لوکیندر کے والد رادھے شیام نشاد ہمیر پور پہنچے تو انہیں پہلے جائے حادثہ کے قریب جانے سے روک دیا گیا اور پھر فوراً پوسٹ مارٹم ہاؤس جانے کو کہا گیا۔

مورت سے جب پوچھا گیا کہ 29 مئی کی رات 12:30 سے 1 بجے کے درمیان پل گرنے کے بعد اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم کو ریسکیو شروع کرنے میں کتنا وقت لگا تو انہوں نے کہا،’لاش صبح ہی نکالی جا سکی۔‘

مورت نے بتایا کہ پوری رات لاش ملبے کے نیچے دبی رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اس طرح کا کوئی دردناک واقعہ پیش آتا ہے اور ریسکیو ٹیم اتنی دیر سے پہنچتی ہے تو اس کا کیا فائدہ ہے؟

مورا کاندر گاؤں کے سرپنچ بدلو نشاد ان پہلے لوگوں میں سے تھے جو واقعہ کے بعد مقامی پولیس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔

بدلو نشاد نے دی وائر کو بتایا،’مجھے اور پاس کے لال پورہ تھانے کے انچارج (ایس ایچ او) کو رات تقریباً 1:30 بجے موقع پر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگا، کیونکہ سڑک کی حالت بہت خراب تھی۔ جالون ضلع کی اورئی تحصیل اور کانپور سے ریسکیو ٹیمیں صبح تقریباً 5-6 بجے پہنچیں۔

معلوم ہو کہ اورئی اور کانپور، دونوں ہمیرپور سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر ہیں؛ ان کا فاصلہ 83 کلومیٹر اور 62 کلومیٹر ہے۔

اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور اتر پردیش سے راجیہ سبھا ایم پی  بابورام نشاد کے بھائی بدلو نشاد نے مقامی پولیس ٹیم اور ایس ڈی آر ایف دستے کا دفاع کیا۔

بدلو نشاد نے کہا،’ریسکیو ٹیم نے شروع میں ان لوگوں پر توجہ دی جو ابھی بھی زندہ تھے اور ایک ستون کے اوپر پھنسے ہوئے تھے۔ اس لیے یہ آپریشن صبح 8 بجے تک یعنی تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے بعد لاشیں نکالنے کے لیے کٹر مشینیں لائی گئیں۔ پولیس اور ریسکیو ٹیم دونوں نے قابل تعریف کام کیا ہے۔‘

تاہم متاثرین اس بات سے متفق نظر نہیں آتے۔

مورت نے کہا،’سیتو نگم کی طرف سے بہت بڑی چوک لگتی ہے، جس کی جانچ ہونی چاہیے۔ آج یہ واقعہ ہوا ہے؛ ذرا سوچیے اگر یہ پل بن چکا ہوتا تو کتنے اور لوگوں کی جان چلی جاتی۔‘

’تاخیر ہونا فطری ہے‘: بی جے پی ایم پی بابورام نشاد

گزشتہ29 مئی کو ہمیرپور کے کرارا پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں کنسٹرکشن کمپنی ایم /ایس دی شیلٹرکے ساتھ ساتھ اس کے مالک وجئے پرتاپ سنگھ اور پروجیکٹ سپروائزر نتیش سچان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 106(1) اور 125(اے)کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

واضح ہو کہ بی این ایس کی دفعہ 106(1) لا پرواہی  کے باعث موت واقع ہونے کی سزا سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 125(اے)ایسے جرم سے متعلق ہے جس سے انسانی جان یا دوسروں کی ذاتی حفاظت کو خطرہ پیدا ہوتا ہو۔

اس ایف آئی آر کی ایک کاپی’دی وائر‘نے دیکھی ہے—اس میں کہا گیا ہے کہ ’ 28-29 مئی کی درمیانی شب کو طوفان اور تیز ہواؤں کے باعث زیر تعمیر ستون پی -5 سے پی -6 گر گئے، جس کے نتیجے میں چھ افراد کی موت ہوگئی۔‘

ایم پی بابورام نشاد نے تاخیر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاخیر’فطری‘ہے کیونکہ’یہ واقعہ رات میں پیش آیا تھا۔‘

