مودی کا پلواما اور بالاکوٹ پر بیان پہلی نظر میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

04:23 PM Apr 11, 2019 | دی وائر اسٹاف

اس ہفتے مہاراشٹر کے لاتور میں ایک ریلی میں وزیر اعظم مودی نے پہلی بار ووٹ دینے والوں سے کہا تھا کہ کہ کیا آپ کا پہلا ووٹ پلواما کے شہیدوں کے نام ہوسکتا ہے؟

نریندر مودی ، فوٹو : پی ٹی آئی

نئی دہلی : پہلی بار ووٹ دینے جارہے نوجوانوں سے اپنا ووٹ بالاکوٹ ہوائی حملے کو انجام دینے ولے جوانوں اور پلواما کے شہیدوں کے نام پر دینے کی وزیر اعظم مودی کی اپیل سیاسی فائدے کے لیے فوج کا استعمال نہ کرنے والے الیکشن کمیشن کی ہدایت کی خلاف ورزی تھی ۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہ بات عثمان آباد ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن افسر(ڈی ای او) نے مہاراشٹر کے چیف الیکشن افسر(سی ای او) کو بھیجی اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ غور طلب ہے کہالیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کو اپنی جانکاری میں لیا تھا جس میں انہوں نے پہلی بار ووٹ دینے والوں سے کہاتھا کہ اپنا ووٹ ان کو معنون کریں جنہوں نے بالا کوٹ ہوائی حملے کو انجام دیا۔ کمیشن نے مہاراشٹر میں الیکشن افسروں سے رپورٹ طلب کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر کے لاتور میں ایک انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے پہلی بار ووٹ دینے جارہے نوجوانوں سے کہا کہ ، میں اپنے فرسٹ ٹائم  ووٹر سے کہنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کا پہلا ووٹ  پاکستان کے بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائک کرنے والے بہادر جوانوں کے لیے ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے پوچھا ، کیا آپ کا پہلا ووٹ پلواما میں شہید ہوئے بہادر جوانوں کے لیے  ہوسکتا ہے ؟

انہوں نے کہا کہ ،دہشت گردوں کو ان کے کیمپ میں گھس کر مارنا نئے ہندوستان کی پالیسی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، دہشت گردی کو ہراکر ہی ہم دم لیں گے ، یہی ہمارا مقصد ہے۔وزیر اعظم مودی نے کانگریس کے انتخابی منشور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ، یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک سے ہم سیڈیشن کا قانون ختم کریں گے ۔ میں ذرا کانگریس والوں سے کہتا ہوں کہ آئینے  میں جاکر اپنا چہرہ دیکھو ۔ آپ کے منھ سے ہیومن رائٹس کی باتیں اچھی نہیں لگتیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس والوں نے بالا صاحب ٹھاکرے کے ووٹنگ کا اختیار چھین لیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ، کانگریس اور این سی پی آج ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جو جموں وکشمیر میں الگ پی ایم کی طرفداری کر رہے ہیں ۔ این سی پی چیف کو مخاطب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ ، ملک کو کانگریس سے کوئی امید نہیں ہے ، لیکن کیا شرد پوار سے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔

مودی نے کہا ، جو لوگ کشمیر کے لیے الگ پی ایم کی مانگ کرتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہیں جن  پر ملک نے ایک بار بھروسہ کیا تھا ۔ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ کشمیر میں سالوں تک حکومت کرنے والے لوگ اصل میں کس کی خدمت کررہے تھے۔ ان لوگوں کی سوچ اب سب کے سامنے آچکی ہے۔ وزیر اعظم نے انکم ٹیکس کے حالیہ چھاپوں پر کہا کہ کانگریس کے درباریوں کے گھر سے بکسوں میں نوٹ نکل رہے ہیں ۔ یہ لوگ پچھلے 6 مہینے سے بول رہے ہیں کہ چوکیدار چور ہے لیکن نوٹ کہاں سے نکلے ؟اصلی چور کون ہے؟

الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی سیاسی تشہیر کے لئے فوج کا استعمال نہ کریں۔ الیکشن کمیشن کے ذریعے اتوار کو لوک سبھا انتخاب کی تاریخوں کے اعلان  کے ساتھ سے ہی ملک میں ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا تھا۔دہلی وشواس نگر سے ایم ایل اے اوم پرکاش شرما نے ایک مارچ کو فیس بک پر دو پوسٹر شیئر کئے تھے، جس میں ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان، وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر امت شاہ کی تصویریں تھیں۔

ان میں سے ایک پوسٹر میں لکھا تھا، جھک گیا ہے پاکستان۔ لوٹ آیادیش کا ویر جوان۔ اتنے کم وقت میں ابھینندن کی واپسی مودی جی کی حکمت عملی کی  جیت ہے۔