بی جے پی ایم پی بابورام نشاد نے فون پر دی وائر کو بتایا،’اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی، اس رات موسم واقعی بہت خراب تھا۔ آپ کو سمجھداری سے سوچنا چاہیے کہ ایس ڈی آر ایف ٹیم تب ہی کارروائی کرے گی جب مقامی انتظامیہ اور ایس ایچ او کی طرف سے انہیں اطلاع دی جائے گی۔ چونکہ یہ واقعہ رات میں پیش آیا تھا، اس لیے تھوڑی تاخیر فطری ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا این ڈی ایم اے کی آندھی طوفان کی وارننگ کے باوجود مزدوروں کا رات کی شفٹ میں کام جاری رکھنا لاپرواہی مانا جائے گا، توایم پی نے کہا،’یہ ایک وقت کی پابندی والا پروجیکٹ تھا اور اس میں رات کی شفٹ میں کام کیا جاتا تھا کیونکہ پل کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنا تھا۔ اس لیے اس کی ذمہ داری اور جوابدہی ٹھیکیدار کی ہے۔‘

ہمیرپور کے ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک گوئل کو کیے گئے فون کا کوئی جواب نہیں ملا۔ دی وائر نے پولیس سپرنٹنڈنٹ مرگانک شیکھر سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن بتایا گیا کہ وہ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔

اس واقعہ کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ دینک بھاسکر نے بتایا ہے کہ ریاستی حکومت نےمہلوکین کے خاندانوں کو 4 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔

’خراب کوالٹی کا مٹیریل استعمال کیا جا رہا تھا

چھتیس سالہ پشپیندر سنگھ 2024 سے پل بنانے والی جگہ پر سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ حادثے والے دن وہ دوسرے مزدوروں کو بچانے کے لیے ایک ہائیڈرا کرین پر چڑھ گئے تھے، اسی دوران ستون کا سارا کنکریٹ مٹیریل ان پر گرگیا۔

ان کے چھوٹے بھائی رویندر سنگھ چوہان نوئیڈا کی ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

رویندر نے دی وائر کو بتایا،’تعمیر میں ناقص مواد استعمال کیا جا رہا تھا۔ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ تیز ہوا اور طوفان کی وجہ سے پل گر سکتا ہے؟‘

ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات کے احکامات کے باوجود رویندر کے ذہن میں اب بھی یہ سوال ہے کہ آنے والے طوفان کی وارننگ کے باوجود سائٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کو کیوں نہیں نکالا گیا۔

رویندر نے کہا،’ اسے (پشپیندر کا ذکر کرتے ہوئے) دوسرے گارڈز کی طرح مناسب حفاظتی کیبن بھی نہیں دیا گیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا،’کمپنی کی طرف سے جو بھی ذمہ دار ہیں، وہ سب موقع سے فرار ہو گئے۔ صرف سکیورٹی گارڈ ہی اس افراتفری میں پھنس گئے۔ یہ کمپنی کی بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر ریسکیو آپریشن رات ہی میں شروع ہو جاتا تو شاید ایک دو اور جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔‘

تیس سالہ گنگا چرن یادو واقعہ سے دو تین دن پہلے ہی کنسٹرکشن سائٹ پر کام کرنے گئے تھے۔

گنگا چرن کے ایک رشتہ دار دیپک یادو نے بتایا،’انہوں نے حال ہی میں کھیتی باڑی کا کام ختم کیا تھا، اس لیے انہیں لگا کہ وہاں جانے سے انہیں کچھ اضافی پیسے کمانے میں مدد ملے گی۔‘

گنگا چرن کے خاندان میں ان کے والدین اور چھوٹا بھائی ہیں۔

سکیورٹی گارڈز سمیت ان میں سے زیادہ تر مزدوروں کو بارہ گھنٹے کی شفٹ کے لیے 9,000-10,000 روپے ماہانہ ملتے تھے۔

مورت نے دی وائر کو بتایا،’اس علاقے میں کوئی اور روزگار نہیں ہے۔ وہ مزدوری کرنے گیا تھا، اس کی زندگی ہی ختم ہو گئی۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